ایل اے 3 ضمنی الیکشن، تحریک انصاف اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ، سیٹ کس نے جیتی ؟ غیر سرکاری نتیجہ آگیا

ایل اے 3 ضمنی الیکشن، تحریک انصاف اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ، سیٹ کس نے ...
ایل اے 3 ضمنی الیکشن، تحریک انصاف اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ، سیٹ کس نے جیتی ؟ غیر سرکاری نتیجہ آگیا

  



مظفر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آزاد کشمیر اسمبلی کے حلقہ ایل اے 3 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار نے میدان مار لیا،پی ٹی آئی کارکنوں کا چوک شہیداں میں جشن، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے،پھولوں کی پتیاں نچھاور، منوں مٹھاں تقسیم۔

 قانون سازاسمبلی کےحلقہ ایل اے تھری میرپور کےضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی آزادکشمیر کےصدراورسابق وزیراعظم بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے ن لیگ کے امیدوارچوہدری صہیب کےمقابلے میں واضح برتری حاصل کرتےہوئےمیدان مارلیا ہے۔119 پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق   سلطان محمود چوہدری نے 18079ووٹ کے ساتھ  فتح حاصل کر لی ہے جبکہ ان کے مدِ مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار صہیب سعید 14 ہزار 819 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہے۔سلطان محمود چوہدری کی کامیابی کااعلان ہوتےہی پی ٹی آئی کارکنوں نےچوک شہیداں میں فتح کی خوشی میں جشن منایااورڈھول کی تھاپ پربھنگڑے ڈالے ،کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور منوں مٹھاں تقسیم  کر کےرات دیر گئے تک شہر میں فتح کا جشن مناتے رہے ۔

حلقہ ایل اے تھری میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 59494 تھی جس میں مرد ووٹوں کی تعداد 32400 اور خواتین ووٹوں کی تعداد 27004 تھی۔ووٹنگ کاعمل صبح 8 بجے شروع ہوااور شام 5 بجے تک جاری رہا،پانچ بجے پولنگ ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا۔اس سے  قبل  انتخابات کے لیے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام پارٹیوں اورامیدواروں کو مکمل طورپرپابندی کی ہدایات دے رکھی تھیں تاہم بعض جگہوں پرجلوس لے جانے پرالیکشن کمیشن نے نوٹس لیتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر کوخلاف ورزی کرنے والوں کواپنے دفترطلب کرنے کی ہدایات دیں۔حلقہ بھرمیں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور پولنگ بلا  تعطل اوربغیرکسی وقفے کے جاری رہی۔ حق رائے دہی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کویقینی بنانے کے لیے زائدالمعیاد قومی شناختی کارڈ اورمہاجرین مقبوضہ کشمیر 1989-90 کے مہاجرکارڈز کوبھی تسلیم کیاگیا۔پولنگ سٹیشنوں پر خواتین ووٹرزکی تعداد بھی نمایاں رہی۔ پرامن انتخابات کے لیے حلقہ کو 8 زونز اور20 سیکٹروں میں تقسیم کیاگیا۔ ہرزون کی نگرانی کے لیے الگ سے مجسٹریٹ اور پولیس تعینات کی گئی۔ کل 119 پولنگ سٹیشن اور 175 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے جہاں پولیس کی مسلح نفری تعینات کی گئی۔ مجموعی طورپر 2719 پولیس اہلکاران اور افسران نے فیلڈ ڈیوٹی سرانجام دی جبکہ 34 موبائل سکواڈ بھی ہنگامی طورپر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی جگہ پرجانے کے لیے مختلف پولنگ سٹیشنوں کے باہردورہ کرتے رہے۔ انتخابات کے لیے قائم زونز کی نگرانی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدہ کے افسر اورسیکٹرانچارج ڈی ایس پی / اے ایس پی کے عہدہ کے افسرنے کی۔ حساس پولنگ سٹیشن پرانسپکٹر کے عہدہ کے افسرکو20 پولیس اہلکاران کی نفری کے ساتھ تعینات کیاگیا۔ ہرسیکٹر انچارج کی نگرانی میں کم از کم15 پولنگ سٹیشن دیئے گئے۔ الیکشن کمیشن کے اعلی حکام،کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگرضلعی اور پولیس حکام دن بھرگشت پررہے اور پرامن شفاف انتخابات کااہم اور حساس ترین معرکہ سرانجام دیا۔

مزید : سیاست /علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد /میرپور /Breaking News /اہم خبریں