عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 94

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 94
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 94

  

جان پلیولوگس کی وفات کے بعد اس کا چھوٹا بیٹا مینوئیل تخت نشین ہوا جو اس وقت شہنشاہ کی طرف سے بایزید کے دربار میں حاضر رہنے کا پابند تھا۔ اس طرح وہ گویا نظر بند تھا۔ باپ کی وفات کا سن کر وہ سلطانی دربار سے فرار ہوا اور قسطنطنیہ پہنچ کر تخت سنبھال لیا۔ بایزید کو اس کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری۔ چنانچہ غصے میں آکر بایزید نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کر لیا۔ سات مہینے تک محاصرہ جاری رہا۔ اور پھر اس نے دس سال کے لئے صلح کرکے محاصرہ اٹھا لیا۔ اس محاصرہ کی شرائط صلح بہت سخت تھیں۔ سالانہ خراج کی رقم تیس ہزار طلائی کراؤن مقرر ہوئی۔ مسلمانوں کے لیے قسطنطنیہ میں ایک شرعی عدالت قائم کی گئی جس میں بایزید نے ایک ترکی قاضی مقرر کیا۔ اور کلیسائے مشرق کے اس مرکز یعنی قسطینیہ میں ایک عالیشان مسجد بھی تعمیر کی گئی جس کے میناروں سے توحید اسلامی کا اعلان ہونے لگا۔ 

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 93 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مینوئیل نے شہر کے سات سو مکانات بھی مسلمانوں کو دے دیئے ’’غلطہ‘‘ کا نصف حصہ بایزید کے حوالے کر دیا جس میں اس نے چھ ہزار عثمانی فوج متعین کر دی۔ شہر کے باہر انگور کے باغات اور ترکاریوں کے کھیت تھے۔ ان پیداوار کا عشر بھی عثمانی خزانہ کو دیا گیا۔ اسی وقت سے عثمانیوں نے قسطنطنیہ کو ’’اسلام بول‘‘ کہنا شروع کردیا تھا۔

شہنشاہ قسطنطین اپنے دو بھائیوں کے بعد ہی قسطنطنیہ کا شہنشاہ بنا تھا۔ قسطنطین سے پہلے قیصر جان پلیولوگس نامی ایک شہنشاہ اور بھی گزرا تھا۔ اس دوسرے ’’پلیو لوگس‘‘ کی وفات کے بعد قیصر قسطنطین دواز دہم تخت نشین ہوا۔ قسطنطین اگرچہ اپنے سابق حکمرانوں سے بہتر تھا۔ بہادر ، جنگجو اور کلیساؤں کے اتحاد کا حامی تھا۔ لیکن اسے صرف دکھائی دے رہا تھا کہ وہ سلطان محمد خان کا مقابلہ نہ کرپائے گا۔ پھر بھی شہنشاہ نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک قسطنطنیہ کی حفاظت کرے گا۔

’’جان جسٹینانی‘‘ کے جشن سے فارغ ہونے کے بعد شہنشاہ نے فصیل شہر کا طوفانی دورہ کیا اور فصیل کے مختلف مقامات کی از خود اپنی نگرانی میں تعمیر شروع کروائی۔

روم ایک الگ شہر تھا لیکن قدیمی ربط کی وجہ سے مسلمان اب بھی قسطنطنیہ کے بادشاہ کو قیصر روم ہی کہا کرتے تھے۔ قیصرہ روم کی یہ سلطنت چوتھی صدی عیسوئی میں قائم ہوئی تھی اور وقت وہ بھی تھا جب قیصر روم کی حکومت مشرق و مغرب میں دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ شہنشاہ قسطنطین بھی قیصر روم ہی تھا۔۔۔شاید آخری قیصر روم۔

