”میرے والد کہیں آپ کو ملیں تو میرا بھی سلام کہیے گا“ 

  ”میرے والد کہیں آپ کو ملیں تو میرا بھی سلام کہیے گا“ 
  ”میرے والد کہیں آپ کو ملیں تو میرا بھی سلام کہیے گا“ 

  

ہمارے ایک دوست کے والد نے عجیب سیلانی طبیعت پائی تھی۔ وہ اکثر گھر سے بغیر بتائے چلے جاتے تھے۔ کئی کئی دن غائب رہتے تھے۔ میلے ٹھیلوں پر چلے جاتے تھے۔ کبھی کسی دربار پر جا کر رہنا شروع کردیتے تھے۔ اچھے خاصے زمیندار اور سلجھے ہوئے انسان تھے۔ مگر عادت سے مجبور تھے۔ ان کے بچے بچپن سے ان کا یہ رویہ دیکھ رہے تھے اور اس کے عادی ہو چکے تھے۔ ایک دن ایک صاحب کسی دور دراز کے گاؤں سے ہمارے چاچا جی کو ملنے آئے۔ دستک دینے پر ان کا بڑا بیٹا باہر آیا۔ اجنبی نے کہا "بیٹا!  مجھے آپ کے والد صاحب سے ایک انتہائی ضروری کام ہے۔ انہیں ذرا باہر بھیجیں "۔ جواب ملا "ہمیں بھی اپنے والد سے کئی ضروری کام ہیں۔ آپ دور دراز سے آئے لگتے ہیں۔ چائے پی کر جب واپس جائیں تو ذرا خیال کیجئے گا۔ میرے والد راستے میں اگر کہیں آپ کو مل جائیں تو ان کو میرا بھی سلام کہیئے گا۔ بتایئے گا مجھے بھی ان سے کام ہے "۔ہمارے ہاں کئی اداروں میں بھی ہمارے چا چا جی کی طرح کے افراد بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ان کے دفتر جانے والوں کوان کے رفقاکار یہی گزارش کرتے ہیں کہ اگر وہ صاحب کہیں ملیں تو انہیں دفتر والوں کا بھی سلام کہا جائے۔ ان کے قلم کی طرح ان کے پاؤں میں بھی چکر ہوتا ہے بلکہ گھن چکر ہوتا ہے۔شاعر مشرق نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ نادان لوگ اس وقت سجدے میں گر جاتے ہیں، جب درحقیقت قیام کا وقت آتا ہے۔ کئی اصحاب دفتری اوقات میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دینے میں قطاََ کوتاہی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ان کی زبان سے زیادہ ان کے عمل پر نظر رکھتے ہیں۔

اسی لیے بزرگ کہہ گئے ہیں دوسروں پر نظر رکھنا بُری بات ہے۔ ایک شاہ صاحب اپنے علاقے کے شریف ترین انسان تھے۔ لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ غریب پرور تھے بزرگوں کے زمانے سے ڈیرے داری کا نظام چلا آ رہا تھا۔ لنگر وسیع تھا۔ گردوں کی بیماری کی وجہ سے لاہور کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ خون کی اشد ضرورت تھی۔ان کے خون کے گروپ والے لوگ بہت کم تھے۔اولاد شدید پریشان تھی۔ خوش قسمتی سے ایک دن ہسپتال میں ان کے بڑے بیٹے کو اپنے علاقے کا ایک آدمی نظر آیا، جس کا خون شاہ جی کو لگایا جا سکتا تھا۔بیٹے نے خون کی ایک بوتل کی التجا کی۔مرید نے ہاتھ جوڑ کر کہا،" شاہ جی کیلئے جان بھی حاضر ہے۔خون مگر مجھ میں پہلے ہی بہت کم ہے۔ اس ضمن میں میری معذرت قبول کریں۔میری دعائیں شاہ جی کے ساتھ ہیں "۔ ایک ہسپتال میں شعبہ ریڈیالوجی کے سربراہ ایک دن شدید غصے میں تھے۔ وہ انتہائی متحمل مزاج اور نفیس انسان تھے۔ عموماََ جونیئرز پر غصہ نہیں کرتے تھے۔ایک دن مگر ایک جونیئر ڈاکٹر کو سخت سست کہہ رہے تھے۔ وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بڑے دکھ سے کہا "اگر کسی مریض کے گردے میں پتھری ہو اور یہ ڈاکٹر صاحب الٹراساؤنڈ پر نشان دہی نہ کر سکیں تو وجہ سمجھ آتی ہے۔اگر کسی مریض کا گردہ ہی نہ ہو اور ہمارے ڈاکٹر صاحب اس میں پتھری نہیں، پتھریاں نکال دیں تو غصہ تو بنتا ہے"۔  ایک افسر بڑی اچھی طبیعت کے مالک تھے۔ انگریزی کے معاملہ میں ان کا ہاتھ تھوڑا تنگ تھا۔ دفتر کا سپرنٹنڈنٹ بہت قابل اور اچھا انسان تھا۔

اس کو چٹھی لکھواتے ہوئے بڑے تحمل سے بتاتے تھے کہ اس دفتر کی طرف سے فلاں دفتر کو چٹھی لکھیں۔مضمون کا عنوان یہ رکھیں۔ اس کے بعد ان کو شدید غصہ آجاتا تھا اور باآواز بلند فرماتے تھے۔ " سپرنٹنڈنٹ صاحب کچھ خود بھی لکھ لو " آپ بھی تنخواہ لیتے ہو۔ سارے کام افسر نے خودتھوڑے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ کچھ تم بھی سوچو، محنت کرو، اپنی تنخواہ حلال کیا کرو"۔ایک صاحب اوائل عمر سے مذہبی سوچ رکھتے تھے۔والدین کے فرما ں بردار تھے۔کبھی کسی کوشکایت کا موقع نہیں دیتے تھے۔تعلیم میں پوری دلچسپی لیتے تھے۔ والد صاحب کی خواہش پر ڈاکٹر بنے۔ والد بزرگ وار مگر ایک دن بیچ چوراہے کے ڈاکٹر صاحب کو سخت برا بھلا بھی کہہ رہے تھے اور مرمت بھی فرما رہے تھے۔وجہ بڑی صائب تھی۔کوس رہے تھے کہ اتنا خرچہ کر کے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا اور اب یہ حقہ بھی چھڑوانا چاہتا ہے۔ساری دولت جائیداد پر اسی کا حق ہے کیا؟۔میڈیکل کالج میں علم الابدان کے ایک استاد کی وجہ شہرت اُن کی سخت گیرطبیعت تھی۔ان کو زبانی امتحان دینے والے طلبا بڑی الجھن میں رہتے تھے۔ وہ ہاتھ میں چھڑی رکھتے تھے۔ایک ہڈی میں موجود سوراخ پر چھڑی رکھ کر امتحان دینے والے ایک طالب علم سے پوچھا ”بتاؤ یہاں سے کیا کیا گزرتا ہے؟"۔

طالب علم نے جواب دیا "سر! اس وقت تو اس سوراخ،  میرے دماغ اور کائنات کے ہر خلا سے آپ کی چھڑی ہی گزر رہی ہے"۔ میڈیکل کے ایک طالب علم تعلیمی دباؤ کے باعث خبطی ہو گئے۔امتحان کے دوران ایک سوال پوچھے جانے پر اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور ممتحن کو سلوٹ مار کر کہنے لگے،"سر! آج آپ کا اور میرا علم برابر ہو گیا ہے۔آپ کو بھی نہیں پتہ اور مجھے بھی نہیں پتہ"۔الہامی کتب کے مطابق اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، کسی کو اس کا حق نہ دینا، بغیرقصور کے کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا،کسی پر زیادتی کرنا،معاملات میں کسی کی ناحق طرفداری کرنا، کسی کو ناجائز تنگ کرنا، ناحق طریقے سے کسی کا مال کھانا،تکبر کرنا، بے جا خرچ کرنا، جائز خرچ نہ کرنا،کسی کو اس کا حق نہ دینا،لوگوں کا دل دکھانا، کسی کو بے جا دباؤ میں رکھنا  وغیرہ وغیرہ ظلم کی مختلف شکلیں ہیں۔ہمارے دین کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی نہ ہی ظالم ہو اور نہ ہی مظلوم۔ پاک پیغمبر ؐنے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ بہترین راستہ اعتدال کاراستہ ہے۔ معتدل زندگی ہی خوبصورت زندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ظالم اور مظلوم بننے سے اپنی پناہ میں رکھے۔آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -