علامہ اقبالؒ کے تصّورات (ایک جائزہ)

  علامہ اقبالؒ کے تصّورات (ایک جائزہ)

  

اقبال کا درد مند دل مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر تڑپ اٹھا

یہی تڑپ، سوز و گداز اور غم و الم ان کی زندگی کا سرمایہ ٹھہرا

ان کی شاعری نے قوم کی مردہ رگوں میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے کے لیے آب حیات کا کام کیا

علامہ اقبالؒ نے سادہ زندگی کے لیے محسنِ انسانیتﷺ اور صحابہ کرامؓ کے حیات کو سامنے رکھا

ان کے نزدیک زندگی کا مقصد ناساز حالات کو اپنی ضرورت کے مطابق بنانا ہے

فرقان دانش خان

 ہمارے ہاں شاعری ایک رسم و رواج یاذریعہ تفریح کی حیثیت رکھتی ہے لیکن علامہ اقبال شاعری کو یہ پست مقام دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ شاعر برائے شعر و ادب کے قائل نہیں بلکہ شاعر برائے زندگی کے قائل ہیں اور فن برائے فن کو نہ صرف خطرناک بلکہ مہلک قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی فکر کے مقابلے میں فن کو کبھی قابل وقعت خیال نہیں کیا۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت، فکر،پیغام اور تصورات کو حاصل ہے۔ وہ شعر کی عام فنی خصوصیت پر زور دینے کی بجائے خیالات کی بلندی،ند رت کی پختگی اور عمل پیہم کا درس دیتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ اقبال فنی اعتبار سے بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال جس دور میں پیدا ہوئے اس وقت ملت اسلامیہ زوال پذیر تھی۔سلطنت مغلیہ کا سورج غروب ہوچکاتھا اور مسلم حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی جارہی تھیں۔ مسلم قوم تن آسانی کا شکار ہوکرذلت و رسوائیوں کے عمیق گڑھے میں گر چکی تھی۔ اس نے انگریزوں کے پہنائے ہوئے طوق غلامی کو اپنا مقدر سمجھ لیاتھا۔ اقبال کے سینے میں ایک درد مند دل تھا جو مسلمانوں کی زبوں حالی کو دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ یہ تڑپ رفتہ رفتہ ناسور بن گئی اور یہ سوز و گداز اور غم و الم ان کی زندگی کا سرمایہ ٹھہرا۔ انہوں نے سوئی ہوئی قوم کو جگانے اور اس کے تن مردہ میں روح پھونکنے کو اپنا مقصد حیات بنالیا۔ چنانچہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ان کی عظمت و مقبولیت کی اصل وجہ ان کی شاعری ہی ہے جس نے مسلم قوم کی مردہ رگوں میں خون کی حرارت پیدا کرنے کے لئے آب حیات کا کام کیا۔ اقبال کے تصورات زندگی کی مثبت حقیقتوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو ایک مومن اور مسلم معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں۔ذیل میں علامہ اقبال کی شاعری میں پائے جانے والے تصورات کا مختصر اًجائزہ پیش کیا جارہاہے۔

اقبال کا تصور حیات

اقبال کی شاعری میں تصور حیات زندگی کی ایک مثبت حقیقت کے طور پر اجاگر ہوتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علامہ زندگی کی جملہ کثافتوں سے بخوبی واقف ہیں۔

علامہ اقبال نے جو فلسفہئ حیات دیا ہے اس کیلئے محسنِ انسانیتؐ اور صحابہ کرامؓ کی سادہ زندگی کو مثال کے طور پر پیشِ نظر رکھا ہے۔

علامہ اقبال ا پنے تصور حیات میں قاری کو زندگی سے فرار کی تعلیم نہیں دیتے ان کے نزدیک افضل یہ ہے کہ آدمی نہ صرف جہان سے متعلق رہے بلکہ اس کو تسخیر کرنے کی قوت بھی اس میں مو جود ہونی چاہئے۔ ان کے نزدیک یہ کائنات ابھی نامکمل ہے اور انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کائنات کے لامحدود خزانوں کی تلاش کرے او ر اسے مکمل کرے۔چنانچہ فرمایا:۔

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

علامہ اقبال اپنے اس تصور کی وضاحت میں جابجا سخت کوشی اور محنت کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد صرف زندہ رہنا نہیں بلکہ زمانے کے ناساز حالات کو بدل کر انھیں اپنی ضرورت کے مطابق بناناہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ جدوجہد اور محنت زندگی کو رواں دواں رکھنے کاذریعہ اور زندگی کا اصل مقصد ہے اور یہی جذبہ انسان کو صحابہ کرامؓ کی طرح زمانہ ساز بناسکتاہے، چنانچہ علامہ اقبال محنت اور جدوجہد کے ضمن میں یقین محکم، عمل پیہم کی تلقین کرتے ہوئے،زندگی کی تلخ حقیقت بتاتے ہیں۔

زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقین محکم، عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

شاعر مشرق نے ہمیں حرکت وعمل کا جو تصور دیا ہے وہ نہایت وسیع ہے اور اقبال کی شاعری کے جن تصورات کی آگے تشریح کی جارہی ہے وہ بیک وقت اقبال کے تصور حیات میں کارفرما ہیں۔

اقبال کا مرد مومن

اقبال کا مرد مومن وہ کامل انسان ہے جسے ہر زمانے میں پانے کی خواہش کی گئی ہے۔ جس کے کردار کے خاکے کئی مفکرین نے پیش کئے، جس کی وجہ سے اکثر کہا جاتا ہے کہ اقبال کا مرد مومن ایک جرمن فلاسفر نطشے کے تخلیق کردہ کردار سپرمین سے ماخوذ ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ نطشے کا تصور جنگِ عظیم میں انسانی تباہ کاریوں کا نتیجہ ہے جو صرف اور صرف جسمانی طاقت و قوت کا مظہر ہے۔ جس میں فراست و تکبر اس کے اعلیٰ ترین جوہر ہیں۔ گویا نطشے کا سپرمین انتہاپسندی،سیاسی استعداد اور نسلی امتیاز کی پیداوارہے اور ہر قسم کی اخلاقی اقدار کی نفی کرتاہے جبکہ اقبال کے ہاں یہ تصور بالکل مختلف ہے۔ وہ اپنے مرد مومن کو قرآنی آیات کے سانچے میں ڈھال کر اسے کردار محمدؐی کا پرتو دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ان کا مرد مومن جہاں مادی دنیا کی بڑی سے بڑی قوت کو تسخیر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے وہاں اپنے زورِ بازو سے حاصل شدہ چیز کو دوسروں کی خدمت اور بھلائی کے لئے وقف کردینے کی صفت بھی رکھتا ہے اقبال مومن کی تعریف میں رقم طراز ہیں:۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن

قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآ ن

یہ وہ مقام ہے جہاں اس مرد کامل کا ہاتھ خدا کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ اسی تصور کو اقبال نے نہایت حسین پیرایہ میں اس طرح پیش کیا ہے

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ

غالب و کار آفریں، کارکشا، کارساز 

اقبال کے نزدیک جب مردمومن میں خدائی صفات کا پر تو پایا جاتا ہے تو اس میں قہر و غضب اور غفاریت کی صفات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ ان عناصر کے بغیر حقیقی مسلمان نہیں بنتا۔ فرمایا:۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

لیکن یہاں یہ نہیں سمجھ لینا چاہئیے کہ اقبال کا مومن صرف غیض و غضب کی علامت ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رحم اور لطف وکرم کی صفات بھی اس میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔علامہ اقبال کے نزدیک

ہوحلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

اقبال کا مومن تند مزاج نہیں ہوتا۔دنیا کی کوئی بات اس کی نظر میں مشکل نہیں ہوتی۔ زندگی کے حالات کو وہ صبر و تحمل سے برداشت کرتا ہے۔وہ کسی کا ممنون احسان ہونا پسند نہیں کرتا۔ وہ ایک قابل سپہ سالار کی طرح اپنے محدود وسائل کو نہایت دور اندیشی سے استعمال کرتا ہے۔ اقبال پاکبازی، نرم مزاجی اور سخت کوشی کو بھی انسان کامل کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔

نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز

اقبال کا مرد کامل روح کی اعلیٰ قوتوں کا منبع بھی ہے۔ وہ ایمان و یقین کی بدولت مادے پر قابو رکھتا ہے۔ اس کے کردار کا جوہر نہایت درخشاں ہے۔ اعلیٰ قوت ارادی کائنات کو تسخیر کرنے کی ہمت رکھتی ہے۔ قوموں کی تقدیریں اس کی نگاہوں کے اشارے سے بنتی ہیں۔

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

اقبال کا تصور ملّت

انگریزی زبان میں ملت یا قوم کے مترادف ایک لفظ نیشن ملتا ہے لیکن انگریزی لفظ نیشن اقبال کے ہاں ملت کا بدل نہیں ہے کیونکہ انکے ہاں قوم رنگ، نسل، زبان یا علاقائی درجہ بندی سے ظہور میں آتی ہے جبکہ مسلم ملت میں یہ امتیاز نہیں مسلمان دنیا کے کسی خطے میں کوئی زبان بولتا ہو یا کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتا ہو، مسلم ملت یا امت کا حصہ ہے اور ساری دنیا میں بسنے والے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ چنانچہ اقبال کے ہاں ہمیں جو تصور ملت جلوہ افروز نظر آتا ہے وہ صرف اور صرف اسلامی تصور ہے۔ جس کے مطابق مسلم ملت کی اساس دیگر اقوام کی اساس سے مختلف ہے بقول علامہ

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

اقبال کا تصور ملت نسل پرستی اور تنگ نظری سے بالاتر ہے۔ وطن پرستی اس حد تک کہ مادہ پرستی ہوجائے اقبال کے ہاں قابل قبول نہیں کیونکہ آ ٓدمی یہ جذبہ لیکرنیچے ہی جاتا ہے۔ جبکہ اقبال ہر مقام پر انسان کے لئے تصور ملت کی بھی بنیاد ہے۔

تصور شاہین

اقبال کی شاعری میں جن تصورات نے بلند مقام حاصل کیا ہے۔ ان میں شاہین کا تصور خاص اہمیت کا حامل ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں اقبال کی جو شاعری ملتی ہے وہ حب الوطنی اور حسنِ تحریر کی آئینہ دار تھی۔ یورپ کے سفر کے دوران انہوں نے جن فطری اثرات کو قبو ل کیا ان میں نطشے کا فلسفہ قوت و زندگی اہم ہے۔ گو اقبال کا فلسفہ قوت و زندگی نطشے کے تصور کے برعکس ہے۔ تاہم اقبال کی شاعری اسی طرح فکری منازل طے کرتی ہوئی ایک ایسے مقام پر آپہنچی جہاں ان کے ذہن میں شاہین کا تصور ابھرا جس کا حوصلہ اس کی اڑان کی طرح مضبوط اور مستحکم ہے

تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

دراصل علامہ اقبال نے شاہین کوعلامت کے طور پر اپنایا ہے اور حقیقی طور پر ایک مسلم نوجوان کو شاہین کا درجہ دیا ہے۔ اقبال کا شاہین ایک ایسے نوجوان کی علامت ہے جو مضبوط ارادے، بلند ہمت اورسخت مشقت کا عادی ہے۔ اقبال کا نوجوان شاہین کے روپ میں جن فضاؤں میں محوِ پرواز ہے وہ مغربی تصورات کی پہنچ سے دور ہیں۔ بقول اقبال

شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

اقبال نے جب شاہین کا تصور اپنایا تو شاہین کی فطرت کو درویشی، قلندری، خودداری اور بے نیازی کی اعلیٰ صفات کا رنگ دیا۔

پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں

کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ

علامہ اقبال شاہین کو جرأت مند اور چست و چالاک نوجوان کے روپ میں پیش کرتے ہوئے اس کی ایک خصوصیت بتاتے ہیں۔

جھپٹنا، پلٹنا،پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

اقبال کا تصور خودی

اقبال کے ہاں خودی احساس ذات کا نام ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور انہیں انسانیت کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کیلئے وقف کردے۔ گویا خودی سے مراد اپنی ذات اور صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انھیں اجاگر کرنا ہے۔

علامہ کے نزدیک جذبہ خودی پوری انسانی زندگی میں جاری و ساری ہے اس کی بدولت زندگی میں حرارت، تڑپ اور حرکت ہے چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی زندگی، مسلسل حرکت اور عمل پیہم کامحرک خودی ہے اسی لئے انسان ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور خودی کی تحقیق و تکمیل کی جستجو کسی مقام پر ختم نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال کے ہاں خودی سمندر کی مانند وسعت رکھتی ہے فرماتے ہیں

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

اقبال کے نزدیک خودی کی تکمیل کا راز تین مراحل میں پنہاں ہے یعنی اطاعت، ضبط نفس اور نیابت الٰہی۔ چنانچہ اقبال فرماتے ہیں کہ وہ ان تین مراحل کو طے کرے اور خود کو پستیوں سے نکال کر ایسی بلندیوں پرلے جائے جہاں خدا بھی اپنی مرضی کو اس کے ارادے پر چھوڑدے فرمایا۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبال کہتے ہیں کہ اگر خودی کو مطلق العنان چھو ڑ دیا جائے تو و ہ ایسی قوت بن جاتی ہے جس کا کام قتل و غارت اور فساد کے سوا کچھ نہیں۔ہٹلر اور میسولینی کے ہاں ہمیں اس کی مثال ملتی ہے لیکن اگر خودی کو کسی ضابطے کا پابند کردیا جائے اور وہ ضابطہ صرف اور صرف قانون الٰہی ہو تو اقبال کاتصور خودی وجود میں آتا ہے چنانچہ اقبال کی خودی کو جلا بخشنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ قانون الٰہی کی پابند ہو۔ اور اپنے خالق کی یاد سے غافل نہ ہو۔ کیونکہ

خودی کا سر نہاں لاالہ الاللہ

خودی ہے تیغ فساں لا الہ الاللہ

اقبال کا تصور عشق

صدق خلیل ؑبھی ہے عشق، صبر حسینؓ بھی ہے عشق

معرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق

اقبال کی شاعری میں عشق کا تصور دوسرے قدیم شعرا سے مختلف ہے اقبال کے ہاں عشق سے مراد عورت اور مرد کی محبت یا وطن کی محبت مراد نہیں، بلکہ ان کے ہاں یہ ایک ایسی لگن اور جذبے کا نا م ہے جس کے تحت بڑے سے بڑا مشکل کام آسان ہو جاتا ہے۔وہ کام جو عقل انسانی میں نہیں آتے، یا بظاہر ناممکن نظر آتے ہیں۔جو کام عقل صدیوں نہیں کر پاتی اقبال کا جذبہ عشق چند لمحوں میں کردیتا ہے۔ اقبال کے اس جذبے اور تصور کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ قیام پاکستان جیسا مشکل کام اس جذبے کے باعث ظہور پذیر ہوا۔ حسینؓ کا کربلا کے میدان میں اسلام کی سر بلندی کے لئے جذبہ شہادت اورحضرت ابراہیم ؑ کا خدائی مرضی کی خاطر آگ میں کودنا یا جوان بیٹے کو رضائے الٰہی کیلئے ذبح کرنے کو تیار ہوجانا اقبال کے تصور عشق کی بہترین مثالیں ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں کہ اقبال کا تصور عشق محض رضائے الٰہی اور خوشنودیِ رسولؐ کے جذبے پر مبنی ہے اور اقبال کے نزدیک یہ تصور یا جذبہ ہر مسلمان کے دل میں موجزن ہونا ضروری ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -