میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا

میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا
میں نہیں مانتا ،میں نہیں جانتا

  


جب سے وطن لوٹا ہوں حبیب جالب صاحب کا "میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا"کئی چہروں اور کئی مہروں سے سنا 150 میں دیوانہ ہو گیا جب میں نے اسے پنجاب کی تاریخ کے پہلے اور آخری خادمِ اعلیٰ کے منہ سے سنا 150 میں بھی اکثر گنگنایا کرتا تھا 150 جب کسی نے پوچھا کہ اس کا شانِ نزول کیا ہے تو جواب دینے سے قاصر تھا 150 نیب کی عدالت میں پیش بڑے میاں صاحب کی وضاحت کے بعد مجھے مفہوم تو بالکل سمجھ آگیا لیکن اب ایک پاکستانی ہوتے ہوئے میں بتاتے ہوئے شرمندہ ہوں 150 جج محمد ارشد صاحب کے سامنے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب کے قومی اسمبلی میں خطاب پر مانگا گیا استثنا اور دی گئی معلومات کا جب سلسلہ ان کے بیٹے کی معلومات پہ ٹوٹا تو وہ طلسم بھی ٹوٹ گیا جس کے سحر میں " میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا " میرے لبوں پہ مچل جایا کرتا تھا 150 ملک پاکستان اور میرے پاکستانی تو جس کو چاہتے ہیں اس کو چاہتوں کے آسمان پہ یوں دیوتا بنا کے بٹھا لیتے ہیں کہ وہ پوجا لائق ہو جاتا ہے ۔ میں بھی سوچتا ہوں کہ کیا میں نے اس شخص کی پرستش کی ہے جو بغیر تحقیق کے اپنے بیٹے کی باتیں اور معلومات اسمبلی کے منتخب نمائندگان و بیس کروڑ عوام کے سامنے لکھ کے یوں بیان کر دیتا ہے کہ اسے نہ اپنے وزیر اعظم کے حلف کا خیال رہتا ہے اور نہ ہی ان ننانوے ناموں کا جن کے سائے میں اسے حاکمیت اعلیٰ کی طرف سے اس منصب پہ فائز کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ ان کے بیٹے کی معلومات میں سے کون کون سی میاں صاحب نے اپنے تین ادوار میں ہم تک پہنچائی ہے اور اب جب استفسار ہوگا تو پھر کہا جائے گا"میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا"

آپ کے زیر حکم ملک کے کئی ادارے رہے ہیں جن کی تحقیقات اور طریقہء تفتیش کا معترف سارا پاکستان ہے لیکن آپ نے تو ان سے بھی مشورہ نہ لیا اور قوم کے سامنے بلند و بانگ دعوے کر دیے کہ آپ یا آپ کا خاندان استثنا نہیں لے گا اور خود کو احتساب کے لئے پیش کرے گا 150 وہی ذرائع جن کے جواب میں کبھی قطری خط لائے گئے تو کبھی مختلف عدالتوں کے جج صاحبان زیرِ عتاب آئے 150 کبھی سفارت خانے میں بیان نہ لینے پہ لے دے ہوئی لیکن اب یہ کیا میاں صاحب 150 کیا آپ بھی اپنی قوم سے حب الوطنی اور بے لوث محبت کا جواب پاکدامنی سے نہیں بلکہ ملکی قانون میں سقم ڈھونڈھ کر تکنیکی بنیادوں پر چاہتے ہیں 150آپ کے وکلا ء اور ان کی فیس کے بارے میں خودآپ نے کہا تھا کہ آپ جیسے صاحب ثروت نے بھی انصاف کے حصول میں گرانی کومحسوس کیا تو ایسے مقدمات کے ماہر یقینا" ان سب قانونی پیچیدگیوں کا جائزہ لے رہے ہوں گے کہ کیسے آپ کے بچوں کو موردِ الزام ٹھہرا کے آپ کو بچا لیا جائے تاکہ آپ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے سرخرو ہوں گے 150 بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں صاحب سبحان اللہ 150 وہ بھی ہر سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ میرے بیٹے کاروبار چلاتے ہیں 150 گرچہ میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا سب سے زیادہ عرصہ کے لئے وزیراعلیٰ رہا ہوں 150 میں ڈینگی لاروے کو پانی کی تہہ سے نکال لینے کے لئے اداروں کو سرگرم رکھنے اور قوم کے درد میں نہ سونے کے ریکارڈ قائم کر چکا ہوں لیکن اپنے کاروبار اور شوگر ملوں کے متعلق " میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا" کے مصداق وہ معصوم ہوں جس سے نیب بلا وجہ تفتیش کر رہی ہے 150

یادرہے اسی نیب نے جب نجی بینک کے مالکان پہ ہاتھ ڈالا تھا تو شریفوں کی پگڑیاں اچھل گئی تھیں 150 وہ ادارہ جو آپ کے ادوار میں آپ کے ہاتھ کی چھڑی اور وہ لاٹھی رہا جس نے سپریم کورٹ میں آپ سے تحقیقات کے جواب میں ہاتھ جوڑ لئے تھے وہ آپ کے دور میں آپ کی طرف کیسے آنکھ اٹھا سکتا تھا 150 میاں صاحب اس کا سربراہ آپ اور زرداری صاحب کی پارٹی سربراہان نے منتخب کیا ہاں وہی نیب جس کے بارے میں زرداری صاحب نے آپ کو بڑا بھائی بنایا تو کہا تھا کہ اس ادارے کو ختم کر دیجیئے لیکن آپ کے پاس ان کو قابو رکھنے کا یہی طریقہ تھا ۔آج لال پیلا ہونے کی بجائے صاحب وہ ذرائع پیش کر دیجیئے جن سے اس ملکی ہیجان کا خاتمہ ہو۔ 

پاکپتن میں محکمہ اوقاف کی زمین ہو یا اسلام آباد کے جنگلات کو کٹوا کر نوازنے کا عمل اس میں بھی ہمیں یقین ہے کہ ایک دن کوئی کہتا نظر آئے گا کہ میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا 150 سابق وزیر ریلوے سعد رفیق صاحب بھی اپنے چھوٹے سے گھر سے محلات اور فیکٹریوں تک کا سفر طے کرتے ہوئے کبھی پرائز بانڈز کے متشکر ہیں تو کبھی ان ذرائع سے لا علم "میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا "کرتے نظر آتے ہیں۔ ابھی تو حکومتی بنچوں پہ بیٹھے کئی لوگ ایسے ہیں کہ جن کے جوابات بھی ان کے وکلا ایسے ہی تیار کر رہے ہیں کہ میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا 150 ایسے میں تو میں سمجھتا ہوں کہ میں نہیں جانتا میں نہیں مانتا کو قومی نعرہ بنا کے سب ہی راہِ فرار حاصل کرتے ہیں 150 عدالتیں بند کر دی جائیں تحقیقی اداروں پہ تالے لگا دیئے جائیں کیوں کہ اگر آپ کا استحقاق ہے تو ہر اس پاکستانی کو بھی یہ حق ہے کہ وہ ببانگ دہل کہے" میں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتا " اور جب یہ کہا جائے تو ملکی تھانہ سسٹم میں اس کی پیٹھ پر "پانجہ" فٹ نہ کیا جائے بلکہ اسے چوم کے رہا کر دیا جائے 150 احتساب کے ایوانوں میں جو فیس نہ دے سکے اس کے لئے کروڑوں کا وکیل حکومت دے کیونکہ ہر پاکستانی کی استطاعت نہیں کہ وہ ایسا وکیل کرے جو قانون کو ہی گھما دے ۔ 

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مزید : بلاگ