”کزن، وزن، اورحزن“

 ”کزن، وزن، اورحزن“
 ”کزن، وزن، اورحزن“

  

ایک محفل میں ایک صاحب بقراتیاں جھاڑرہے تھے۔ چنگھاڑ رہے تھے۔ گفتگو کرتے کرتے اپنی شکل بگاڑ رہے تھے۔ لوگ ان کی باتیں بہت توجہ سے سن رہے تھے۔ ایک صاحب کافی پڑھے لکھے تھے۔ وہ بھی کہیں سے آئے بیٹھ گئے اور پوری توجہ سے گفتگوسننے لگے۔ کافی دیر تک انہیں کوئی سر پیر سمجھ نہ آیا۔ انہوں نے ساتھ بیٹھے ایک شخص سے پوچھا کہ ”یہ صاحب کون ہیں“تو انہوں نے ان کا نام بتانے کی بجائے یہ بتاناشروع کردیا ”یہ صاحب فلاں بڑے صاحب کے کزن ہیں“۔ ہمارے صاحب دل گرفتہ ہوکر کہنے لگے ”پہلے تو ہمارے ہاں بندہ کی گفتگو کا وزن دیکھاجاتاتھا اب میرے خیال میں یہی دیکھاجاتا ہے کہ کون کس کا کزن ہے“۔

آج کل اپنے وزن اور دوسرے کے کزن پر نظر رکھنا ہی عقلمندی ہے لیکن اپنی کزن پر بھی نظر رکھ لینی چاہیئے کیونکہ ہمارے ہاں آدمی کو دارتک پہنچانے میں رشتے دار ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ اب ہمارے معاشرے میں لوگوں کا اپناقول وفعل بے معنی ہوتاجارہا ہے بس اسی بات کی اہمیت ہے کہ کون کس کا بیٹا ہے؟ کون کس کا کزن ہے؟۔ پہلے ہمارے ہاں آدمی کا وزن اس کے کردار سے کیا جاتاتھا اب آدمی کا وزن اس کے کردار سے زیادہ دوسروں کو لاچار کرنے کی صلاحیت سے کیاجاتا ہے۔ پہلے لوگوں کے خیالات وزنی ہوتے تھے۔ اب لوگوں کے تعلقات وزنی ہوتے ہیں۔ ایک شاعر نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھاکہ تمام لوگ اپنے اپنے قبیلے کے ساتھ تھے بس اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر میرا نہ تھا۔ ایک اور صاحب کو کہنا پڑا کہ ”قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو“۔ ہم نے جنگلوں کا جو حال کردیا ہے پتہ نہیں وہاں بھی دیوانے دو بیٹھیں تو ان کی خوب گزرتی ہے یا ان پر خوب گزرتی ہے۔

سوچنے والے آدمی کیلئے تو اب ہمارے ہاں زندگی کی ہر گھڑی اتنی کڑی ہے کہ سوچنے والے دیوانے خود ہی گزر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے قبیلے اس لیئے بنائے ہیں کہ لوگ پہچانے جائیں اور ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبیلے اس لیئے بنائے ہیں کہ صرف چند قبیلوں کے لوگ چاہے اورسراہے جائیں۔ کسی بڑے آدمی کا کزن ہونے میں قطعاًکوئی حرج نہیں لیکن اگراپنی گفتگو میں کوئی وزن ہویا بندہ کے کردار کا اپنا بھی کوئی وزن ہو تو اس میں بھی قطعاًکوئی ہرج نہیں۔کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ہاں تمام لوگ آپس میں بہن، بھائی ہوتے تھے جیسے چچازاد بھائی، چچازاد بہن، خالہ زاد بھائی وغیرہ وغیرہ اب مگر ہمارے کزنز ہوتے ہیں۔ فرسٹ بھی کزن، سیکنڈ بھی کزن اور تھرڈ بھی کزن پھر بھی کچھ لوگوں کوشکو ہ ہے کہ ہم ماڈرن نہیں ہوئے۔ بعض اوقات وزن اور کزن دونوں حزن کا باعث ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کزن اپنا تمام تر وزن کسی اور کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں اور اپنے کزن کو بے وزن کردیتے ہیں۔ ہمارے زمانہ طالب علمی کے دنوں میں بہت سارے لوگ اپنے اپنے کزنز سے پیار کرتے تھے اور بہت سارے لوگ جس سے پیار کرتے تھے دنیا انہی کو ان کا کزن سمجھتی تھی اور وہ بھی دنیا داروں کی سمجھ میں اضافہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے تھے۔  ایک انتہائی رجعت پسند علاقے میں مردوزن کا پبلک ٹرانسپورٹ میں ساتھ ساتھ والی سیٹوں پر بیٹھنا انتہائی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ایک دن ایک مشکوک صورت آدمی ایک انتہائی اسٹائلیش خاتون کے ساتھ نہ صرف بیٹھے ہوئے تھے بلکہ خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔

ایک بزرگ نے انتہائی غصے سے پوچھا ”آپ لوگ آپس میں کیا لگتے ہیں؟“۔ صاحب نے انتہائی فخریہ لہجے میں کہا ”خاتون میری کزن ہیں“۔ بزرگ بولے ”لگتا تو نہیں ہے“۔ پیچھے سے آوازآئی ”بالکل ہوں گی۔ پچھلے سال یہ میری بھی کزن تھیں“۔ بعض لوگ بڑے خودار ہوتے ہیں وہ کسی پر اپنا وزن نہیں ڈالنا چاہتے تو بعض لوگ اپنا وزن کم نہیں کرنا چاہتے۔ ایک صاحب  انتہائی اعلی افسر بنے تو انہوں نے اپنا وزن انتہائی کم کرلیا۔ دوستوں کی محفل میں ایک دوست نے انہیں اپنا وزن کم کرنے پر مبارکباد دی تو ساتھ بیٹھے ایک مشترکہ دوست کہنے لگے ”سر! اپنا وزن تو ہر کوئی کم کرلیتا ہے۔ ہمارے دوست جب سے انتہائی اعلیٰ افسر بنے ہیں ان کی نظر میں ہر کسی کا وزن کم ہوگیا ہے۔ یہ ہنرکسی کسی کونصیب ہوتاہے“۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ کہیں ایک پاگل رہتاتھا جو انتہائی موٹا تھااور بہت تیز دوڑتاتھا۔ سننے والے ایک صاحب نے حیرت سے پوچھا ”اگروہ انتہائی موٹا تھاتو بہت تیز کیسے دوڑسکتاتھا؟“  انہوں نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ”پاگل جوتھا“۔

بعض لوگ اپنے وزن اور اپنے کزن پر غور نہیں کرتے انہیں ہمیشہ دوسروں کے وزن اور کزن کاحزن رہتاہے۔حزن بھی بہت عجیب چیز ہے۔ بعض لوگ طبیعتاً خوش مزاج ہوتے ہیں اور بعض اُداس رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ منیر نیازی نے تو کہا تھا کہ ”وہ جس شہر میں بھی رہتے ہیں اُکتائے ہوئے رہتے ہیں“۔ جبکہ ہمارے اکثر لوگ جس شہر میں بھی رہتے ہیں مرجھائے ہوئے رہتے ہیں۔ ایک انتہائی دبلے پتلے اور اوسط سمجھ بوجھ کے مالک شخص کو سماج سدھار اور اسٹیج پر اپنے نام کی پکار کا بہت شوق تھا۔ ان کو مگر اکثر سرکاری اجلاسوں میں بلایا نہیں جاتاتھا۔ اُن کو اس کی وجہ سمجھ نہ آتی تھی۔ ایک دن اُن کے ایک جاننے والے عقلمند آدمی نے انہیں مشورہ دیا کہ ”ابھی آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پہلے اپناوزن بڑھاؤ“۔ وہ ایک سال کے عرصہ میں ڈیڑھ من سے ڈھائی من کے ہوگئے مگر انہیں اجلاسوں میں پھر بھی نہ بلایاگیا۔ بہت مدت بعد انہیں سمجھ آئی کہ مادہ کی طرح وزن کی بھی بہت ساری اقسام ہیں۔ وزن، کزن اور حزن کی اقسام پر ہم سب کو تحقیق کرنی چاہیئے تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ 

مزید :

رائے -کالم -