ڈاکٹر عبدالمالک کا اعزاز

ڈاکٹر عبدالمالک کا اعزاز
 ڈاکٹر عبدالمالک کا اعزاز

  



ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جب وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھایا تو بلوچستان کس صورت حال میں تھا وہ ہم سب جانتے ہیں پیپلز پارٹی کا دور حکومت بلوچستان کے لئے ایک عذاب سے کم نہ تھا تاریخ کی بدترین لوٹ مار کے شور سے پورا صوبہ گونج رہا تھا نیب نے ایک ہلکا سا ہاتھ بیان کی صورت میں رکھا تو ملوث وزیروں کی چیخیں آسمان تک پہنچ گئیں۔ بلکہ کینٹ میں اس کی گونج سنائی دے رہی تھی اور احتجاج کیا گیا کہ نیب حکومت میں مداخلت کر رہی ہے ابھی نیب کا ہاتھ وزراء کے گریبانوں تک نہیں پہنچا تھا کہ خوف طاری ہو گیا ۔

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کے ایسے اسیر ہو گئے کہ وہ کوئٹہ کے دورے پر آتے تھے۔ اور حکومت کے ترجمان کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اسلام آباد نہ جائیں تو فائلیں رک جا ئیں گی اور کام نہیں ہوگا اس لئے وزیراعلیٰ اسلام آباد میں رہ رہے ہیں نیب بلوچستان کے سربراہ کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ 27 وزراء کی فائلیں کھل چکی ہیں اور یہ بھی بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ سب سے زیادہ کرپشن محکمہ تعلیم میں ہوئی ہے لیکن نیب اس بیان کے بعد خاموش ہوگئی دن دہاڑے تاجر اغوا ہو رہے تھے قتل ہو رہے تھے اغواء برائے تاوان عام معمول بن گیا تھا۔ دھماکوں سے کوئٹہ لرز رہا تھا خوف کا عالم تھا ،عام لوگ نقل مکانی کر رہے تھے۔ مستونگ ویرانی کا نقشہ پیش کر رہا تھا خضدار کی بھی صورت حال یہی تھی،لوگ خوف سے بھاگ رہے تھے ۔ تجارت ختم ہو کر رہ گئی تھی ہوٹلوں کا کاروبارٹھپ ہو کر رہ گیا تھا ، شہر میں چہ می گوئیاں عام تھیں کہ بعض وزراء اس دھندے میں ملوث ہیں۔ ہزارہ قبیلہ کے لئے کوئٹہ کے بعض حصے نو گوایریا بن گئے تھے۔ مسجدیں محفوظ نہ تھیں۔ امام بارگاہیں دھماکوں کی زد میں تھیں۔ طالبات قتل ہوئیں یہ نقشہ کوئٹہ کا اور صوبہ کے بعض حصوں کا تھا۔

قارئین محترم ! تشدد زدہ لاشیں گر رہی تھیں یہ معمول بن گیا تھا اب بھی گر رہی ہیں لیکن کم ہو گئی ہیں بے شمارصحافی دہشت گردوں کا شکار ہوگئے کئی گھرانے اجڑ گئے تو پھر سنبھل نہ سکے۔یہ تھا سابقہ پیپلز پارٹی کا دور حکومت اور نواب اسلم خان رئیسانی وزیراعلیٰ تھے بلکہ پیپلز پارٹی کا صوبائی سربراہ نوابزادہ چیخ اٹھا کہ وزراء کرپشن میں ملوث ہیں۔ نوابزادہ حاجی لشکری نے جس طرح جدوجہد کی وہ مثالی اور تاریخی تھی، لیکن اس کو پیپلز پارٹی اور جمعیت کے وزراء نے خاک میں ملادیا اور پیپلزپارٹی کی بدترین نا اہلی اور کرپشن نے بلوچستان کی مقدس سرزمین سے پیپلز پارٹی کا صفایا کر دیا۔ایک حقیقت ہے کہ حاجی لشکری تمام خطرات کو بالائے طاق رکھ کر بلکہ سرہتھیلی پررکھ کر سرگرم رہے۔ محمد اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ بن گئے انہوں نے بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا کیا ہو رہا ہے اور پھر ایک دھماکہ نے ان کی حکومت کا دھماکہ کر دیا اور سب چند لمحوں میں زمین پر کھڑے نظر آرہے تھے اور پیپلز پارٹی اپنے اعمال کے نتیجے میں سیاسی قبرستان میں پہنچ گئی۔ایک بات اور بھی ذہن میں رکھنا ہوگی کہ صوبہ بلوچستان میں صرف بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کی حکومت نہ تھی بلکہ اس میں مسلم لیگ ن بھی برابر کی شریک تھی مولانا واسع صرف قوم پرستوں پر برستے رہے اس لئے کہ ان کو گہرے سیاسی زخم قوم پرست پارٹیوں نے لگائے تھے اس لئے ان کی بیقراری اس پورے عرصہ میں قابل دید تھی۔ وزارت کی محرومی نے حواس باختہ کر دیا تھا اب کچھ مختصر سے عرصہ سے ان کی بے قراری میں وقفہ آگیا ہے۔ دیکھیں کب وقفہ ختم کرتے ہیں۔

قارئین محترم ! جب وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ بنے تو مجھے خوشی ہوئی ایک طالب علم رہنما اور بی ایس او کی تنظیم کا صدر ایک ایسے اعلیٰ منصب پر پہنچا جہاں سردار ، نواب اور وار لارڈز ہی پہنچنا اپنا حق سمجھتے تھے لیکن بلوچستان کی تاریخ میں عبدالمالک بلوچ کو یاد رکھا جائے گا کہ فٹ پاتھ پر چلنے والاعام طالب علم سب کو حیران کرکے وزیر اعلیٰ کی جلوہ گاہ میں داخل ہوگیا اس سے گلہ بھی ہے لیکن ان سب کے باوجود عبدالمالک کی حکومت کو کھل کر سپورٹ کیا۔ سابقہ حکومت اور عبدالمالک کی حکومت میں زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا یقیناً بعض حلقوں نے ان کی حکومت کو مکمل تعاون دیا مگر اس کا کریڈٹ بھی عبدالمالک ہی کو جائے گا جس نے اپنی مسکراہٹ اور خوش اخلاقی سے سب کو ہمنوا بنا لیا،اس نے تو پنجاب یونیورسٹی میں ایک خطاب کے بعداہلِ پنجاب کے دلوں میں گھر کر لیا۔ یہ کو ن کر سکے گا؟ الیکشن سے قبل بلوچستان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے اتحاد کیا اور جلسے شروع کئے اس اتحاد میں پشتون خوا ، جماعت اسلامی ، اے این پی، بی این پی، نیشنل پارٹی شامل تھے۔

کوئٹہ میں اس کاپہلا جلسہ سائنس کالج کے ہال میں ہوا دوسرا جلسہ پشین میں ہوا ۔ اور اس کے بعد اجلاس ہوااور طے کیا گیا کہ تیسرا جلسہ بی این پی مستونگ میں رکھے گی جس پر جہانزیب جمالدینی نے معذرت کر لی کہ مستونگ کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اس لئے ہم وہاں جلسہ نہیں کر سکتے مسلح تنظیموں سے خطرہ ہے یہ حالات تھے ۔ جس سے بلوچستان گذر رہا تھا اور اب بی این پی نے مستونگ میں جلسہ کیا نوشکی میں کیا اور خضدار میں جلسہ کیا اس کا کریڈٹ تو عبدالمالک کی حکومت کو جاتا ہے اور فراخ دلی سے اس کو تسلیم کر لیا جائے تو کیا حرج ہے۔ قوم پرست وزیر اعلیٰ کی حکومت کوئی فرشتوں کی حکومت تو نہ تھی غلطیاں ہوئی ہوں گی بیوروکریسی نے اپنے دھندے کئے ہوں گے اور یہ ممکن ہے بعض وزراء نے درپردہ خالی صفائی دکھلائی ہو۔ لیکن اس کے باوجود عبدالمالک کی سربراہی میں بہتر نتائج نظر آئے۔ اس مختصر سے عرصہ میں یہ حکومت سابقہ پیپلزپارٹی کی حکومت سے بدرجہا بہتر تھی۔ مسلم لیگ ن اس کا حصہ تھی۔ اس کے سودوزیان کا مکمل حصہ تھی اور برابر کی شریک تھی۔ ہم کل کے طالبعلم رہنما اور افغانستان میں مزاحمتی تحریک سے وابستہ عبدالمالک جو پہاڑوں سے اتر کر وزیراعلیٰ کی اونچی کرسی پر جلوہ گر ہوئے۔ اور پہاڑوں پر مسلح مزاحمت کرنے والوں کو سیاسی عمل میں شرکت کی دعوت دیتے رہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے مجاہدین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے یا صرف افغانستان میں روس نواز حکومتوں کے مزے لوٹتے رہے ، کبھی ان سے اس کا حال بھی پوچھیں گے۔

مزید : کالم