میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ……

میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ……
میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں ……

  


ترجمان پاک فوج کے مطابق مسئلہ کشمیر پوری دنیا میں نیو کلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے،آخری فوجی اور آخری گولی تک لڑیں گے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان اخبار میں پڑھ ہی رہا تھا کہ دور دراز کہیں سے ہوا کے دوش پر یکدم کانوں کی سماعتوں سے مرحومہ میڈم نور جہاں کی دلکش آواز میں یہ خوبصورت نغمہ”میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں“ ٹکرایا تو وطن کے سپاہیوں سے والہانہ محبت اور عقیدت سے سر شار جذبات امڈ آئے۔اور راقم کو 1965ء کی جنگ میں واقفان حال کے قصے اور حالات و واقعات یاد آنا شروع ہو گئے جب طاقت کے نشے میں دھت انڈیا نے صبح کا ناشتہ لاہور میں کرنیکا خواب تو دیکھا، لیکن عزم و ہمت کی پیکر پاک فوج نے انڈیا کا منہ موڑ کر خواب پریشان کر دیا، بلکہ پاکستانی جانبازوں نے وہ صلاحتیں دکھائیں کہ دنیا دنگ رہ گئی، اس موقع پر جس طرح پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی اس کی مثال بھی اور کہیں نہیں ملتی۔اس وقت ایک مرتبہ پھر قوم کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ پاک بھارت تعلقات مختلف ادوار میں بنتے،بگڑتے رہے، لیکن اس وقت صورت حال خطرناک حد تک بگڑ چکی ہے۔

گذشتہ دنوں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ایک متنازع قانون کے ذریعے نہ صرف کشمیریوں کی الگ شناخت ختم کرنے کی کوسش کی ہے بلکہ نہتے اور بے بس کشمیریوں پر کر فیو جیسے ظالمانہ اقدام سے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا دیے ہیں۔اس سلسلہ میں پاکستان نے اقوام عالم کو باور کروایا ہے کہ بے چارے کشمیریوں کو مودی کے ظلم وستم سے نجات دلائی جائے اور اسی حوالہ سے سلامتی کونسل نے گزشتہ پچاس سال میں پہلی مرتبہ کشمیر کے بارے میں خصوصی اجلاس بلا کر بھارت کے اس اقدام کی مذ مت کی ہے جس سے یہ معاملہ اب علاقائی تنازعہ سے نکل کر عالمی لیول تک جا پہنچا ہے جسے پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے لیکن ضروت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ عملی اقدام اٹھا کر فی الفور بھارت کو اس ظالمانہ رویے سے روکے کیونکہ لاچار کشمیری گھروں میں سسک سسک کر مر رہے ہیں۔

پاکستان پوری دنیا کو خبر دار کر چکا ہے کہ یہ وقت ہے کہ وہ مصالحتی کردار ادا کریں اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک نہیں رہیں گے بلکہ آدھی دنیا متاثر ہو گی اس لئے اس مسئلہ کا واحد حل مذاکرات ہی ہے اور پاکستان اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو پھر اینٹ کا جواب بھی پتھر سے دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر کچھ فیس بکی دانش ور ہر وقت جنگ جنگ کا راگ الاپ رہے ہیں ان لوگوں نے صرف جنگ کی تباہ کاریاں سن رکھی ہیں واسطہ نہیں پڑا۔اس کے علاوہ کچھ خود ساختہ دانشور جنگ کے مشورے دے رہے ہیں تو ان کی سوچ کو اکیس توپوں کی سلامی ہی دی جا سکتی ہے۔یہ ففتھ وار جنگ ہے سوشل میڈیاپر۔ ذرا سوچیں خدانخواستہ آج ہماری فوج نہ ہوتی تو ہمارے دشمن ممالک ہمارے حالات فلسطین، عراق، شام اور برما سے بھی بد تر کر دیتے۔ جس طرح ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ ہم آخری سپاہی تک لڑیں گے ان شاء اللہ ہم پاکستانی خون کے آخری قطرے تک آپ کے ساتھ مل کر لڑیں گے اور اس سے بڑھ کر اور کیا بڑا اعزاز ہو سکتا ہے کہ اپنے پیارے وطن کی عظمت کے لئے اپنی جان قربان کر جائیں۔

میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں

آج تکدیاں تینوں سارے جگ دیاں اکھاں

جنہاں راہواں تو جاویں جنہاں راہواں تو آویں

انہاں راہواں دی مٹی چمن میریاں اکھاں

مزید : رائے /کالم


loading...