تاریخ کا وہ ظالمانہ معاہدہ جس کی دستاویزات اللہ کے حکم سے دیمک چاٹ گئی ، رسول اللہﷺ کو ساتھیوں سمیت تین سال تک محصور رکھنے والوں نے اس میں کیا لکھا تھا؟ آپ بھی جانئے

تاریخ کا وہ ظالمانہ معاہدہ جس کی دستاویزات اللہ کے حکم سے دیمک چاٹ گئی ، رسول ...
تاریخ کا وہ ظالمانہ معاہدہ جس کی دستاویزات اللہ کے حکم سے دیمک چاٹ گئی ، رسول اللہﷺ کو ساتھیوں سمیت تین سال تک محصور رکھنے والوں نے اس میں کیا لکھا تھا؟ آپ بھی جانئے

  


قریش مکہ نے جب آقائے دوجہاں ﷺ کا سوشل بائیکاٹ کیاتو اس کا ایک عہد نامہ لکھ کر محفوظ کردیا اور قسم کھائی کہ جو سردار و معزز قریش اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا ،اسے بھی مسلمانوں کی طرح سخت سزا دی جائے گی۔یہ عہد نامہ تاریخ کا سفاک ترین معاہدہ تھا جس نے انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیں اور اس کے ساتھ کیا ہوا ،قریش مکہ اسکا انجام دیکھ کر کانپ اٹھے تھے ۔

آپﷺ اپنے جانثاران کے ساتھ بنو شعب کی گھاٹی میں تین سال محصور رہے تو قریش مکہ کی اس سفاکی پر آسماں بھی رو دیا تھا ۔سرکار دوجہاں ﷺ کے صبر اوستقامت کے اس دور کے بارے ابن سعد اور بیہقی کی روایات ہیں کہ محصورین کی زبوں حالی اور بے چار گی یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے بچے بھوک سے روتے اور بلکتے اور ان کے رونے اور چیخنے کی آوازیں شعب ابی طالب سے باہر بھی سنائی دیتیں اور آس پاس کے پڑوسی بے چین اور مضطرب ہو جاتے لیکن کچھ سنگدل اور بدبخت ایسے بھی تھے جو معصوم بچوں کی چیخ پکار سن کر خوشی کا اظہار کرتے۔تنگی و عسرت ، قید و بند اور فاقہ کشی کا یہ ہولناک دور موسیٰ بن عقبہ کے بیان کے مطابق تین سال جاری رہا۔

ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہؓ نے ابتلا و آزمائش کا یہ سخت ترین دور بڑے صبر اور حوصلے سے گزارا، حق کی راہ میں آنے والی تمام تکلیفیں اور پریشانیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ مکے کی وہ خوشحال ترین خاتون جو معاشرے میں معزز و محترم ہونے کی وجہ سے ’’سیّدہ ‘‘ کے نام سے مشہور تھیں، اپنے رفیق زندگی کے ساتھ پیکر تسلیم و رضا بنی ہوئی تھیں اور اپنی فطرت اور طبعی بلند حوصلگی سے گرفتار ان مصیبت و اذیت کودلاسا دینے اور ان کا حوصلہ بلند کرنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔

جسم کی کمزوری ، قوت سماع میں کمی ہوتو یہ آسان روحانی”نسخہ“ آپ کیلئے ہے

آخر کار مظلوموں کی حد سے بڑھی ہوئی مظلومیت اور معصوم بچوں کی دلوں کو ہلا دینے والی بلبلاہٹ اپنا رنگ لا کر رہی۔ قریش کے وہ لوگ جن کے بنو ہاشم اور بنو مطلب سے رشتے داری کے تعلقات تھے، ان کی اس الم انگیز حالت زارپر خون کے آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکے۔ کچھ رحم دل اور انسان دوست افراد اس ظالمانہ معاہدے کو ختم کرنے کے بارے میں اپنی اپنی جگہ سوچنے لگے لیکن اظہار کی جرأت نہ کر سکے۔ اس کار خیر میں سبقت کی سعادت ہشام بن عمر والعامری کے حصے میں آئی۔ اس نے حضرت ام سلمہؓ کے بھائی زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی ، بنو اسد کے سردارعاص بن ہاشم اور زمعہ بن الاسود کو اپنا ہمنوا بنایا اور ایک روز یہ قریش کی مجلس میں گئے۔ زہیر ابی امیہ نے اہل مکہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا:

