A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 11

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 11

Jul 23, 2018 | 14:34:PM

آغا شورش کاشمیری

لاہور کا موجودہ چکلہ بوڑھے راوی کا ہم عمر ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ انحطاط سے اس کا آغاز ہوتا ہے ، اس سے پیشتر بازار وچوک چکلہ سے رسالہ بازار تک جس میں نئی اور پرانی انارکلی کا علاقہ شامل ہے۔ کسبیاں بیٹھا کرتی تھیں اردگرد مغلوں کی سرکاری عمارتیں یا اُن کے کھنڈر تھے ، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں شہر لاہور کا نصف چکلہ تھا۔ ممکن ہے رنڈیوں کی اس بہتات کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ لاہور ہمیشہ فوجوں کی گزر گاہ رہا ، جب غیر ملکی حملہ آور خیر پار سے ہندوستان میں داخل ہوتے تو اُن کا پہلا پڑاؤ لاہور ہوتا اس کے علاوہ سندھ ، سرحد اور دہلی کے فوجیوں نے بھی لاہور کو جولا نگاہ بنائے رکھا۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شہر فوج کی زد میں ہو تو اُس کی دولت ہی نہیں عصمت بھی لٹتی ہے۔ فاتحین چکلے بناتے اور مفتوحین کسبیاں جنتے ہیں۔ 

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔ قسط نمبر 10 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

برعظیم ہندوپاک کے چار بڑے چکلوں میں لاہور کا چکلہ چوتھے درجے پر تھا۔ بیس سال پہلے اقوام متحدہ کی ثقافتی کمیٹی نے مختلف ملکوں کی کسبیوں کے جواعداد و شمار فراہم کئے تھے اُس کے مطابق اوّل کلکتہ تھا دوم بنگلور سوم بمبئی اور چہارم لاہور۔ 

تب کلکتہ میں ایک لاکھ سے زائد رنڈیاں تھیں اور اُن میں لگ بھگ پچانوے فی صد ٹکیائیاں تھیں۔ جس ادارہ کا نام طوائف ہے وہ یا تو لکھنؤ میں رہا یا آگرہ میں یا دہلی میں یا پھر لاہور میں۔ 

لاہور کا بازار عام بازاروں کے طرز پر نہیں۔ کئی بازاروں اور کئی محلوں کے وصل سے ایک بڑے قصبے کے برابر ہے، تمام علاقہ کو اجتماعاً ہیرا منڈی کہتے ہیں۔ اس کی سطح لاہور کے ہر حصہ سے بلند ہے اگر راوی کا پانی مار کرتا ہوا اس سطح تک آجائے تو نہ صرف لاہور غرق ہوجاتا بلکہ ملتان تک کا سارا علاقہ ڈوب جاتا ہے۔ 

ہیرا منڈی ایک تکون کی طرح ہے ، عالمگیری مسجد اور اکبری قلعہ کے بائیں سمت بالا خانوں کی دور تک پھیلی ہوئی ایک قطار ہے جس میں ٹیڑھی ترچھی کئی قطاریں ضم ہوتی ہیں ، ٹکسالی دروازہ سے داخل ہوں تو سب سے پہلے نکڑ شاہی وقتوں کی ایک منزلہ مسجد ہے جس کے چہرے پر برص کے داغ ہیں ۔۔۔ سیاہ دیواروں پر سفید دھبے ۔۔۔ اس کی تعمیر مغلئی طرز پر ہے اس مسجد سے چند ہی قدم آگے رنڈیوں کے کوٹھے شروع ہوجاتے ہیں ۔

بازار شیخو پوریاں کے وسط سے محلہ سمیاں کو جو راستہ جاتا ہے اس کی دو یا چار دُکانیں چھوڑ کر ایک گلی مڑتی ہے جس کو ٹبی کہتے ہیں۔ یہ ایک بازار نما کوچہ ہے جس کا دوسرا سربازار چکماں کے آغاز پر ختم ہوتا ہے ۔ ایک پہلومیں بازار جج عبداللطیف ہے ، دوسرا موڑ ٹبی تھانے کے ساتھ سے ہو کر گذر تا ہے۔ ٹھیک وسط میں گیتی تھیٹر کا چوک ہے جہاں بازار شیخوپوریاں ، چیت رام روڈ ، شاہی محلہ ، ہیرا منڈی ، بارو دخانہ کا تھبی حصہ اور اڈہ شہباز خاں ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں۔ 

اس زہرہ گداز فضا کے صحیح تماشائی اورنگ زیب کی مسجد ۔۔۔ یا کعبہ کی بیٹی کے وہ بلند قامت مینار ہیں جو سالہا سال سے انسان کی بیٹی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ٹبی ایک دندانہ دار کوچہ ہے اس کے اُوپر نیچے دوکانیں اور مکان ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر عمر کی عورتیں بھری پڑی ہیں۔ 

یہ بازار نہیں ، ایک سنگین بستر ہے ، جہاں عورت کی عفت تھک کر ہمیشہ کی نیند ہوگئی ہے ۔ اس بوچڑ خانہ میں عورت قتل ہوتی ہے۔ اس کا گوشت بکتا ہے عورت کو گوشت ۔۔۔ میمنے کا گوشت ۔۔۔ دو شیزہ کا گوشت ۔۔ بروہ کا گوشت ۔۔۔ باکرہ کا گوشت ۔۔۔ آہوکا گوشت ۔۔۔ نمیار کا گوشت ۔۔۔ گائے گوشت ۔۔۔ ہیر کا گوشت ، سوہنی کا گوشت ، صاحباں کا گوشت ، سدا سہاگنوں کا گوشت ۔ اُن سہاگنوں کا گوشت جو سہاگ رات ہی میں بیوہ ہو جاتی ہیں۔ کسی بھی گاہک کے لئے کوئی قید نہیں، ہر بوٹی کی قیمت مقرر ہے۔ آٹھ آنے سے تین روپے تک ۔۔۔ آپ نے دام پوچھا اور پھر جیسا گوشت چاہا حرید لیا تازہ ، باسی ، جوان ، بوڑھا ، سُرخ ، سفید ، گوشت ہی گوشت جسم ہی جسم ؟

آپ کی چاندی اور عورت کی چمڑی ، اس منڈی کا اصل الاصول ہے ۔ہمیشہ سے تازہ مال آتا ہے۔

اس پیچدار مارکیٹ میں کہیں اور کوئی سیدھا نہیں ۔تمام بازار میں جوڑ ہی جوڑ ہیں ، وسط میں ایک چھوٹا سا چوک ہے۔ غربی حصہ میں ایک کٹڑی ہے اور کٹڑی سے ایک طرف تکون موڑ ہے اس موڑ پر حضرت سید قاسم شاہ مشہدیؒ کا مزار ہے۔ اس مزار کے پہلو میں مسجد ہے ۔مسجد کے دروازے پر عموماً تالا پڑا رہتا ہے۔ متولی کا کہنا ہے کہ جو لوگ چوری چھپے آتے ہیں وہ حضرت سید قاسم شاہؒ کے مزار کی دیوار کا سہارا لے کر مسجد کے عقب سے نکل جاتے ہیں۔ لیکن بعض کھلنڈرے مسجد کی اہانت کو محسوس نہیں کرتے اور اسی کو چور دروازہ بنا لیتے ہیں۔ 

حضرت سید قاسم ؒ شاہ رنجیت سنگھ کے ابتدائی زمانہ میں مشہد سے لاہور تشریف لائے تھے اور اس جگہ قیام فرمایا جہاں دفن ہیں۔ مزار کے پڑوس میں ایک کھلے صحن کا مکان ہے جس کا چوبی دروازہ اندر سے بند رہتا ہے سید اولاد شاہ گیلانی ایم اے جو آپ کی پوتی کے بیٹے ہیں ۔اس مکان میں رہتے ہیں۔ شاہ صاحب مدرس رہ چکے ہیں۔ تقریباً بیس سال تک ڈسٹرکٹ بورڈ ملتان میں سیکرٹری رہے۔ کئی کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ ٹبی اسم تصغیر ہے۔ ابتداء میں اس جگہ ٹبہ (ٹیلا) ہوتا تھا ، حضرت قاسم شاہؒ نے اس کو اقامت و عبادت کے لئے چُن لیا ، مسجد کی نیور کھی ، حجرہ بنوایا اور یاد اللہ میں مشغول ہوگئے ، تھوڑے ہی دنوں میں ان کے فقرو استغنا کا چر چا ہوگیا۔ 

انہی دنوں چیچو کی ملیاں (شیخوپورہ) کے بعض خانہ بدوشوں کے نشیب میں قیام کیا، یہ لوگ اپنے آپ کو پنجاب کی مختلف ذاتوں سے منسوب کرتے تھے ، ان کا کام چٹائیاں بننا اور چقین بنانا تھا۔ لیکن پیٹ کی مار صورتوں کے ساتھ سیر تیں بھی بگاڑ دیتی ہے ۔ان کی عورتیں خوبصورت تھیں ، ان سے چوری چھپے پیشہ کرنا شروع کیا۔ حضرت قاسم شاہؒ کے فرزند حضرت میرن شاہ ؒ جو اس وقت دس گیارہ برس کی عمر میں تھے ، اُن کی جھونپڑیوں میں شب کو گھس جاتے ، دیے گل کرتے اور چلاتے : ۔ 

’’سور آگئے سور ، سور آگئے سور ‘‘

اس پر چند لوگ حضرت قاسم شاہ ؒ کی خدمت میں پہنچے اور مرشد زادے کی شکایت کی ، شاہ صاحب نے فرمایا: 

’’میرن ! ان کے لئے دُعا کرو بددُعا نہ دو۔ سور بھی تو خدا کی مخلوق ہے ان خانہ بدوشوں ہی کی اولاد ہیرا منڈی کے پشتینی کنچنوں کی مورث ہے اور ان کی بڑی بڑی حویلیاں ہیں۔ 

جب حضرت میرن شاہ کا 1878ء میں وصال ہوگیا تو ٹبی کا نام کوچہ میرن شاہ رکھا گیا ۔ لیکن 1920 ؁ء یا 1921 ؁ء میں پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ علی گوہر نے اپنے نام سے منسوب کر لیا ، وہ انتقال کر گیا تو کوچہ گاڈیاں کہلایا اب ٹبی یا چکلہ کہتے ہیں۔ 

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزیدخبریں