سکھر: مضر صحت اشیا پان پر اگ، گٹکا کی خریدو فروخت کا سلسلہ تھم نہ سکا

  سکھر: مضر صحت اشیا پان پر اگ، گٹکا کی خریدو فروخت کا سلسلہ تھم نہ سکا

  

        سکھر (رپورٹ /ایاز مغل)سکھر شہر میں مضر صحت اشیا پان پراگ، گٹکا کی خرید و فروخت کا سلسلہ تھم نہ سکا، اسمگلنگ کے ذریعے مضر صحت اشیا کی  سپلائی و کھلے عام گٹکا فروخت، شہری،سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر،معاشرتی برائیوں کے خاتمے کیلئے موئثر کاروائی عمل میں لائی جائے۔ تفصیلات کے مطابق عدالت عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے مختلف تھانوں کی حدود میں پان پراگ، گٹکا و دیگر مضر صحت نشہ آور اشیا کی خرید و فروخت کھلے عام جاری ہے مگر  متعلقہ محکمے اس کی روک تھام کے سلسلے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہے ہیں،شہر بھر میں کھلے عام مضر صحت اشیا کی فروخت اور اسکے استعمال کے باعث نوجوان طبقہ مختلف امراض کا شکار ہوکر اسپتالوں کا رخ کررہا ہے مگر سکھر انتظامیہ اس حوالے سے ٹس سے مس ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اور چھوٹے دکانداروں کے خلاف غیر رسمی کاروائیاں عمل میں لاکر افسران کو خوش کیا جارہا ہے جو لمحہ فکریہ اور سکھر انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے سکھر کے سماجی حلقوں سمیت سکھر کی سول سوسائٹی کے نمائندگان نے سکھر پولیس سمیت محکمہ کسٹم سکھر و دیگر متعلقہ محکموں کے عملے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکموں نے مضر صحت اشیا کی فروخت کیلئے اسمگلرز کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جبکہ ملوث اسمگلرز اور مشہور گٹکہ فروشوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے متعلقہ محکموں کے عملے نے رشوت کے عیوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے شہری و سماجی حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلی سندھ ودیگر بالا حکام سے اپیل کی کہ نوٹس لیکراسمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ مضر صحت اشیاکی خرید و فروخت کو بھی روکا جائے تاکہ نوجوان نسل کو مختلف امراض سے بچایا جاسکے۔

مزید :

صفحہ آخر -