’’اے اہل مکہ ! کیا ہم کھائیں پئیں اور کپڑے پہنیں جبکہ بنی ہاشم ہلاک ہو رہے ہیں۔ان سے کچھ خریدا جاتا ہے نہ ان کے ہاتھ کچھ فروخت کیا جاتا ہے ۔ خدا کی قسم ! میں ہر گز نہ بیٹھوں گا جب تک اس ظالمانہ مقاطعے کی دستاویز پھاڑ نہ دی جائے۔ ‘‘

یہ سن کر ابو جہل چیختے ہوئے بولا’’ تم نے جھوٹ کہا ہے، وہ ہر گز نہیں پھاڑی جائے گی ‘‘ ابو جہل کی مخالفت میں آوازیں بلند ہونے لگیں۔ مجلس میں بحث و مباحثہ شروع ہو گیا۔

عین اس وقت جب شعب ابی طالب سے باہر قریش کی مجلس میں مقاطعے کی یہ دستاویز زیر بحث تھی، ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ اب سعد، ابن ہشام اور بلاذری نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول ﷺ کو اللہ کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ بائیکاٹ کی دستاویز میں ظلم و ستم ارو قطع رحمی کا جو مضمون تھا، اسے دیمک چاٹ گئی ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے ۔ حضور ﷺ نے اس کا ذکر اپنے چچا ابو طالب سے کیا ۔ انہوں نے پوچھا ’’ کیا تمہیں اس کی خبر تمہارے خدا نے دی ہے ؟‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں!‘‘ حضرت ابو طالب نے اس بات کا ذکر اپنے بھائیوں کے سامنے کیا۔ انہوں نے پوچھا : ’’آپ کا خیال ہے ؟ ‘‘ ابو طالب نے کہا: ’’ خدا کی قسم ! محمد ﷺ نے مجھ سے کبھی کوئی جھوٹ بات نہیں کہی۔ ‘‘ ابو طالب نے حضور ﷺ سے دریافت کیا’’ اب کیا کرنا چاہیے۔۔۔۔‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’چچا ! آپ عمدہ لبا س پہن کر سردار ان قریش کے پاس چلے جائیں اور ان کو یہ بات بتائیں۔‘‘

حضرت ابو طالب اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ اس مجلس میں پہنچے جہاں قریش کے داناو بینا اس دستاویز کے معاملے پر غور خوض کر رہے تھے۔ ابو طالب کو آتے دیکھ کر اہل مجلس نے خوشی کا اظہار کیا اور آمد کی وجہ پوچھی۔ ابو طالب نے حاضرین مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

’’میرے بھتیجے محمد ﷺ نے جس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ، مجھے خبر دی کہ مقاطعے کی دستاویز میں جوروستم اور قطع رحمی سے متعلق تمہاری تمام تحریر دیمک چاٹ گئی ہے اور صرف اللہ کا نام باقی رہ گیا ہے ۔ اب تم وہ صحیفہ منگوا کر دیکھ لو ۔ اگر میرے بھتیجے کا بیان غلط نکلا تو میں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔ پھر تمہیں اختیار ہے چاہے قتل کر دو اور چاہے زندہ رہنے دو لیکن اگر اس کی بات سچ نکلی تو ہمارے ساتھ اس بدسلوکی سے باز آجاؤ۔ ‘‘

ابو طالب کی یہ بات سن کر حاضرین مجلس نے کہا کہ آپ نے انصاف کی بات کہی ہے ۔ دستاویز منگوا کر دیکھی گئی۔ وہی بات سچی نکلی جس کی خبر دی گئی تھی۔ اس پر قریش کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ ندامت اور شرم سے ان کی آنکھیں جھک گئیں۔

یہ کہہ کر ابو طالب تو گھاٹی کی طرف لوٹ آئے ۔ مجلس میں ابو جہل اور اس جیسے ضدی آدمیوں پر ملامت کی بوچھاڑ شروع ہو گئی اور مقاطعے کے خاتمے کے حامی حضرات اسلحے سے لیس ہو کر شعب ابی طالب کی طرف گئے اور محصورین سے کہا کہ وہ اپنے گھروں میں جا کر آباد ہو جائیں۔ اس طرح ظلم و ستم ار جورو تعدی کا یہ تین سالہ طویل دور ختم ہوا۔

مزید : روشن کرنیں


loading...