اگر آپ چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیم  ہی دینا چاہتے ہیں توپہلے  یہ کام کرنا ہوگا

اگر آپ چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیم  ہی دینا چاہتے ہیں توپہلے  یہ کام کرنا ہوگا
اگر آپ چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیم  ہی دینا چاہتے ہیں توپہلے  یہ کام کرنا ہوگا

  

بنت ِحوا کی گونجتی صدائیں میرے کانوں کو بہرا کررہی ہیں کہ میں کیوں  اندھا ہو گیا ہوں کہ مجھے اس پہ ہوتا ظلم بھی دکھائی نہیں دیتا – میرے ہاتھوں کا رعشہ اور میرے قلم کی سیاہی ایسی خود غرض تو نہ تھی کہ کسی بیٹی ، بہن  اور ماں  کی دہائی اسے کچھ لکھنے پہ مجبور نہ کر سکے-تحریریں شاید لفظوں کا کوئی کھیل ہیں  جن کا جواب  اور انجام لکھاری کے بس میں نہیں ورنہ کوئی کھلتی کلی اور مہکتا گلاب یوں نہ کچلا جائے - میرے کانوں نے جرمن ٹی وی کا بحث و مباحثہ سنا تو دل تھام کر رہ گیا  کہ جس میں کہا جا رہا تھا کہ ارضِ ہستی  پہ  عورت کے لئے سب  سے زیادہ  غیر محفوظ  جگہ سر زمینِ پاکستان ہے-

مجھے ہمارے ائمہ کا جواب بھی معلوم ہے کہ یہ ہمارے خلاف ایک مغربی پراپیگنڈہ ہے- یہ پراپیگنڈہ ہی سہی لیکن  یہ سوال اٹھا تو اٹھا کیوں کر ؟- اسلامی جمہوریہ کے دعوے داروں  سے کیوں ایسے گناہ سر زد ہوئے کہ دنیا آج ہمیں موضوعِ  سخن  بنائے ہوئے ہے- وہ دین جس نے جنت ماں کے قدموں تلے رکھ دی اور اسے وہ عزت و تعظیم دی کہ وجود ِ زن  نے فطرتی  رشتوں کی رعنائی اور چاشنی میں   اپنا کردار منوایا- پھر آج  اسی دین کے ماننے والوں پہ سوالیہ نشان کیوں لگایا جا رہا ہے؟ دینِ الٰہی پہ تو سوال نہیں لیکن ہمارے عملی کردار پہ ایک  چوٹ ضرور ہے جس کی شدت ہر باشعورمحسوس کر رہا ہے جس پہ اگرقانون خاموش ہے  تو حاکم  بھی گنگ ہے اور ہم تماشائی اس  معاشرے کی زبوں حالی  کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہراتے خود کو بری الذمہ قرار دے رہے ہیں-  سچ تو یہ ہے کہ بنت ِ حوا کی لٹتی ردائیں  اور میرا قانون ثبوت ڈھونڈتے یا تو ناکام ہے یا کسی  طاقتور کی لونڈی بنا وہ کرتا ہے جو کہا جاتا ہے اور مجرم آزاد گھومتا  ہے تو عقل دنگ رہ  جاتی ہے کہ دور ِجہالت  کا سارا انبار ہمارے دامن میں  جائے پناہ لیتے ہوئے  کیوں ہمارا  ہی واحد اثاثہ ہے – ہماری پیشانی پہ لگا یہ کلنک کا ٹیکہ شاید ہمیں نظر ہی نہیں آتا اور ہم  آئینہ دکھانے والے پہ یوں بگڑ جاتے ہیں کہ جیسے سارا قصور اسی کا ہے اس کے قتل کے فتوے جاری  ہوتے جاتے ہیں اور شاید ہم دین کی خدمت کرتے جاتے ہیں – اگر ایسا نہیں ہے تو     کیا ہمارے معاشرے کے  مردہ کفن پہ ہر چار سے آٹھ دن کے بعد اجتماعی زیادتی  کا لکھا کوئی قصہ اتنا تعفن بپا  بھی نہیں کرتا کہ ہم اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیں-

 ہیومن رائٹس آف پاکستان  کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد ایک  فرد جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے اور جس میں سب سے زیادہ بنتِ حوا ہی کام آتی ہے- ایک وہی کوکھ جو ہمیں جنم دینے  کا   باعث بنتی ہے ہم پہ ہیجان کی وہ کیفیت کیوں طاری کر دیتی ہے کہ ہم رشتوں کے تقدس کو بالائے طاق رکھتے  ہوئےبس تسکینِ طبع کو اسے سر ِ محفل یوں نچاتے  اورپیسے لٹاتے ہیں کہ جیسے یہی وہ کام   ہے جس سے یہ لمحات یاد گار بن جائیں گے اوراگر  آج  یہ جشن  ان لوازمات سے ادھورا رہ گیا تو ہماری خوشیاں نہ ہمیں  تسکین دیں گی اور نہ  ہی ہمارے عزیز و اقارب میں کوئی عزت رہے گی -اپنے آپ کو  شریف ،تعلیم یافتہ  ،باکردار  کہنے اور لکھنے والا جب اپنے ڈیرے پہ یہ رقص و سرود سجاتا ہے تو  وہ واقعی تماش بینی سے دل جیتتا ہر دلعزیز سمجھا جاتا ہے -  اور شاید مجھے یہ بات کہنے  میں کوئی   عذر مانع نہیں ہےکہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی ان ہیجان پرور مناظر  کے ساتھ اپنی ریٹنگ بڑھاتا ہمارے عوامی تشخص کو  ملیا میٹ کر رہا ہے- ایک عورت کو اپنی شخصیت سے باہر نکالنے اور  اسے ایک شو پیس بنانے کے لئے ایسے ایسے پروگرام ترتیب دیتا ہے کہ انعام کی لالچ میں ہماری گھریلو خواتین وہ کچھ کر گزرتی ہیں جو شاید  عام حالات میں ان کی حسِ  نسوانیت انہیں اجازت  ہی نہ دیتی ہو- ایک سٹیج  پہ  تماشا بنی  اور اسے تماشا بناتا  مرد  شاید اسے جدت پسندی کہتا ہو لیکن  ایک  پراگندہ سوچ کا حامل ذہن  اس سے جو حاصل کرتاہے وہ معاشرے میں  ایسے جرائم کا باعث ضرور بنتا ہے  جن سے ہم آ ج کل دوچار ہیں-

حشر برپا ہے۔ ہر طرف بچوں کو  جنسی تعلیم  دینے اور بے راہ رو معاشرے سے نبٹنے  کے   طریقے سکھائے جا رہے ہیں لیکن  اس مسئلہ کی  جڑوں سے بیخ کنی کرنے کی بات کہیں سے سنائی دیتی – کھیلوں کے میدان اجڑے اور ہر گھر ہر کمرے  ،ہر بستر میں  دوست بنا موبائل فون گھس آیا  ہمارے بچے موبائل اور نیٹ کے ایسے شوقین ٹھہرے کہ ہر وقت نظریں اس کی سکرین پہ مر کوز ہیں – سماجی تعلقات کی بے شمار ویب سائٹس پہ کون ان سے ملتا ، انہیں کون اخلاق باختہ نصاب  پڑھاتا اور  کون کیا سکھاتا ہے ہم نہیں جانتے لیکن برتھ ڈے یا   کسی بھی تہوار کو مناتے  ہوئے اس کے لئے ایک موبائل فون کا تحفہ ،ہمیں خوب بھاتا اور ارد گرد کے رشتہ داروں پہ خوب رعب جماتا ہے- دوستوں میں آپ کے بچے کی شان بڑھتی اور ساتھ بڑھتا ہے اس کا دنیا بھر سے تعلق کیونکہ اس فون نے تو دنیا اتنی سکیڑ دی ہے کہ ایک ٹچ پہ آپ کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں اور کسی دوسرے معاشرے کی اقدار اور طرز  زندگی  اپنے بیڈ روم میں پاتے ہیں – کم سن ذہن بس اس میں کھو جاتا ہے اور آپ مصروف زندگی میں ،پھر نہ آپ کے پاس وقت اور نہ اس بچے کے پاس کہ وہ اپنے مسائل  بتا سکے- ایک تندرست جسم میں ہی ایک تندرست دماغ ہوتا ہے- کھیلوں کے میدانوں میں اٹھتی بلند وبالا عمارتیں اور ہوتی چائنا کٹنگ نے    صبح کی سیر ،ورزش کے فوائد اور  کھیلوں کے کوچز چھین لئے ہیں  اور جہاں کہیں  میدان ہے بھی وہاں پہ نشہ کی لت کے شکار براجمان ہیں- نہ تو ان کے لئے حکومت کے پاس علاج معالجہ ہے اور نہ ہی منشیات کے سوداگروں  کے لئے کوئی پکڑ دھکڑ – جب اس علاقے کا تھانہ ہی اس کا سر پرست ہےتو  منشیات کو ترستے جرائم کرتے یہ لوگ  کیا نہیں کر سکتے- بے روز گار دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے اور گمراہی میں کیا کیا گل کھلاتا ہے  مجھے بتانے کی شاید ضرورت نہیں – ضرورت ہے تو یہ بات بتانے کی کہ ہمارے سارے معاشرے کو ایک تربیت اور تعلیم کی ضرورت ہے – معاشرے کی درست اسلوب پہ نشو و نما ہی ہمیں  ان  مشکلات سے نکال سکتی ہے اور دینی تعلیم  کو اب مدرسوں مسجدوں سے نکال  کر گھر کی دہلیز پہ لانا ہوگا – بے شک ہمارا دین ہی  ہمارے لئے مکمل مشعلِ راہ ہے اور ہر لٹتی ردا اسی کے فقدان پہ  آنسو بہاتی اور اپنی نجات  کے لئے اسے ہمراہ نہ پاتی ہوئی   دشواریوں سے نبرد آزما ہے – باقی اگر آپ چھوٹے بچوں کو جنسی تعلیم  ہی دینے کے خواہاں ہیں تو خدارا  ملک کے دانشوروں کے ساتھ مل کر کوئی لائحہ عمل بنایئے گا – کہیں ایسانہ ہو کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا-

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