خدا کا جواب

خدا کا جواب
خدا کا جواب

  

وہاٹس ایپ سماجی رابطے کی ایک معروف ایپلیکیشن ہے۔یہ ہر لحاظ سے بلامعاوضہ ہونے کے علاوہ اپنے اندر بعض ایسی خصوصیات رکھتی ہے جس کی بنا پر لوگ اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً بعض دوسری ایپلیکیشن کے برعکس وہاٹس ایپ پیغام بھیجنے والے کو فوراً یہ بتادیتی ہے کہ اس کا پیغام پڑھ لیا گیا ہے۔ یہ چیز نہ صرف پیغام بھیجنے والے کے لیے باعث اطمینان ہوتی ہے بلکہ پیغام پڑھنے یا سننے والوں کو بھی آمادہ کرتی ہے کہ وہ جلد از جلد جواب دے۔یہ وہ نفسیاتی اثر ہے جو پیغام بھیجنے اور سننے والے دونوں پر لازمی ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہ صاف صاف بتادیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف ہر پکارنے والے کی صدا سنتے ہیں بلکہ فوراً ہی جواب بھی دیتے ہیں، (البقرہ186:2)۔ اگر کوئی شخص واقعی مومن ہے تو پھر قرآن مجید کی یہ بات اس کی نفسیات پر بھی بہت گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایسا مومن اپنا ہر مسئلہ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کی فریاد سن لی گئی ہے اور فرشتوں کو حکم دے دیا گیا ہے۔

تاہم عام مشاہدہ قرآن مجید کے اس بیان کے برعکس محسوس ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کی بعض دعائیں ساری زندگی قبول نہیں ہوتیں۔ بعض کے مسائل ختم نہیں ہوتے اور ان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ بعض لوگوں کی دل پسند چیز اتنی دیر میں ملتی ہے کہ اس کا ملنا نہ ملنا برابر ہوتا ہے۔

اس حوالے سے کچھ باتیں سمجھ لینی چاہئیں۔ اس کے بعد اس قسم کی ساری الجھنیں دور ہوجائیں گی۔ پہلی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے اس بیا ن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب ضرور دیتے ہیں، لیکن ان کے فیصلے کے نفا ذ میں ان کی حکمت کی بنا پر کچھ وقت لگتا ہے۔وہ حکمت یہ ہے کہ وہ ایسا نہ کریں تو غیب کا پردہ اٹھ جائے گا اور امتحان ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد کون خدا کا انکار کرسکے گا۔ چنانچہ امتحان کو برقرار رکھنے کے لیے وہ اپنے فیصلے کچھ بعد میں نافذ کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ ضروری نہیں کہ وہ ہمارا مسئلہ ہماری مرضی کے مطابق حل کریں۔ کیونکہ بارہا جو ہم مانگتے ہیں وہ ہمارے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کسی او رطریقے سے ہمارا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ہمیں وہ مل جاتا ہے جو ہمارے لیے بہت بہتر ہوتا ہے اور وہ ہماری دعا ہی کا نتیجہ ہوتا ہے مگر ہمیں اس کا پوری طرح شعور نہیں ہوتا۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کے برعکس جو ہمیشہ فانی دنیا کو ترجیح دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی ترجیح ابدی آخرت ہے۔ چنانچہ وہ ہر دعا کے جواب میں پہلے آخرت کے نفع کو دیکھتے ہیں۔پھر وہاں سے جو بچتا ہے وہ دنیا میں دیتے ہیں۔ وہ یہ نہ کریں تو ہم آخرت میں بالکل مفلس اور قلاش ہوکر پیش ہوں گے اور جتنا اس دنیا میں پریشان ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ روز حشر پریشان ہورہے ہوں گے۔ چنانچہ پہلے وہ وہاں کے مسائل کو دیکھتے ہیں اور پھر دنیا کے مسئلے حل کرتے ہیں۔

چنانچہ ایک بندہ مومن کوخدا سے مایوس ہوئے بغیر دعامانگتے رہنا چاہیے۔ اسے وہاٹس ایپ کے ایک صارف کی طرح یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ جو کچھ اس کی زبان سے نکل کربارگاہ اقدس میں پیش ہوا ہے، وہ لازماً سن لیا گیا ہے۔ اس کا کوئی مسیج ان ریڈ نہیں ہے۔ اور جس نے سنا ہے وہ بڑا کریم مگر اتنا ہی حکیم و علیم بھی ہے۔

اصل اطمینان اس پر ہونا چاہیے کہ خدا کے در کا فقیر کائنات کا بادشاہ ہوتا ہے۔ اس کی ہر مانگ پوری ہوتی ہے، چاہے اس دنیا میں ہو یا اگلی دنیا میں۔چاہے ایک طرح ہو چاہے دوسری طرح۔ یہی وہ یقین ہے جو ایک مومن کو نہ مایوس ہونے دیتا ہے نہ کسی اور کے در پر جانے دیتا ہے۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