عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا..۔ آخری قسط

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا..۔ آخری قسط
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا..۔ آخری قسط

  

عیسائیوں کو مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔ کلیساؤں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بڑی بڑی جاگیریں بخشیں۔ جنگی قیدیون کو جو فتح مند فوج نے گرفتار کئے تھے سلطان فاتح نے خود اپنے سپاہیوں سے خرید کر آزاد کیا اور ان کو شہر قسطنطنیہ کے ایک خاص محلے میں آباد کیا۔ اس فتح کے بعد سلطان فاتح نے دیکھا کہ قسطنطنیہ کے اکثر گھر ویران اور غیر آباد ہوگئے تھے۔ چنانچہ ان گھروں میں سلطان نے مسلمانوں کو آباد ہونے کی دعوت دی اور شہر کی رونق واپس لانے کیلیے ایشیائے کوچک سے پانچ ہزار مسلمان خاندانوں کو قسطنطنیہ میں آباد کرنے کا انتظام کیا۔ جو لوگ قسطنطنیہ سے بھاگ گئے تھے، سلطان نے انہیں واپس آنے کی دعوت دی اور انہیں آمادہ کیا کہ آکر اپنے پیشوں اور کاروبار میں پھر مشغول ہو جائیں۔

قرون وسطیٰ کے دستور جنگ میں مفتوحین کی جان و مال تمام تر فاتح کی ملکیت ہوتی تھی جس پر اسے ہر طرح کا اختیار حاصل ہوتا تھا۔ یورپ کی سلطنتوں نے اس اختیار کی استعمال میں کبھی کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تھا اور ظلم و تعدی کی ایسی مثالیں پیش کیں جو تخیل میں بھی نہیں آسکتیں۔ اس کے مقابلے میں ترکوں نے قسطنطنیہ میں داخل ہو کر امن و امان کی روشن مثال قائم کی کہ دوست دشمن سب دنگ رہ گئے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا..۔ قسط نمبر 116 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فتح کے پہلے روز سلطان نے عام اعلان کیا کہ جو شخص صحابی رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا مزار مبارک تلاش کرے گا اسے انعامات سے نوازا جائے گا اور پھر فتح کے تیسرے روز ایک انتہائی بوڑھے بزرگ نے دو مسلمان سپاہیوں کو حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی قبر مبارک کی نشاندہی کی۔ مرقد مبارک کو تلاش کرلیا گیا لیکن وہ سفید ریش بزرگ دوبارہ کسی کو نظر نہ آیا۔ سلطان محمد فاتح نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار مبارک کے نزدیک ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جو تاریخ میں ’’جامعہ ابو ایوب‘‘ کے نام سے پہچانی گئی۔ سلطان نے قسطنطنیہ کو اپنا دارالسلطنت بنا لیا اور اسی شہر سے باقی ماندہ ممالک یونان، سربیا، بلغراد، بوسنیا، موریا، طرابزون، سینیوپ ، مجمع الجزائر، کریمیا، والیشیاء، البانیا، ہرزیگوینیا، وینس ، روڈس اور اوٹرانٹو وغیرہ فتح کرکے عثمانی سلطنت میں شامل کئے۔

قاسم اور اس کے اہل خانے بھی قسطنطنیہ میں مقیم ہوگئے اور قسطنطنیہ میں ان کا گھر بوڑھے عباس کے زیر سایہ ہرا بھرا نظر آنے لگا۔ اب قاسم کی دو بیویاں تھیں۔ مارسی کو قاسم کی پہلی بیوی حمیرا نے بہ سرو چشم قبول کیا تھا۔ مارسی قاسم کی پوری داستان بھی سن چکی تھی اور اب وہ قاسم کے گھرمیں اپنی زندگی کے مسرور ترین شب و روز گزار رہی تھی۔

فتح قسطنطنیہ سے پندرہ روز بعد قاسم کے لیے ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ قاسم اپنے اہل خانہ کے ساتھ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر بیٹھا اپنے واقعات سنا رہا تھا کہ گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ قاسم کے بھتیجے عمر اور علی دوڑتے ہوئے بیرونی دروازے کی جانب لپکے۔

کچھ دیر بعد کمرے میں ایک باپردہ خاتون داخل ہوئی جو بوڑھے عباس سے ملنے آئی تھی۔ بوڑھا عباس با پردہ خاتون کو مل کر پرجوش لہجے میں اپنے اہل خانہ سے مخاطب ہوا۔

’’ارے اس سے ملو! ۔۔۔جانتے ہو کون ہے؟ یہ بھی میری بیٹی ہے۔‘‘۔۔۔عباس ایک دم خاتون سے کہنے لگا ’’بیٹی! یہ نقاب ہٹا لو۔ یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔۔۔ارے کیا تم اکیلی آئی ہو؟ عبداللہ کہاں ہے؟ میرا داماد۔۔۔لیکن تمہیں ہمارے گھر کاپتہ کیسے چلا؟‘‘

عباس جوش کے عالم میں بولتا چلا گیا۔ گھر کے سب لوگ حیران تھے۔ عباس کی بیٹی مری، مارسی اور حمیرا آگے بڑھیں اور انہوں نے مہمان خاتون کو احترام کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کہا۔ خاتون نے عباس کو بتایا کہ اس کا خاوند عبداللہ بھی اس کے ساتھ آیا ہے جو باہر بگھی کے پاس موجود ہے۔

عمر اور علی خاتون کے خاوند عبداللہ کو لینے چل دیئے۔ قاسم با پردہ خاتون کی آواز سن کر بری طرح چونکا۔ یہ آواز اسے جانی پہچانی سی محسوس ہوئی۔ ابھی وہ یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ خاتون نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی اور عین اسی وقت بوڑھے عباس کی آواز سنائی دی۔

’’یہ میری بیٹی روزی ہے ۔ یہ ایک معصوم مچھیرن تھی۔ گزشتہ برس انہی دنوں میں جان جسٹینانی کے سپاہی اس بے چاری کا اٹھا کر لے گئے تھے۔ اتفاق سے ٹھیک اسی وقت ہم لوگ موقع پر پہنچ گئے۔۔۔ہم نے عیسائی فوجوں کو سبق سکھایا اور میں روزی کو اپنے ہمراہ ’’رومیلی حصار‘‘ میں لے گیا۔ روزی نے رومیلی حصار میں تین چار ماہ کھانے پکانے اور دیگر کاموں میں ہماری بہت خدمت کی۔ اس کی کہانی بہت درد ناک ہے۔ سننے کے لائق۔‘‘

قاسم کا دماغ سنسنا رہا تھا۔ اسے اپنے بدن پر رعشہ طاری ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ تو وہی روزی تھی جس نے مچھیروں کی بستی میں اس کی بہت مدد کی تھی۔ اور قاسم کے لیے ہر خطرہ مول لیا تھا۔ سونیا کی طرح یہ بھی قاسم کو دل دے بیٹھی تھی اور اس کے انتظار میں دن رات سہانے سپنے دیکھنے لگی۔

ہاں! یہ وہی روزی تھی ’’رومیلی حصار‘‘ میں جب بوڑھے عباس نے مختلف قصے سنانے کے دوران اسے شہزادی حمیرا کے شوہر قاسم بن ہشام کا قصہ سنایا تھا تو وہ قاسم کی باتیں سن کر پہچان گئی تھی کہ اس کا محبوب جو ایک رومی پادری کے روپ میں اسے ملا تھا۔ حمیرا کا شوہر قاسم بن ہشام ہی تھا۔ یہ جان کر کہ قاسم بن ہشام کسی اور کا ہو چکا ہے روزی نے اس کے سپنے دیکھنے چھوڑ دیئے اور بوڑھے عباس کی بیٹی بن کر رومیلی حصار میں رہنے لگی۔ تین چار ماہ بعد عباس نے اپنے ایک ہونہار سپاہی عبداللہ کے ساتھ نوجوان مچھیرن روزی کی شادی کر دیا ور یوں مسلمان ہونے کے بعد روزی کا گھر بس گیا۔

آج روزی اپنے خاوند کے ساتھ عباس سے ملنے آئی تو ایک دم اس کا سامنا قاسم سے ہوگیا۔ روزی بھی اگرچہ کسی حد تک گھبرائی لیکن قاسم تو بری طرح سٹپٹا گیا۔ روزی کی نگاہوں نے چند لمحوں میں قاسم سے ہزاروں سوال پوچھ لئے جن میں سے کسی ایک کا جواب بھی قاسم کے پاس نہ تھا۔

حمیرا نے عباس کی زبانی روزی کی کہانی سنی تو شرارت آمیز نظروں سے اپنے شوہر کی طرف دیکھنے لگی۔ کیونکہ وہ قاسم سے نوجوان مچھیرن کی دلچسپ داستان پہلے ہی سن چکی تھی۔

قاسم سے اور کچھ نہ بن پڑا تو سر کھجاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

ختم شد

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح