وفاقی محتسب کی ”نا قابل یقین“ کارکردگی!

وفاقی محتسب کی ”نا قابل یقین“ کارکردگی!
وفاقی محتسب کی ”نا قابل یقین“ کارکردگی!

  


وفاقی محتسب کے میڈ یا اور تعلقا ت عا مہ کے کنسلٹنٹ خالد سیال سے میری یا د اللہ کو ئی 35 برس پر محیط ہے، اسلا م آباد جب بھی جا نا ہوتا ہے تو پہلے انہیں اطلا ع کر نا اپنا فر ض خیال کر تاہوں، اکثر ملاقاتیں ان کے گھر، پر یس کلب، کسی سیمینار یا کسی ریسٹو رنٹ میں ہو تی ہیں۔ گز شتہ دنوں اسلامی نظر یاتی کو نسل کے اجلا س میں شر کت کیلئے اسلا م آباد جانا ہوا تو میں وقفہ کے دوران خالد سیال کے پا س وفاقی محتسب کے دفتر میں چلاگیا، باتوں با توں میں انہو ں نے وفاقی محتسب کے بارے میں جو تفصیلات بتا ئیں وہ میرے لئے حیران کن تھیں، خصوصاً جب کہ ”احتساب کمیشن“ کی کارکردگی، سیاسی حوالے سے ”مشکوک“ اور ”مضحکہ خیز“ سمجھی جاتی ہے۔

خالد سیال نے بتا یا کہ وفاقی محتسب کا ادارہ آٹھ اگست 1983 ء کو قا ئم کیا گیا اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے اداروں میں بدانتظامی کا خاتمہ ہے، وفاقی محتسب سیکر ٹر یٹ اب تک لا کھوں شکا یت کنند گان کو مفت انصاف فراہم کر چکا ہے۔ آجکل سید طاہر شہباز وفاقی محتسب ہیں جو وسیع انتظامی اور عدالتی تجر بہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ سے ایک نیک نا م افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے گز شتہ ایک برس کے دوران ستر ہزار سے زائد شکا یات کے فیصلے کئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کم وبیش پا نچ چھ لا کھ افراد کو صرف ایک سال کے دوران خو شیاں فراہم کیں کیو نکہ ستر ہزار شکا یات کنند گان کے خاندانوں کے افراد کی تعدادکم از کم بھی پانچ چھ لا کھ تو بن ہی جا تی ہے۔ ظاہر ہے یہ لوگ وفاقی محتسب کو دعائیں تو دیتے ہی ہو نگے کیو نکہ ان میں اکثر یت غر یب شکایت کنند گان کی ہے۔

سچی بات ہے مجھے پہلی بار یہ معلو م ہو ا کہ وفاقی محتسب میں ہر شکا یت کا فیصلہ ساٹھ دن میں ہو جاتا ہے اور وہاں ہر کسی کو بلا امتیاز با لکل مفت انصاف ملتا ہے، جہا ں نہ کو ئی فیس ہے اور نہ ہی وکیل کی ضرورت بلکہ وہا ں وکلا ء کا داخلہ منع ہے۔ وفاقی محتسب ہی غریب شہر یوں کا وکیل ہو تا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہا ں مقد مات کا فیصلہ ہو نے میں نسلوں تک انتظار کر نا پڑتا ہو، وہاں ساٹھ دن میں ہر شکایت کا فیصلہ بظاہر نا قا بل یقین سی بات لگتی ہے۔ وفاقی محتسب میں شکا یت کر نا بہت آسان ہے، آپ راہ چلتے کا غذ کا کو ئی ٹکڑا پکڑیں کر اس پر چند سطور لکھ کر وفاقی محتسب کو ارسال کر دیں تو فوراً کا رروائی شروع ہو جا تی ہے، شکا یت کنند ہ اگر وفاقی محتسب کے دفتر نہ بھی جا ئے تو اسے گھر بیٹھے انصاف مل جا تا ہے۔۔۔۔۔ اب تو وفاقی محتسب نے موبائل ایپ بھی شروع کر دی ہے جس کے ذریعے شکا یت کر نا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ خالد سیال نے بتایا کہ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز غر یبوں کے بہت ہمدرد ہیں، انہوں نے پا کستان کے عا م شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فرا ہم کر نے کیلئے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے افسران کو ہدا یت کررکھی ہے کہ وہ تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز جا کر شکایت کنندگان کے قر یب ان کی شکا یات کی سماعت کر یں اور فوری طور پر ان کا ازالہ کریں۔

وفاقی محتسب نے عام شکا یت کنندگان کو ریلیف فراہم کر نے کے ساتھ ساتھ سپر یم کورٹ کی ہدا یت پر وفاقی حکومت کے اداروں کے نظام کی اصلا ح کیلئے بھی کار ہائے نما یا ں انجا م دئیے ہیں، کو ئی چا لیس کے لگ بھگ اداروں کے نظام کی اصلاح کیلئے متعلقہ شعبوں کے ما ہرین پر مشتمل کمیٹیاں بنا ئی گئیں جن کی قا بل عمل سفارشات پر مشتمل مطالعا تی رپو رٹیں بہت اہمیت کی حا مل ہیں۔ ان پر رپو رٹوں پر عملدرآمد کی نگرانی بھی وفاقی محتسب کر تے ہیں۔ صرف پنشنرز اور بیرون ملک پاکستانیوں سے متعلق کمیٹیوں کی سفارشات سے لا کھوں پنشنروں اور اسی لا کھ سے زائد بیرون ملک پا کستا نیوں کو فا ئد ہ ہو ا ہے۔ پاکستان میں پنشنرز صرف نیشنل بنک سے تنخواہ لے سکتے تھے، پنشنروں کو ہر ماہ اپنی پنشن وصول کرنے کیلئے گھنٹوں نیشنل بنک کے با ہر لمبی قطا روں میں کھڑا ہو نا پڑ تا تھا۔ وفاقی محتسب نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ا ور یہ ہدا یت کی کہ پنشنروں کی پنشن ان کے اکاؤنٹ میں بھیجی جا ئے اور وہ جب چا ہیں، اے ٹی ایم کارڈ یا چیک کے ذریعے رقم نکلوالیں۔

علا وہ ازیں وفاقی محتسب نے تمام سرکاری اداروں کو ہدا یت کی کہ اپنے ہا ں کم از کم گریڈ انیس کے افسر کی سر برا ہی میں ایک پنشن سیل قا ئم کیا جائے جو ریٹائر ہونے والے سر کاری ملا زم کی ریٹا ئر منٹ سے ایک سال قبل اس کی پنشن کے کا غذات مکمل کر نا شروع کر دے اور ریٹائر منٹ کے اگلے ہی روز اسے پنشن اور دیگر واجبات کا چیک دینے کو یقینی بنا یا جا ئے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہو لت کیلئے وفاقی محتسب نے پاکستان کے تمام بین الا قوامی ہوا ئی اڈوں پر ون ونڈو ڈیسک قا ئم کئے ہیں جہا ں بیرون ملک پا کستا نیوں سے متعلق با رہ سرکاری محکموں کے افسران چو بیس گھنٹے موجود رہتے ہیں اور مسا فروں کے مسا ئل کو مو قع پر ہی حل کر دیا جاتا ہے۔ وفاقی محتسب نے پا کستان کے تمام سفارتخانوں کو ہد ایت کر رکھی ہے کہ پا کستان کے سفیر ہفتے میں ایک دن بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے مختص کر یں اور ان کی شکایات سن کر ان کا فوراً ازالہ کر یں۔۔۔

یہ مختصر کالم اپنی تنگ دا مانی کے باعث وفاقی محتسب کے کارناموں کی تفصیلا ت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر تمام سر کاری ادارے وفاقی محتسب جیسے جذ بے کے تحت کام کر نے لگیں تو پاکستان ایک جنت بن سکتا ہے۔ میں نے خالد سیال سے کہا وفاقی محتسب کے بارے جو آپ بتا رہے ہیں، وہ واقعی قابل تعریف ہے، مگر اس کے بارے عوام میں آگاہی نہیں جس کی وجہ سے ان کے دکھوں کی دوا اور شکایات کا (کماحقہ) ازالہ نہیں ہو پاتا، آپ باقاعدہ آگاہی مہم چلائیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ اس کا، ہنگامہ آرا شہرت پانے والے ”احتساب کمیشن“ سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خالصتاً عوام کی داد رسی کا ادارہ ہے جو انصاف اور حق، آسان اور جلد فراہم کرا دیتا ہے۔“

مزید : رائے /کالم