مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر3

مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر3
مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر3

  

تحریر: سلیم خان ۔۔۔۔ گاندھی جی کی عینک

یہ تم نے پتہ کی بات کہی۔ گاندھی جی یہی چاہتے تھے کہ ساری قوم ان کی مانند ہو جائے۔ 

ان بندروں کی مانند ؟ ہم نے حیرت سے پوچھا 

جی ہاں کیاتم نے ان بندروں کو کوئی معمولی چیز سمجھ رکھا ہے کیا ؟ اگر گاندھی جی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتا تو آج کے سارے مسائل حل ہو چکے ہوتے بلکہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ 

لیکن جناب مجھے اس دور کے سارے مسائل سے کیا غرض میرا تو ایک آسان سا مسئلہ ہے۔ اس بات کا پتہ چلانا کہ آخر گاندھی جی کے چشمے کی چوری کی خبر کو اتنے دنوں تک صیغ? راز میں کیوں رکھا گیا؟ کیا اس سوال کا کوئی جواب آپ کے یا گاندھی جی کے ان تین بندروں کے پاس موجود ہے ؟ 

کیوں نہیں ایسا کوئی سوال نہیں ہے جس کا جواب ہم چاروں نہیں جانتے۔ دانشور صاحب نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو ان بندروں کے ساتھ شامل فرما دیا۔ 

مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر2  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

آپ لوگ تو سب جانتے ہی لیکن میں نہیں جانتا اس لئے برائے مہربانی مجھے بھی از خود یا ان کے توسط سے بتلا دیجئے۔ 

کاش کہ تم میں چھٹانک بھر عقل ہوتی اور تم اس کا استعمال کر کے خودبخود اپنے اس سوال کا جواب جان لیتے۔ 

یہ سن کر ہمارا پارہ چڑھ گیا اور ہم بولے ٹھیک ہے جناب ہم تو آپ جیسے دانشور پرشاد ہیں نہیں اور نہ ان بندروں جیسے عقلمند اس لئے اب اجازت دیجئے ہم اس سوال کا جواب کسی اور سے معلوم کر نے کی کوشش کر یں گے۔ اب ہمیں آپ اجازت دیں۔ 

یہ سن کر سنکی لال اگروال صاحب آگ بگولہ ہو گئے اور کہنے لگے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ یہاں سے سنتشٹ ( مطمئن) ہوئے بغیر چلے جائیں اور ساری دنیا میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے پھریں کے ہم اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں یہ تو ہماری توہین ہے 

لیکن حقیقت بھی ہے۔ ہم نے سر جھکا کر کہا 

جی نہیں یہ حقیقت نہیں ہے ہم ہر سوال کا جواب جانتے ہیں ہم نے گاندھیائی فلسفہ کی تحقیق میں اپنی عمر کھپا دی ہے۔ 

اچھا اگر آپ واقعی جانتے ہیں تو جواب کیوں نہیں دیتے ؟ 

وہ بولے دیکھو یہ پہلا بندر کس حالت میں ہے ؟ 

ہم نے اسے غور سے دیکھا اور کہا یہ تو آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ اسے عینک کی کوئی ضرورت نہیں۔ 

وہ ڈانٹ کر بولے تم سے یہ کس نے پوچھا کہ اسے کس چیز کی ضرورت ہے اور کس کی نہیں جس قدر سوال کیا جائے اسی قدر جواب دو کیا سمجھے ؟ 

ہم نے کہا سرکار غلطی ہو گئی کاش کے ان میں سے کسی بندر نے سر پر بھی ہاتھ رکھا ہوتا؟ 

سر پر ؟سر پر کیا ہے ؟ 

اوپر تو نہیں اندر دماغ ہوتا ہے۔ ہم اس کا استعمال نہیں کرتے اور فاضل جواب نہ دیتے۔

 (جاری ہے)

۔

سلیم خان کی یہ تحریر ’کتابین اردو لائبریری‘ کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے ، قارئین اس کا مطالعہ وہاں بھی کرسکتے ہیں۔ 

مزید :

کتابیں -مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر -