صوابی میں کا شتکاروں کا ڈی سی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

صوابی میں کا شتکاروں کا ڈی سی دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

  

صوابی(بیورورپورٹ)ضلع صوابی کے متاثرہ کاشتکاروں نے ڈی سی صوابی کے دفتر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گذشتہ روز شدید طوفانی بارش اور ژالہ باری سے گندم اور تمباکو و دیگرتیار فصلیں تباہ ہوئی ہے جس سے علاقے کے کاشتکار مالی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں لہٰذا وفاقی حکومت تمباکو کے مد میں 150ارب روپے ٹیکس میں سے متاثرہ کاشتکاروں کے لئے امداد کا اعلان کریں،تمباکو کمپنیاں کاشتکاروں کو این پی کے اور زیریات رقم معاف کریں ضلع صوابی کوژالہ باری سے متاثرہ ہونے پر آفت زدہ قرار دیا جائے انہوں نے کہا کہ علاقہ رزڑ سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری اور طوفانی بارش سے تمام کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہے حکومت صرف تمباکو کی مد میں 150ارب روپے ٹیکس زمینداروں سے وصول کر تی ہے کم از کم اس ٹیکس سے زمینداروں کی مالی مدد کی جائے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات منظور نہ کئے گئے تو اسلام آباد کا رخ کرینگے مظاہرے میں کاشتکار کوارڈنیشن کونسل کے صوبائی جنرل سیکرٹری لیاقت یوسفزئی، محمد علی ڈاگئی وال، عالم شیر گوہاٹی و دیگر کاشتکار رہنماؤں کے علاوہ ضلع بھر کے کاشتکاروں نے حصہ لیا اس موقع پر ڈی سی صوابی شاہد محمود نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ژالہ باری ہونے کے فوراً بعد میں نے تمام متعلقہ تحصیلداروں اور پٹواریوں کو متاثر ہ فصلوں کے سروے کرنے کے لئے احکامات جاری کئے جب کہ اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی حکومت کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ بھی رابطہ کرونگا اور اس حوالے سے میں اپکے شانہ بشانہ کھڑا ہونگا او ر اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ حکام کو آج روانہ کرونگا انہوں نے کہا کہ کاشتکار واحد طبقہ ہے جو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ تمام عوام کے لئے غذا ئی خوراک پیدا کرنے میں اپنا بھر پور کر دار ادا کر رہے ہیں۔ مجھے ہونے والے نقصانات کا پوری طرح احساس ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -