کینسر سے متاثرہ 8 سالہ بچہ جس کی آخری خواہش پوری کرنے کیلئے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین حرکت میں آگئے، کیا خواہش ہے؟ پوری کرنے کیلئے آپ بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں

کینسر سے متاثرہ 8 سالہ بچہ جس کی آخری خواہش پوری کرنے کیلئے دنیا بھر کے ...
 کینسر سے متاثرہ 8 سالہ بچہ جس کی آخری خواہش پوری کرنے کیلئے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین حرکت میں آگئے، کیا خواہش ہے؟ پوری کرنے کیلئے آپ بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں

  


نیویارک (نیوز ڈیسک) خطرناک کینسر کے شکار ننھے بچے ڈورین مرے کی بیماری کو لاعلاج قرار دینے کے بعد ڈاکٹروں نے اس کے والدین کو بتادیا ہے کہ اب ان کا بیٹا زیادہ وقت اس دنیا میں نہیں رہے گا۔ ڈورین ”ریبڈو مائیو سرکوما“ نامی کینسر کا شکار ہے جو کہ اب اس کے دماغ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے، اور اس کی یقینی موت کے پیش نظر علاج بند کردیا گیا ہے۔

ڈورین کے والد نے ایک فیس بک پوسٹ میں اپنے بیٹے کی دردناک حالت بیان کی اور یہ بھی بتایا کہ اس کی آخری خواہش ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے مشہور ہونا چاہتا ہے۔ ننھے بچے کی اس خواہش کے بارے میں سن کر انٹرنیٹ صارفین کے دل پگھل گئے اور پوری دنیا سے اسے پیغامات اور تصاویر موصول ہونے لگیں، جن میں اس سے محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور اسے بتایا جا رہا ہے کہ وہ دنیا میں کتنا مشہور ہے۔

مزید جانئے: ’اب بچہ پیدا کریں، ایک بٹن دبا کر۔۔۔‘مردوں کیلئے بڑی سہولت متعارف

امریکا سے لے کر روس، چین، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک کے ممالک سے لوگوں نے ڈورین کے لئے محبت کے پیغامات بھیجے ہیں۔ ننھے بچے کے لئے سب سے خوبصورت کام اس کے اپنے علاقے کے لوگوں نے کیا۔ اتوار کے روز روڈ آئی لینڈ کے علاقے ویسٹرلی کے تقریباً تین ہزار افراد ساحل سمندر پر ڈورین سے اظہار محبت کے لئے جمع ہوئے اور یہ سب مل کر الفاظ #D-strong کی شکل میں کھڑے ہوئے۔ سینکڑوں لوگوں نے ڈورین کے لئے دل کا نشان بھی بنایا۔

سوشل میڈیا پر اب یہ ہیش ٹیگ، #D-strong بہت مقبول ہوچکا ہے اور دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین اسے ڈورین سے محبت کے اظہار کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ آپ بھی اس ہیش ٹیگ کے زریعے ڈورین کو پیغام بھیج سکتے ہیں اور اسے بتا سکتے ہیں کہ آپ بھی اس کے دوست ہیں۔ ننھے ڈورین کا کہنا تھا کہ اسے یہ دیکھ کر بہت مزہ آرہا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ اس کے ساتھ ہیں، اب وہ خود کو اکیلا محسوس نہیں کرتا بلکہ خود کو بہت طاقتور اورمضبوط محسوس کرتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس