وبا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا کیا فائدہ ہے؟ 

وبا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا کیا فائدہ ہے؟ 
وبا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا کیا فائدہ ہے؟ 

  

دنیا بھر سے ہمارے دوست اکثر سوال کرتے ہیں کہ  عوامی جمہوریہ چین میں وبا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کب ختم ہوگی؟ اس پالیسی کا کیا فائدہ ہے؟ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک تو اس پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہیں تو چین اس پالیسی پر کیوں عمل درآمد کر رہا ہے۔ 

اگر ہم گزشتہ تین برس کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ بات بہت آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ چین کی زیر ٹالرنس پالیسی نے شاندار ثمرات دئیے ہیں۔ چین اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ آبادی کا حامل ملک ہے۔ اس ملک کے لوگوں کی اکثریت وبا کے دوران اسی زیرو ٹالرنس پالیسی کی وجہ سے محفوظ رہی۔ 

 چین کی کووڈ-19 وبا کے خلاف "زیرو ٹالرنس" پالیسی نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ نوول کورونا وائرس کی وبا کے دوران عوامی جمہوریہ چین کی حکومت نے اپنے شہریوں کو وبا کے خلاف ایک  پناہ گاہ فراہم کی  جہاں وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے وبا پر قابو پانے کے لیے بہترین کام کیا ہے۔ایسے وقت میں کچھ نام نہاد اسکالرز یہ سوال کر رہے ہیں چین "زیرو ٹالرنس" کی پالیسی کو کب ختم کرے گا۔ اس وقت یہ سوال اہم نہیں کہ چین کب اپنی موجودہ پالیسی کو ترک کرے گا بلکہ اس کے برعکس ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ ہم چین سے کب سیکھیں گے؟

وبائی امراض کی 'ٹریس اینڈ ٹریک' کی پالیسی اس وقت چین میں انسداد وبا  کا سب سے اہم ذریعہ ہے، اور وبا کے دوران وبائی امراض کے مذکورہ جائزے کے نتائج اکثر چینی لوگوں کی توجہ کا مرکز اور گرما گرم موضوع بن جاتے ہیں۔ کچھ دن پہلے بیجنگ میں انفیکشن کے ایک نئے کیس کی تفتیش  کے نتائج نے لاتعداد لوگوں کے دلوں کو چھو لیا اور یہ گزشتہ دو دنوں کے دوران اہم ترین  موضوع بحث بن گیا۔

19 جنوری کو بیجنگ نے ضلع چھاؤ یانگ میں غیر علامتی انفیکشن کے ایک نئے کیس کا اعلان کیا، یہ مرد سجاوٹ کے سامان کو بھیجنے والا ایک مزدور  ہے۔تفتیش کے نتائج سے ظاہر ہونے والے اس مرد کی  سخت محنت کے ٹریک نے بہت سے نیٹیزنز کو ایک ہی لمحے میں رلا دیا اورلاتعداد لوگوں اس کہانی سے متاثر ہوئے۔اس شخص نے ایک دن کی چھٹی کے بغیر مسلسل 14 دن کام کیا۔اس دوران اس نے 23 مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 85 گھنٹے 25 منٹ کام کیا۔ان 14 دنوں کے دوران اس شخص نے رات گئے اور صبح سویرے 54.5 گھنٹے کام کیا جو  کل کام کے اوقات کا 63.8فیصد تھا۔ اس طرح کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھ کر، کچھ نیٹیزنز نے کہا: "یہ کتنی مشکل اور کٹھن  زندگی بسر کر رہا ہے، اس کا شیڈول کتنا مصروف ترین ہے، اسے آرام کا کوئی وقت دستیاب نہیں ہے." کچھ لوگوں نے اس بھائی کو دعا بھیجی: "دن رات کام کرنے اور  محنت کرنے کا مقصد  صرف اپنی زندگی کو کچھ  بہتر بنانا اور  ایک خوشگوار نیا سال گزارنے کے لیے  ہے،امید ہے کہ  بڑے بھائی کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کی زندگی بہتر ہوگی۔"

دوسرے نیٹیزنز کی طرح میں بھی اس بھائی کی محنت  اور  کٹھن کام کے ٹریک ریکارڈ  کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ اس وبا کے تحت دنیا کے کسی بھی ملک میں لاتعداد لوگوں کو خطرہ مول لینا پڑتا ہے اور روزی کمانے کے لیے سخت محنت کرنے کے لیے باہر جانا پڑتا ہے۔چین میں  ایک مشہور کہاوت ہے کہ آپ کی پرسکون زندگی کے پیچھے بہت سے لوگوں کی قربانی شامل ہے۔یہ جملہ ہم میں سے  ہر ایک کی  زندگی پر لاگو ہوتا ہے۔ وبا کے دوران، یہ محنتی متاثرہ محنت کش  لوگوں کو رلا دیتے ہیں، اور پورے معاشرے میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے گہرے احساس اور شعور اجاگر کر دیتے ہیں۔یہ  واقعی بہت اچھی بات ہے۔ یقیناً، وبائی امراض کی تفتیش  اور دیگر انسداد وبا کے اقدامات  اور  بہت سے متعلقہ معاملات مختلف رائے کے اظہار کا باعث بھی بنے ہیں۔ مثال کے طور پر، وبائی امراض کی تفتیش میں شامل کئے گئے کچھ متاثرہ لوگوں نے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ تفریحی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے قلیل مدت میں متعدد بار پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارا لیا، اور بہت سے کھانے، تفریحی اور سماجی مقامات پر پہنچے، اور کچھ نے جان بوجھ کر اپنے سفر نامے کو چھپایا، جس کی نیٹیزنز کی جانب سے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ اس سلسلے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جب تک انسداد وبا  کے ضوابط پر عمل کیا جاتا ہے، وبا کی صورت حال میں اعتدال پسند اصراف ، تفریح اور سماجی میل جول میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آخرکار، وبا کے دوران سماجی کھپت اور معاشی بحالی کو فروغ دینے کے اقدامات فطری طور پر ملے جلے فوائد اور نقصانات سے عبارت ہیں۔ محفوظ معاشی بحالی اور سماجی خوشحالی کا حصول کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور پوری  دنیا کے تمام ملکوں کو درپیش چیلنج ہے۔ 

کووڈ-19 کی وبا تیسرے برس میں داخل ہو چکی ہے۔ اس وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں 5.5 ملین سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ امریکہ سمیت کئی ممالک کے ہسپتال ایک بار پھر بحرانی کیفیت میں ہیں، اور کورونا وائرس عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ 

دوسری طرف "زیرو ٹالرنس پالیسی" کی وجہ سے ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی کے حامل  ملک  چین میں  کووڈ-19 کی وجہ سے چھ ہزار سے بھی کم جانیں گئیں۔ چین کی معیشت بحال ہوئی اور سال 2021 میں اس معیشت کی شرح نمو 8.1 فیصد تک بڑھ گئی۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   

مزید :

بلاگ -