قیصر نے کلیساؤں کی صلح تو کروا دی تھی لیکن فی الحقیقت اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی تھی۔ رومی اور یونانی کلیسا کے مابین اس قدر اختلافات تھے کہ ان کا اتحاد اب ممکن نہ رہا تھا۔ مجلس کے روز دونوں کلیساؤں کے پادری آپس میں بری طرح لڑ پڑے تھے۔ سپہ سالار گرینڈ ڈیوک نوٹاراس‘‘ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ کارڈنیل کی ٹوپی کے مقابلہ میں یہاں ترکوں کے عمامے دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ مجلس کے روز خود یونانی کلیسا کے مذہبی پیشوا دو جماعتوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک جماعت شہنشاہ کی طرفدار تھی جو چاہتے تھے کہ کلیسائے رومہ کے ساتھ اتحاد ہو جائے اور پوپ انہیں مدد فراہم کرے۔ دوسری وہ جماعت تھی جو ان سنگین حالات میں بھی کلیسائے رومہ سے اتحاد کرنے پر کسی طرح راضی نہ تھی۔ دوسری جماعت پہلی جماعت سے بڑی تھی چنانچہ اس جماعت کے گرجاؤں نے شہنشاہ کو مالی امداد دینے سے انکار کر دیا اور اس میں سے جو لوگ جنگ میں شریک ہو سکتے تھے ان کی ایک بہت قلیل تعداد نے شہر کی مخافظت کے لئے آمادگی ظاہر کی۔ قسطنطنیہ کی آبادی بہت زیادہ تھی لیکن متعصب یونانی کلیسا کے صرف چھ ہزار سپاہیوں نے بادل نخواستہ اپنی خدمات پیش کیں۔ ’’سپہ سالار نوٹاراس‘‘ بھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔ قیصر کو قسطنطینہ اپنے ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دیا۔ لیکن وہ ہمت ہارنے والا نہ تھا۔

جلد ہی اسے ایک خوشخبری ملی کہ اٹلی اور اسپین کے بہادر دستے ’’قسطنطین‘‘ کی مدد کو پہنچنے والے ہیں۔ اورپھر جس روز ’’کٹالونیا‘‘ اور ’’اراگن‘‘ کے فوجی دستے ’’گولڈن ہارن‘‘ کے ساحل سے آلگے تو قیصر روم کے تمام حوصلے جوان ہوگئے۔ اس کے بدن میں پارہ بھر گیا اور وہ سلطان محمد خان کو سبق سکھانے کے منصوبے بنانے لگا۔ مشرق اور مغربی یورپ کے عیسائی عوام مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ’’قسطنطنیہ‘‘ میں اکٹھے ہوگئے۔ لیکن عیسائی حکومتیں خصوصاً فرانس ، جرمنی،ہنگری اور پلینڈ نے اس موقع پر قیصر کی کوئی مدد نہ کی اور ایسی بے حسی اور بے پرواہی کا مظاہرہ کیا کہ پوری مسیحی تاریخ حیرت زدہ رہ گئی۔ دراصل گزشتہ دو چار صدیوں میں مسلمانوں نے بڑے برے صلیبی اتحادوں کو دندان شکن شکست دے کر کچھ ایسا خوفزدہ کر دیا تھا کہ اب یورپی حکمران مسلمانوں کے خلاف کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچتے۔ گزشتہ پینسٹھ سال کے اندر اندر ترکوں کو یورپ سے خارج کر دینے کی غرض سے انہوں نے چار مرتبہ مذہبی اتحاد کیا۔۔۔کسووہ (1389ء) ، بائیکوپولس (1396ء) ، وارنہ (1444ء) اور پھر کسووہ (1448ء) کی تباہ کن شکستیں ابھی تازہ تھیں۔ وہ ہر بار متحد ہو کر آئے تھے اور ہر بار انہیں حزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ ہر بار مسیحی اتحاد کا شیرازہ بندھ بندھ کر منتشر ہوا تھا۔ چنانچہ اس مرتبہ یورپی حکومتیں اس قسم کے مزید کسی تجربے کیلئے تیار نہ تھیں ۔ قیصر نے کلیساؤں کا اتحاد بھی کر کے دیکھ لیا تھا لیکن پھر بھی وہ ماضی جیسا صلیبی اتحاد تشکیل دینے میں ناکام ہوئے۔

وقت تیزی کے ساتھ گزرتا چلا جا رہا تھا 24اپریل1452ء کے روز شروع ہونے والا ’’رومیلی حصار‘‘ 28 اگست 1452ء کو مکمل بھی ہوگیا۔ شہنشاہ کے جاسوس جب اس کے پاس ’’رومیلی حصار‘‘ کے مکمل ہونے کی اطلاع لیکر پہنچے تو وہ مسلمان معماروں کی تیزی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اب گویا جنگ باقاعدہ شروع ہو چکی تھی۔ درندہ صفت ’’نارمن‘‘ کے جہاز آبنائے باسفورس کے شمالی حصے میں اور عثمانی بحریہ کے جہاز جنوبی حصے میں دندناتے پھررہے تھے۔ کبھی کبھار یہ آمنے سامنے بھی آجاتے۔ اور ایک دوسرے پر جلتے ہوئے تیر اور چھوٹی توپوں کی مدد سے گولہ باری بھی کرتے۔ ’’نارمن‘‘ کا ذاتی پڑاؤ مچھیروں کی بستی کے نزدیک ہی تھا۔ مچھیرے جو خود بھی یونانی عیسائی تھے اپنے لشکر کی خدمت بجا لانے میں کوئی کوتاہی نہ کرتے تھے۔ ’’باقو‘‘ کا تو سارا دن ہی اس بحری چھاؤنی میں گزرتا تھا۔ اس کے لمبے لمبے بال اب بھی اس کے ماتھے پر گرے رہتے۔ وہ لنگڑاتا ہوا چلتا اور رومی سپاہیوں سے عمدہ شراب ملنے کے لالچ میں دن بھر اسکے چھوٹے چھوٹے کام کرتا رہتا۔ اب تو نارمن کے ساتھ بھی اس کی اچھی خاصی شناسائی پیدا ہو چکی تھی۔

دو ماہ اسی طرح گزر گئے۔ سردیوں کا آغاز ہوا تو نارمن کی کارروائیوں میں کمی آگئی۔ یہ چٹانی علاقہ تھا۔ اور کوہ بلقان کی ٹھنڈی ہوائیں جن میں تیرکی سی تیزی تھی۔ رومی سپاہیوں کا خون سرد کرنے لگیں۔ بحیرہ روم میں شب و روز گزارنے والے یہ سپاہی ’’بحراسود‘‘ کی سرد ہواؤں سے نا آشنا تھے۔ نارمن کا زیادہ تر وقت ساحل پر ہی گزرنے لگا۔ ایک شام غروب آفتاب سے کافی دیر پہلے آسمان پر کالی کالی گھٹائیں جمع ہونی شروع ہوگئیں۔ شمالی ہوائیں چٹانوں کو بھی ٹھٹھرائے دیئے جا رہی تھیں۔ آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا۔ تھوڑی سی بوندا باندی شروع ہوئی تو نارمن اپنے خیمے کی طرف بھاگا۔ آج اس کا من پسند موسم تھا اور شراب خیمے میں پڑی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان پر کڑکتے ہوئے بادلوں کو دیکھا اور مکروہ انداز میں ہنس دیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ شباب سے لطف اندوز ہوئے کافی دن گزر چکے ہیں۔ خیمے میں پہنچ کر نارمن نے عمدہ شراب کی بوتل کھول کر منہ سے لگا لی۔ کچھ ہی دیر میں موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔

نارمن کا ذہن مسلسل کسی جوان جسم کے لمس پر لگا ہوا تھا۔ اس کا ایک سپاہی طشتری میں بھیڑ کی بھنی ہوئی ران لے کر حاضر ہوا تو نارمن نے اس سے کہا۔

’’ارے!۔۔۔یہ باقو مچھیرا کہاں مر گیا؟۔۔۔یہ بھنی ہوئی ران یہاں رکھ دو اور باقی مچھیروں کو ہمارے سامنے حاضر کرو۔‘‘

نارمن شرابیوں جیسے لہجے میں بولا۔ سپاہی الٹے قدموں خیمے سے باہر کی طرف بھاگا اور نارمن نے بھیڑ کی بھنی ہوئی ران اٹھا لی۔ اس کے منہ سے شراب کے بھبھکے آرہے تھے۔ 

(جاری ہے ... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -