عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 95

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 95
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 95

  

باہر زمستان کی سرد ہوا اور باسفورس کے ساحل کو جل تھل کرتی بارش ماحول کو ہیبت ناک بنانے کے لیے کافی تھی۔ کیونکہ رات شروع ہو چکی تھی۔ اور ان مشعلوں کے سوا جو خیموں کے اندر روشن تھیں۔ ہر طرف تیزی سے اندھیرا چھا رہا تھا۔ باقو مچھیرا آج جلد ہی گھر لوٹ گیا تھا۔ لیکن نارمن کے سپاہیوں نے اسے اس کی تاریک کوٹھڑی سے اس غضب کی سردی میں باہر نکالا اور شراب میں بدمست نارمن کے سامنے حاضر کر دیا۔ باقو سردی سے کانپ رہا تھا یا نارمن کے خوف سے، یہ اندازہ لگانا مشکل تھا۔ نارمن نے باقو کو دیکھا اور اپنے پاس رکھی بوتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’لو!۔۔۔اسے اٹھاؤ اور منہ سے لگا لو۔ تمہاری سردی ابھی دور ہو جائے گی۔ یاد رکھو! تم جیسے گھٹیا آدمی کو نارمن اپنی بوتل پیش کر رہا ہے۔ دیر مت کرو۔ ورنہ ہم غصے میں آجائیں گے۔‘‘

نارمن کی دھمکی تو اپنی جگہ پر تھی باقو کے لیے عمدہ شراب کی ایک بوتل کامل جانا ہی قیمتی خزانے کا مل جانا تھا۔ باقو بھوکے گدھ کی طرح جھپٹا اور جرمن کی اس عمدہ شراب کو تیزی کے ساتھ اپنے حلق میں انڈیلنا شروع کر دیا۔ آن کی آن میں باقو کی پلکیں بھاری ہو گئیں اور وہ ہر پریشانی کو بھول کر جل تھل کرتے موسم سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اتنے میں اسے نارمن کی آواز سنائی دی۔

’’کیا تمہاری بستی میں کوئی لڑ۔۔۔کی۔۔۔نہیں ہے؟ جو ہمارے کام آسکے۔ جو ہماری خدمت کر سکے۔ ہم مچھلی نہیں کھائیں گے۔ مچھلی پکڑنے والی مچھیرن کو کھائیں گے۔ جاؤ! ہمارے سپاہیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور اپنی بستی کی کسی جوانی کو اٹھا کر ہمارے خیمے میں لے آؤ ۔ اتنی یخ بستہ اور لمبی رات۔۔۔اور گھر سے دوری۔۔۔تم جانتے ہو۔۔۔سب کچھ جانتے ہو۔۔۔تم بے فکر ہو جاؤ۔ ہمارے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ ہم جسٹینانی کی فوج کے سالار ہیں ۔۔۔سپہ سالار نارمن ۔۔۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 94پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

باقو کی آنکھیں شراب سے بوجھل تھیں اور دماغ ماؤف تھا۔ اس نے شراب کے نشے میں بدمست ہو کر نوجوان لڑکی کا ذکر سنا تو اس کے تن بدن میں لذت کی لہر دوڑ گئی اور یکلخت اس کا ذہن نوجوان راہب کی محبوبہ روزی پر جا کر اٹک گیا۔ وہ شیطنیت سے بھرپور لہجے میں مسکرایا اور نارمن کی خدمت میں عرض کی۔

’’عظیم سالار!آپ بے فکر ہو جائیں۔ میں مچھیروں کی بستی کا ایک ایسا نگینہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا جسے دیکھ کر آپ کو گزشتہ زندگی کی ہر حسین لڑکی بھول جائے گی۔ محترم سالار! وہ ہماری بستی کی سب سے حسین لڑکی ہے۔ جس کی بھرپور جوانی شاید آپ کے لیے ہی اب تک محفوظ رہی۔ آپ میرے ہمراہ چند سپاہی بھیج دیجئے! میں ابھی اسے لے کر حاضر ہوتا ہوں۔‘‘

آسمان پر بجلیاں کڑک رہی تھیںَ اور زمستان کی یخ بستہ ہوائیں پتے پتے کا کلیجہ لرزا رہی تھیں جس وقت جنیوی سپاہیوں کا شیطانی دستہ باقو کے ہمراہ روزی کے مقدر پر بجلی گرانے کے لیے روانہ ہو رہا تھا ۔۔۔بارش پلے سے بھی زیادہ تیز ہو چکی تھی اور چھوٹے چھوٹے ندی نالے پر شور آواز کے ساتھ بہنے لگے تھے۔

۔۔۔

بوڑھا عباس ’’رومیلی حصار‘‘ میں ایک نئی مہم پر روانہ ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ اس کے جانبازوں نے اسے اطلاع دی تھی کہ آج عیسائی بحریہ کے سپاہی آبنائے باسفورس سے غافل تھے اور برفیلی ہواؤں کی شدت نے اسے ساحل پر خیمہ زن ہونے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ ان کے جہاز سمندر میں موجو تو تھے لیکن لنگر انداز تھے۔ نارمن کے کئی جہازوں میں سے سات اس وقت ترک بحریہ کی زد میں تھے۔ دو جہاز کھلی جگہ موجود تھے جبکہ باقی پانچ ساحل کے نزدیک لنگر انداز تھے۔ نارمن کے سپاہی آگ جلائے گپ شپ میں مصروف تھے ۔ عباس کے لیے یہ موقع شاندار تھا اور وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ عباس نے ارادہ کیا کہ وہ رات کے پہلے پہر مسیحی جہازوں پر حملہ آوار ہو کر انہیں نذر آتش کر دے گا۔ نارمن کے ساتھ سے زیادہ بحری جہاز براہ راست عباس کے حملے کی زد میں آسکتے تھے۔ اس قدر ٹھٹھرتی ہوئی رات میں نارمن اور اس کے ساتھ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ شمع توحیدکے پروانے یخ بستہ ہواؤں کی پرواہ کئے بغیر یوں ان کے جہازوں پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ ٹھیک اس وقت جب نارمن کے شیطانی ارادوں کی تکمیل کے لیے چند سپاہیوں کا دستہ ایک شیطانی مقصد کی خاطر بستی کی جانب روانہ ہوا تھا۔۔۔بوڑھے عباس کا ایک جہاز اور چند بادبانی کشتیاں۔۔۔مسیحی بیڑے کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ بوڑھے عباس کو اس کے جانباز سپاہیوں نے بڑھاپے کی وجہ سے بہت منع کیا کہ وہ اس سردی میں باہر نہ نکلے۔ لیکن وہ بوڑھا کہاں تھا۔۔۔وہ تو جوان تھا۔۔۔کیونکہ اس کا جذبہ ابھی جوان تھا۔

عباس کا ارادہ تھا کہ وہ مسیحی جہازوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ مسلمانوں کی بحری قوت میں اضافہ ہوسکے۔ لیکن لڑائی کی صورت میں اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ ان جہازوں کو آگ لگا دے گا۔ عباس مسیحی جہازوں کو بے خبری میں جا لینا چاہتا تھا۔ اور پھر ایک گھنٹے بعد ابنائے باسفورس کے نیلے پانیوں میں عباس کے جنگجو جہاز سرکتے نظر آئے۔ مسیحی ملاح اور سپاہی جہاز کے تہہ خانوں میں بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ جونہی عباس کو کوندتی ہوئی بجلی کی روشنی میں مسیحی جہازوں کے ہیولے دکھائی دیئے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو رکنے کا اشارہ کیا اور حکم دیا کہ جہازوں کے ساتھ بندھی کشتیاں کھول دی جائیں اور ہر کشتی میں سات سات شمشیر بکف سپاہی سوار ہو کر مسیحی جہازوں کی طرف بڑھیں۔ اس نے حکم دیا کہ انتہائی بے آواز اور خفیہ طریقے سے دشمن کے جہازوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگلے لمحے بیس سے زیادہ عثمانی کشتیاں باسفورس کے سینے پر رینگتی ہوئی دشمن کی جانب بڑھ رہی تھیں۔ طوفان بادو باراں پورے زوروں کے ساتھ جاری تھا۔ آسمان پر بادل گرج اور بجلیاں چمک رہی تھیں اور تیز ہوا کے جھونکے سمندر کی لہروں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ رہے تھے۔ لیکن عثمانی کشتیوں کے سوار کھلے آسمان تلے سرد ہوا کے تھپیڑے کھاتے ہوئے نارمن کے جہازوں کو گھیرنے جا رہے تھے۔ بوڑھا عباس نو عمر لڑکوں کی طرح ادھر سے ادھر دوڑتا پھر رہا تھا اور کشتیوں کے اس چھوٹے سے لشکر کو پوری مہارت سے لئے جا رہاتھا۔

جلد ہی درمیانی فاصلہ طے ہوگیا اور عباس کی کشتی پہلے مسیحی جہاز کے ساتھ آلگی۔ جہاز پر بے خبری کا عالم تھا۔ بادبان گرے ہوئے تھے اور لنگر سمندر میں لٹک رہے تھے۔ عباس نے اپنے ساتھ پانچ کشتیوں کے سواروں کو جہاز پر چڑھنے کا حکم دیا۔ باقی کشتیاں دوسرے مسیحی جہاز کی طرف بڑھیں جو تین سو گز کے فاسلے پر اس جہاز سے قدرے دور کھڑا تھا۔ عباس اور اس کے ساتھی بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کئے اپنی کشتیوں سے دشمن کے جہاز پر منتقل ہوگئے۔ یہ پینتیس افراد تھے۔ سب بارش کے پانی سے سر تاپا بھیگے ہوئے تھے۔ لیکن چرمی لباس نے ان کے جسموں کو گیلا ہونے سے بچا رکھا تھا۔ ان کے سروں پر آہنی خود اور جسموں پر زرہیں تھیں اور وہ پورے ساز و سامان کے ساتھ حملہ آور ہو رہے تھے۔ وہ کھٹکا پیدا کئے بغیر رینگتے ہوئے جہاز کے عرشے پر آئے اور پھر باری باری نیچے اترنے لگے۔ سب سے آگے عباس خود تھا۔ اور پھر اس کے تمام جانباز ایک ایک کرکے جہاز کے اندرونی احاطے سے میں گھس آئے۔ یہاں فرش پر چٹائیاں بچھا کر دو غلام ایک کونے میں سردی سے سکڑے پڑے تھے۔ یہ جہاز کو کھینے والے چپو بردار غلام تھے۔ شاید اپنی باری بھگتا کر بے سدھ پڑے سو رہے تھے۔ عباس نے ایک سپاہی کو ان کے سر پر کھڑے ہونے کا حکم دیا اور خود تہہ خانے کی جانب بڑھا۔ لیکن اس وقت تک عثمانی سپاہیوں کے بھاری بھر کم جوتوں کی دھمک نے تہہ خانے میں شراب پی کر غل غپاڑہ مچاتے ملاحوں اور سپاہیوں کو چوکنا کر دیاتھا۔ عباس کا دستہ برق رفتاری سے نیچے اترا تو مسیحی سپاہی بھی مسلح ہو چکے تھے۔ چنانچہ چند لمحے کے لیے لوہے سے لوہا ٹکرانے کی آوازیں طوفان بادو باراں کے شور پر حاوی ہوگئیں۔ شراب کے نشے میں دھت سپاہی عباس کے ساتھیوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور گاجر مولی کی طرح کٹ کر گرتے چلے گئے۔

اب جہاز پر عثمانی بحریہ کا قبضہ ہو چکا تھا۔ عباس نے لنگر اٹھانے کا حکم دیا اور جہاز کے بادبان کھلنے لگے۔ عباس تیزی سے عرشے پر آیا اور یہ دیکھ کر اسے اور زیادہ خوشی ہوئی کہ اس کے جانباز ساتھی مسیحی بیڑے کے دوسرے جہاز پر بھی قبضہ کر چکے تھے۔ عباس خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ اب اس کی نظر آسمانی بجلی کی مدد سے نارمن کے ساحل پر کھڑے باقی ماندہ پانچ جہازوں پر تھی۔ عباس کے بحری عقاب اپنے بوڑھے سالار کے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ دونوں مقبوضہ جہازوں کے بادبان کھل چکے تھے اور تیز ہوائیں انہیں ایک دوسرے کے نزدیک لا رہی تھیں۔ دونوں جہاز قریب ہوئے تو بوڑھے عباس نے کشتیوں اور جہازوں پر سوار اپنے جانباز سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ مسیحی بیڑے سے نظر بچاتے ہوئے ایک لمبا موڑ کاٹ کر مچھیروں کی بستی کے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی کوشش کریں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -