یومِ شہدائے میوات

یومِ شہدائے میوات
یومِ شہدائے میوات

  

1947ء میں میوات پر ڈھائے گئے مظالم میں 19اگست کی خاص اہمیت اس لئے ہے کہ اس دن الور کی ریاستی فوج اور ہندودھاڑنے کالا پہاڑ(اراولی) میں نہتے میوؤں کو گھیر کر ان کا بلادریغ قتل عام کیا تھا۔ مارچ 1947ء سے میوات میں فساد شروع ہوا اور ہندوؤں نے لشکر بنابنا کر میوؤں کو قتل اور ان کی جائیدادوں سے بے دخل کرنا شروع کر رکھا تھا، مگر میو اس امید پر کہ آزادی کی تاریخ آنے پر امن ہو جائے گا، اپنے علاقے میں ڈٹے رہے۔ اس طرح ریاستی افواج اور ہندودھاڑ کے ہاتھوں میوؤں کا قتل عام جاری رہا، گاؤں لٹتے رہے اور اگست کی پندرہ تاریخ بھی گزر گئی، مگر میوؤں کی امید کے مطابق ذمہ دار حکومت کے قیام کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہی رہے۔ اس دوران صرف یہ ہوا کہ الور اور بھرتپور کی ساری آبادی میوات کالا پہاڑ کے دامن میں سما گئی۔ وہ پہاڑ جس میں درندے دہاڑتے پھرتے تھے، اب انسانوں کا مسکن بن چکا تھا۔ کچھ لوگ چوری چھپے اپنے گھروں سے بچا کھچا سامان بھی اس پہاڑی پناہ گاہ میں لے آئے۔

یہاں میوؤں نے چند دن ہی چھپ کر گزارے ہوں گے کہ ریاستی افواج نے مقامی چوہڑوں اور چماروں کی مدد حاصل کرلی جنہیں شودر ہونے کی بنا پر اونچی ذات کے ہندوؤں نے کبھی منہ نہیں لگایا تھا، مگر اب یہ چوہڑے چمار بھی میوؤں کے خلاف اتحاد کا حصہ تھے۔ یہ میوؤں کی پہاڑی پناہ گاہوں کے راستوں سے بھی واقف تھے۔ ان لوگوں کی وجہ سے پہاڑی راستوں اور ندی نالوں میں کھلے آسمان تلے قائم میوؤں کے بے ترتیب کیمپوں تک ریاستی فوج کی رسائی ہوگئی۔ 18اگست کو ایک ہوائی جہاز نے کالا پہاڑ اور ملحقہ ندی نالوں پر، جہاں میو چھپے ہوئے تھے، نیچی پرواز میں گشت کیا۔پہلے تو لوگ اسے حکومت ہند کا تفتیشی جہاز سمجھ کر خوش ہوئے، مگر جہاز کے گشت کے دوران ہی جب فوج نے موضع کولانی میں فائرنگ کرکے کچھ میوؤں کو شہید کردیا تو لوگوں کو سمجھ آئی کہ یہ تفتیشی نہیں، بلکہ جاسوسی کرنے والا جہاز تھا جس کی نیچی پرواز کا مقصد میوؤں کے پہاڑی کیمپوں کی نشاندہی تھی۔

پریشانی کے عالم میں میوؤں نے فوراً کالا پہاڑ عبور کرکے انگریزی علاقے میں جانے کا فیصلہ کیا، مگر پہاڑ کافی اونچا اور پناہ گزینوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، نیز پہاڑی گزرگاہیں فوج کے قبضہ میں تھیں، لہٰذا تمام لوگ ایک رات میں اپنے سامان سمیت پہاڑ عبور نہ کرسکے اور زندگی کی طرف فرار کی اسی کوشش میں صبح ہوگئی۔19اگست کی صبح ریاستی فوج اور ہندو دھاڑ نے پہاڑ عبور کرنے کی کوشش میں مصروف میوؤں کی ناکہ بندی کرکے فائرنگ شروع کردی۔میوؤں نے پتھروں کے پیچھے اور جھاڑیوں میں پناہ لینے کی کوشش کی، مگر رائفلوں اور مشین گنوں کی گولیوں کے آگے کوئی جائے پناہ تھی نہ کوئی جائے فرار۔ نہتے میو اپنے بال بچوں سمیت چاروں طرف سے ہندو سورماؤں کے گھیرے میں تھے۔ یہ مسلسل فائرنگ سہ پہر ساڑھے تین بجے تک جاری رہی، یہاں تک کہ حملہ آوروں کو یقین ہوگیا کہ اب کوئی ذی روح زندہ باقی نہیں بچا۔ اس کے بعد لوٹ مار شروع ہوئی۔ زیور، کپڑے، مویشی یا نقد روپیہ جو بھی ان مقتول و مجروح میوؤں کے پاس تھا لوٹ لیا گیا۔ جو لوگ فائرنگ سے بچ رہے تھے انہیں گرفتار کرکے زندہ جلادیا گیا۔ جب فائرنگ کرنے والے مقتل کی طرف دوڑے اور اندازہ لگایا کہ تقریباً ساڑھے چار ہزار میو اس فائرنگ سے جاں بحق ہوچکے تھے۔ بعد میں ہندو ملٹری نے پہاڑ پر اتنا سخت پہرہ لگادیا کہ کسی کو اس علاقے میں جانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ کم سن بچے، ضعیف العمر بوڑھے اور زخمی جو اس پہاڑ اور جنگل میں رہ گئے تھے، بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ ان کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔ نہ کوئی جنازہ پڑھانے والا نہ دفن کرنے والا، تمام لاشیں یونہی بے گوروکفن پڑی سڑتی رہیں، اس بدقسمت قافلے سے بہت کم لوگ فیروز پور جھرکا پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

19اگست1947ء میو قوم کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ یوں تو میوؤں کی تاریخ قربانیوں اور شجاعت کی ایک مسلسل داستان ہے، اس سے قبل بھی میوؤں نے اپنے وطن کی حفاظت کے لئے لاکھوں جانیں قربان کی تھیں، مگر نہتے میوؤں کا شیر خوار بچوں، عورتوں اوربوڑھوں سمیت اس طرح بے دردی سے قتل ایک ایسا سانحہ ہے جسے بھلانے کے لئے شاید صدیاں درکار ہوں گی۔ اس واقعے میں اپنے پیاروں کو کھودینے والے اب تک اس غم کو نہیں بھلا سکے۔

مہاراجہ الور کے اے ڈی سی نے اس واقعے کے بارے میں ایک انٹروبو میں کہا: ’’میں نے آگے بڑھ کر پہاڑ پر فوج متعین کردی۔ نیچے وادی تھی جہاں سے انہوں( میوؤں) نے گزرنا تھا۔ ہم نے ہر شخص کو قتل کردیا۔ سبھی لوگ مارے گئے۔ اگلے چار دن تک ہم مردوں کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتے رہے۔ میرے آدمیوں نے دیہاتیوں کے ساتھ مل کر قبریں کھودیں اور لاشوں کو ان میں پھینک دیا۔ مردہ جانوروں اور انسانوں سے شدید بدبو آرہی تھی اور بیماریوں کا خطرہ تھا‘‘۔۔۔یہ واقعہ کالا پہاڑ میں واقع ڈھونڈ کی گھاٹی کے مقام پر پیش آیا تھا۔ اس گھاٹی کے ذریعے موضع باگھوڑہ کی طرف سے لوگ فیروز پور جھرکا شہر اور ڈھونڈ بھونڈ گاؤں کی طرف آتے ہیں۔ یہاں سے صرف پیدل آدمی یا گھوڑے ہی نکل سکتے ہیں، مگر فسادات میں لوگوں نے اپنی بیل گاڑیاں بھی ادھر سے گزاریں۔ موضع باگھوڑہ کے مل خاں باس اور کالا پہاڑ کے درمیان کٹی پھٹی زمین والا دشور گزار پہاڑی جنگل ہے، جسے میوبیٹہر کہتے ہیں اور کٹی پھٹی زمین کو گداؤڑا کہا جاتا ہے، یہی وہ علاقہ اور پہاڑ تھا جو 1947ء کی قیامت میں مظلومین میوات کی پناہ گاہ تھا۔

اس جگہ پہاڑ کئی کلو میٹر چوڑا ہے۔ ڈھونڈ کی گھاٹی کے ذریعے فیروز پور جھرکا کی طرف اترنے والے میوؤں کو ڈھونڈ کی گھاٹی اور فیروز پور جھرکا کی وادی میں فوج نے نشانہ بنایا تھا۔ یہاں قبل ازیں بھی چند ہزار میو بال بچوں سمیت بطور پناہ گزیں رہ رہے تھے۔ دیگر لوگوں کے علاوہ مسماۃ حسینی بیوہ دولت خاں اس قیامت صغریٰ کی چشم دید گواہ ہیں۔ وہ اس قافلے میں شامل تھیں، جسے کالا پہاڑ پر گھیر کرفوج نے فائرنگ کی تھی۔ ان کا بیان ہے: ’’الاؤڑہ سے نکل کر ہم کالا پہاڑ کی طرف چل دیئے تاکہ پہاڑ عبور کرکے انگریزی علاقے کے گاؤں ڈھونڈ بھونڈ پہنچ سکیں۔ راستے میں کالا پہاڑ کی گھاٹیوں کو الور کی فوج نے گھیرا ہوا تھا۔ انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ہزاروں میو مارے گئے۔ عورتیں، بچے، جوان، بوڑھے سبھی مرنے والوں میں شامل تھے۔

یہ اندوہناک واقعہ میرے سامنے رونما ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمارا خاندان محفوظ رہا۔ زخمی اور شہید تو وہیں رہے، باقی بھاگ گئے۔ ان زخمیوں اور شہیدوں کا مال و دولت بھی دھاڑ اور فوج نے لوٹ لیا۔ یہ لاشیں کئی دن تک پڑی رہیں۔ جنہیں بعد میں گڑھوں میں پھینک دیا گیا‘‘۔۔۔میوات کے انگریزی علاقوں کے سرحدی دیہات میں رہنے والے میو بھی اسی قسم کے حالات سے دو چار تھے، لہٰذا وہ بھی اپنے گھر بار چھوڑ کر اندرون میوات کی تحصیلوں فیروز پور جھرکا اور نوح ضلع گوڑ گاؤں میں آگئے۔ دوسری طرف الور اور بھرتپور کے بچے کھچے میو بھی مرتے مارتے انہی دو تحصیلوں میں آکرپناہ گزین ہوئے۔اس طرح پوری میوات سمٹ کر فیروز پور جھرکا اور نوح میں جمع ہو گئی۔

میوات بالخصوص ضلع گوڑگاؤں کی صورت حال ریاستی فوج اور ہندو دھاڑ کی طرف سے ڈھائے جارہے مظالم کے خلاف نواب زادہ لیاقت علی خان،راجہ غضنفر علی خاں اور میاں ممتاز دولتانہ نے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور دیگر انگریز حکام کو متعدد خطوط لکھے، مگر جب تک صورت حال کا صحبح ادراک کیا گیا اور انگریز افسر تعینات کرنے کا حکم آیا، تب تک میوات تباہ ہو چکی تھی۔ الور کے وزیر داخلہ نے میوؤں پر ڈھائے گئے مظالم کا دفاع کرتے ہوئے کہا:’’میو گڑبڑ کررہے تھے۔ میو اور دیگر مسلمان ایک علیحدہ ریاست منی پاکستان چاہتے تھے۔ تمام میو لیڈربشمول یسٰین خان علیحدہ ریاست چاہتے تھے جس کا پاکستان سے زمینی راستہ ملتا ہو۔وہ پاکستان چاہتے تھے۔ میوؤں اور ہندوؤں کی آپس میں لڑائی ہوگئی۔میوؤں نے ایک گائے قتل کردی تھی۔ بھرتپور والوں نے اُدھر سے اور ہم نے اِدھر سے میوؤں کو دبایا۔ ہم نے انہیں اس وجہ سے بے دخل کیا تاکہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ یہاں کے لوگ اس لئے مشتعل ہوئے کہ حیدر آباد سندھ سے ایک خصوصی ٹرین ہندو مقتولین کو لے کر آئی تھی، تب انہوں نے مسلمانوں کو مارنا شروع کردیا۔ اگر لوگ کسی کو مارنا چاہیں تو آپ کیا کرسکتے ہیں۔

مسلمان یہاں کیوں رہ رہے ہیں، جب ایک علیحدہ ملک پاکستان جو وہ چاہتے تھے، بن چکا ہے۔ انہیں وہاں چلے جانا چاہئے۔ یہ عوامی مطالبہ تھا کہ میوؤں کو پاکستان بھیجا جائے۔ وہ ہماری زمین پر کیوں رہیں۔ دھاڑ میں دیہات کے لوگ تھے وہ مسلمان کو لوٹنا اور مارنا چاہتے تھے۔ ہم نے مسلم لیگ کو ختم کردیا‘‘۔

مزید :

کالم -