تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 51

20 اپریل 2018 (14:07)

قاضی عبدالستار

جان جوکھم میں ڈال کر چھتر سال نے کوشش کی کہ اپنے لشکر کو اورنگ زیب کی فوج میں پیوست کر کے اسطرح جنگ چھیڑ دے کہ دشمن کے توپ خانے سے جو بڑھتا چلا آرہا ہے،ایک حد تک محفوظ ہو جائے،لیکن اورنگ زیب ان جنرلوں میں نہ تھا جو دشمن کے منتخب کئے ہوئے میدان میں دشمنی کی مرضی کے مطابق لڑتے ہیں۔اس نے تیزی کے ساتھ پیچھے دبنا شروع کیا۔ساتھ ہی خانہ زادوں کو کڑک کر حکم دیا کہ اگر ذوالفقار خان راؤ پر حملے میں کو تاہی کرتا ہے تو اس کا سرا تار کر پیش کیا جا ئے۔

سبز پوش سوار بالا پوش میں گھوڑے چھپائے اورسبز جھنڈے شانوں پر اٹھائے ابھی صف سے نکلے بھی نہ تھے کہ ذوالفقارکی توپیں چلنے لگیں اور دس سیر کا ایک گولا راؤ کے ہاتھی کے پٹھے پر لگا ۔عماری الٹ گئی،ہاتھی صدمے سے گر کر اٹھا اور میدان سے بھاگنے لگا۔راؤ نے جو کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو ہاتھی کی پیٹھ پر جمائے ہوئے تھا،ایک تلوار نیام میں ڈالی اوردوسری دانتوں میں داب کر بے تحاشہ بھاگتے ہاتھی کی پشت سے پھاندپڑا اور بے حواس ہمرکابوں کوللکار کر بولا 

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میدان سے چھتر سال کا ہاتھی بھاگ سکتاہے،چھتر سال نہیں‘‘

خدام نے راؤ کا گھوڑا پیش کیا جو ہاتھی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔یہ وہ گھڑی تھی کہ داؤد خاں ہزار سر کا صدقہ دے کر اورنگ زیب کے ہاتھیوں کو پسپا کر چکا تھا اور راؤ اپنے ہزار بسنتی سواروں کے ہجوم میں کھڑا تھااور نام لے لے کر جاں نثاروں کو پکار رہا تھا اور جو ہر کی رسم ادا کرنے والی لڑائی کی تیاری کر رہا تھا۔

سامو گڑھ کی لڑائی کا وقت بھی تاریخ کا عجیب و غریب وقت تھا جب راؤ کی فوج سوارہ کے مغل اور اوزبک سوار نعرہ تکبیر بلند کر کے اورنگ زیب پر ٹوٹ پڑے تھے اور زعفران پوش رسالوں نے ’’ہری ہری‘‘ کے نعرے لگاکر گھوڑے اٹھا دیئے تھے اور کمار بھرٹ سنگھ دو ہزار سواروں کے ساتھ زخمی عقاب کی طرح اپنے لشکر کی پشت سے اڑ کر ذوالفقار خاں کے توپ خانہ پر جا پڑا،اورنگ زیب کی صفیں موج در موج راؤ کے سامنے آتیں لیکن ایک ایک انچ زمین کیلئے گھمسان کی لڑائی لڑتیں لیکن راؤ ان کو درہم برہم کرتا آگے بڑھتا رہا۔اورنگ زیب سبز پوش قاصدوں کی زبانی یہ خبرتردد سے سنی کہ دارا شکوہ مراد کی طرف بڑھ رہا ہے۔

عماری میں کھڑے ہو کر اس نے دیکھا کہ زرد بانے پہنے ننگی تلواریں علم کئے ہزاروں سوار توپوں اور زنبوروں کے شدید حملوں سے بے نیاز سینکڑوں کی جانوں کی بھینٹ دے کر ذوالفقار خان سے دست بدست لڑائی لڑرہے ہیں او ر خود راؤ چھترسال اس کے ہاتھی کے سامنے آیا چاہتا ہے ۔ ا س نے تڑپ کر حکم دیا۔

’’ہاتھی کے پتروں میں زنجیریں ڈال دو‘‘

ساتھ ہی دوسرا حکم نافذ ہوا،

’’خان دوراں ناصری خان اور بہادر خان کو کلتاش یلغار کریں‘‘

خان دوران اپنے رسالوں کے ساتھ کوندے کی طرح لپکا اور راؤ کی تلواروں کے ساتھ ٹکراگیا۔بہادر کو کلتاش جو اورنگ زیب کا رضائی بھائی تھااور شہزادوں کے سے خدم و خشم رکھتاتھا،اپنے ایک ہزار ذاتی سواروں اور دو ہزار اورنگ زیبی فوجوں کے ساتھ ہاتھی ریلتا آگے بڑھا ،داؤ د خاں نے تین طرف سے چھتر سال کو گھرتا ہو ادیکھا تو سر ہتھیلی پر رکھ کر بہادر خان کا راستہ روکنے چلا۔ہر چند کہ خان دوراں کے ہاتھیوں کو شکست دینے میں اس کے لشکر نے بڑے صدمے اٹھائے تھے لیکن اس نے بہادر خان کی پیش قدمی کو قطعی طور پر روک دیا۔اب ایک ایک صف ایک ایک دستہ ایک ایک مورچہ اور ایک ایک سپاہی دست بدست لڑائی میں گلے گلے ڈوب گیا تھا۔تلواریں انسانوں اور جانوروں کی ا س طرح کاٹ رہی تھیں جیسے کسان پکی ہوئی فصل کا ٹتا ہے۔سر اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے تھے،جیسے آندھی پھلے ہوئے باغوں کو اجاڑ تی ہے،راؤ چھترسال او ر اس کے ساتھی اس طرح بے گجری سے تلواروں پر گر رہے تھے جیسے دولہا سالیوں کے ہاتھ چوتھی کی مار کھاتاہے،پھر راؤ نے کڑک کر رجز پڑھا۔

’’ہمارا نیام بجلی کا آشیانہ ہے

گردش ایام ہمارا گھوروں کی چال ہے

یم راج ہمارا دولت ہے

اور پر لے ہمارے دھاوے کا خطاب ہے‘‘

پھر رکابوں پر کھڑے ہو کر آواز دی۔

راٹھور کے راج دلارے کہاں ہیں

اور تلواروں کے نرغے سے راجہ روپ سنگھ راٹھور نے جواب دیا

’’آگیہ دیجئے مہاراج۔‘‘

’’ہم اورنگ زیب پر چڑھتے ہیں۔‘‘

’’اگر اس کا سر نہ لا سکے تو ہرا ول تمہارے سپرد۔‘‘

’’مہاراج۔‘‘

راجہ روپ سنگھ کی سنی ان سنی کر کے راؤ شیوخ نامی اورسادات گرامی کے حلقے سے گھوڑا نکا ل لایا اور آواز دی

’’بوند ی راج کمارو‘‘

’’ہاڑا بنس کے جھنڈوں۔‘‘

’’آؤ۔‘‘

’’اورنگ زیب پر چلو‘‘

رن بھومی کو لاشوں سے پاٹ دو‘‘

’’انتہاس کو دکھا دو‘‘

صاحب عالم کے سپاہی اس طرح لڑتے ہیں۔

جس طرح سنسار میں کوئی نہیں لڑسکتا

بیٹوں،بھتیجوں،بھائیوں اور سرداروں اور نمک خواروں نے ایک زبان ہو کر ہری کے اتنے بھیانک نعرے لگائے اور اس قیامت کا حملہ کیا کہ اورنگ زیب کو بنفس نفیس اپنے سالاروں کو مخاطب کرنا پڑا۔اس کی آواز بلند ہوئی۔

’’بہادرو !یہی وقت ہے ‘‘ 

اور سامو گڑھ کے میدان میں تاریخ کی وہ ہولناک جنگ چھڑ گئی جس کیلئے مورخوں کو لکھنا پڑا کہ پوری ستر ہویں صدی میں کشور ہندوستان میں کسی ایک مقام پر ایسی خون ریز لڑائی نہیں لڑی گئی۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں