مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر2

مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر2
مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر2

  

تحریر: سلیم خان ۔۔۔۔ گاندھی جی کی عینک

وہ ہمارے اس سوال پر چونک پڑے اور بولے آپ چوکی نہیں جانتے ؟ ارے میز سمجھ لیں ایسی میز جس کے پیچھے کرسی نہ ہو ؟

اچھا تو کیا انسان اس کے پیچھے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے ؟ 

ارے نہیں بیٹھ کر میرا مطلب زمین پر بیٹھ کر۔ گاندھی جی زمینی آدمی تھے اس لئے زمین پر بیٹھ کر اپنے سارے کام کیا کرتے تھے۔ 

گویا گاندھی جی انہیں آج کل کے سیاستدانوں کی طرح کرسی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ؟

جی نہیں وہ تو بے غرض مہاتما تھے 

 لیکن آپ ان نے بندروں کے بارے میں بتلا رہے تھے ؟ کیا وہ اب بھی حیات ہیں ؟ ان کی عمر کیا ہو گی؟ہم نے سوال کیا

مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ سن کر سنکی لال اگروال صاحب کا پارہ چڑھ گیا وہ بولے آپ تو بالکل جاہل اور کند? نا تراش معلوم ہوتے ہیں۔ وہ بندر کبھی بھی حیات نہیں تھے وہ تو ان کے مجسمے تھے جو نہ زندہ ہوتے ہیں اور نہ مرتے ہیں اسی لئے اب بھی موجود ہیں 

اچھا تو وہ پتھر کے بت چشمے کی چوری کا راز فاش کریں گے ؟ 

ارے بھئی وہ بندر نہیں بولیں گے اور اگر بولیں بھی تو ہم ان کی زبان کیونکر سمجھ سکتے ہیں 

تو پھر آخر اس سوال کا جواب کون دے گا ؟

میں دوں گا۔ 

اور وہ بندر کیا کریں گے ؟

وہ! وہ کچھ نہ کریں گے میں ان کی مدد سے جواب دوں گا ؟

اچھا تو آپ ان سے پوچھ کر جواب دیں گے ؟ لیکن ابھی تو آپ نے کہا کہ ان کی زبان آپ نہیں سمجھتے 

ارے بھئی مدد کا مطلب پوچھنا نہیں ہوتا یہ کہہ کر انہوں نے اپنے میز کی دراز سے تین بندروں کے مجسمے کو نکالا اسپر کافی گردو غبار چڑھا ہوا تھا اسے صاف کیا اور پوچھا اچھا بتلاؤ کہ یہ کیا ہے ؟

یہ ! یہ تو وہی تین بندر ہیں جن کا ابھی آپ ذکر کر رہے تھے 

اچھا یہ کیا کر رہے ہیں ؟

یہ سوال مشکل تھا ہم نے کہا یہ کچھ بھی نہیں کر رہے۔ اصلی بندر ہوتے تو کچھ نہ کچھ کرتے۔ یہ بے جان بندر کیا کر سکتے ہیں بھلا ؟

اصل میں تم صرف آنکھوں سے دیکھنے کا کام لیتے ہو دماغ سے سوچنے کا کام نہیں لیتے اسی لئے یہ جواب دے رہے ہو۔ 

مجھے ان کی بات پر غصہ آیا میں نے کہا صاحب میرا کام سوال کرنا ہے اور جواب دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ پچھلے نصف گھنٹے سے میرے ایک معمولی سوال کا جواب دینے کے بجائے مجھے الجھائے ہوئے ہیں۔ 

تم کافی جلد باز اور بے صبر قسم کے انسان ہو مفکر نے متفکر ہو کر کہا۔ یہ پوری قوم گزشتہ نصف صدی سے اس بھول بھلیاں میں الجھی ہوئی ہے اور مطمئن ہے جبکہ تم صرف آدھے گھنٹے کے اندر بے چین ہو گئے۔ 

میں نے کہا صاحب اس سے پہلے کہ میں ان بندروں میں شامل ہو جاؤں آپ میرے سوال کا جواب دے دیں ورنہ یہ تین کے بجائے چار ہو جائیں گے۔ 

(جاری ہے )

مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر۔۔۔ قسط نمبر3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

۔

سلیم خان کی یہ تحریر ’کتابین اردو لائبریری‘ کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے ، قارئین اس کا مطالعہ وہاں بھی کرسکتے ہیں۔ 

مزید :

کتابیں -مہاتماگاندھی کی عینک اور بندر -