میں سْتی پئی نوں جگایا ماہی

میں سْتی پئی نوں جگایا ماہی
میں سْتی پئی نوں جگایا ماہی

  

ہمارے ہاں تصوف میں جذبہِ محبت کو دو بنیادی درجات میں منقسم کر دیا گیا ہے ایک درجہ عشقِ مجازی تو دوسرا درجہ عشقِ حقیقی کا ہے، عشقِ مجازی سے مراد یہ ہے کہ انسان کا جذبہِ محبت کسی بھی قائم الوجود شے سے متعلق ہو جائے پھر چاہے اس میں خود انسان کی ذات یا پھر اس کائنات میں سے کوئی بھی وجود رکھنے والی چیز ہو، جبکہ عشقِ حقیقی مختص لذات الحق ہے، چنانچہ عشقِ مجازی تو آپ کائنات کے کسی بھی وجود سے کر سکتے ہیں مگر عشقِ حقیقی ذاتِ حق کیلئے علاوہ ممکن نہیں گوکہ یہ ذاتِ حق اپنے آخری درجے میں قائم الوجود کے مرتبہ پر آ کھڑی ہوتی ہے لیکن اس کی ابتداء ذاتِ حق کی طلب سے ہی ہوتی ہے، چلیں یہ تو ہو گئے تصوف کے دقیق مسائل جن کو سمجھنے کیلئے کم از کم سالک ہونا لابدی ہے، میں بات کرنا چاہ رہا تھا آجکل کے انتہائی معروف سرائیکی لوک گیت کا جس کو معروف سرائیکی گائک  شفاء  اللہ خان روکھڑی نے گایا اور جس کے انتہائی عمدہ بول معروف موسیقار اور نغمہ نگار جناب افضل عاجز صاحب نے لکھے ہیں، یہ وہی افضل عاجز ہیں جنہوں نے لالہ عطاء اللہ عیسی خیلوی کے مشہورِ زمانہ لوک گیت مینوں کر نہیں ساڑ کے کولا، وے ڈھولا سیانڑا تھیویں ہا، کے بول لکھے تھے اور جس کی مدھر موسیقی آج بھی کانوں میں رس گھول رہی ہے، یوں تو یہ گیت بالکل سادہ اور عام بولوں پر مبنی ہے مگر پچھلے دنوں جب مجھے ایک اْردو داں دوست نے اس پر غور کرنے کا عرض کیا تو میرے ذہن میں فوری طور پر قبلہِ عالم سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب کی وہ غزل گھومنے لگی جس کے بول کچھ یوں ہیں وہاں سوئے پڑے تھے خوش

عدم کی نیند میں بے خود

جگا کر جلوہ دکھلایا

ہمیں مظہر دیوانن میں  

تصوف میں ہمیشہ جذبہِ مجاز حقیقت کی بنیادی سیڑھی کے طور مستند رہا ہے کچھ لوگوں نے مجاز کا ترجمہ غیر حقیقی کیا ہے جبکہ یہاں مجاز سے مراد جائز صورت ہی پیشِ نظر ہے یعنی دنیا کی کسی بھی شے سے محبت بالکل جائز ہے نہ صرف جائز بلکہ یہ تو معرفتِ حق کی بنیادی سیڑھی ہے پھر چاہے وہ کسی عورت سے اظہارِ محبت ہو یا کسی بھی دوسرے جاندار سے، جذبہِ مجاز کی ہر صورت جائز ہے یہی جذبہِ مجاز آگے چل کر مجرد طور پر حق کی جستجو پیدا کر دیتا ہے، افضل عاجز صاحب کے گیت کے بول انتہائی عمدہ اور خوبصورت ہیں،

میں ہاموں جہئیں خواب اِچ آیا ماہی

میں سْتّی پَئی نوں جگایا ماہی

میں پْچھیا جو پھیرا کینویں پایئی

خیال اَج میرا کینویں آیئی

یہ دو بیتہ دراصل محبتِ مجازی پر مبنی ہے محبوبہ رات کو اْٹھ کر اپنے محبوب سے کہتی ہے کہ میں حیران ہوں کہ مجھ جیسی عام سی بندی کے خواب میں آپ آ گئے چنانچہ آپ کی آمد اس قدر تعجب انگیز تھی کہ میں فوری اْٹھ کر جاگ گئی اور خواب ٹوٹ گیا، تو کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ سرکار کو میری یاد کیسے آئی اور کس غرض سے اس معمولی بندی کے پاس تشریف لائے، سرائیکی دو بیتے لکھنے میں مرحوم فارق روکھڑی صاحب اور افضل عاجز صاحب واقعی اپنا ثانی نہیں رکھتے، یقیناً یہ دو بیتے عام لوگوں کیلئے لذتِ وصل پر مبنی ایک لطف آور بول ہوں گے مگر میں نے جب اس دو بیتے پر غور کیا تو مجھے قبلہِ عالم سیدنا پیر مہر علی شاہ صاحب کا وہ اْردو دو بیتہ یاد آ گیا جس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں، تصوف کی اصطلاح میں تنویم یعنی سویا پڑا رہنا ایک عامیانہ کیفیت ہے جس میں ایک انسان عرفانِ حق سے غافل نیند میں مستغرق رہتا ہے اس کے برعکس جو شخص جاگ گیا یا جسے جلوہِ محبوبِ مطلق نے جگا دیا تو وہ دراصل سالک بن جاتا ہے ان پوری کیفیات کو سلطان العارفین سائیں سلطان باہو نے اپنی معروف کتاب عقلِ بیدار میں بیان کیا ہے، اس کے علاوہ بھی بہت سے صوفیاء  کی نگارشات اس بیداریِ جذبات پر موجود ہیں جنہیں سالکین اپنے درجہ کے مطابق ڈھونڈ کر پڑھ سکتے ہیں، تصوف کا ابتداء ہی سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ دین، مذہب اور دھرم کا تعلق معقولات سے نہیں انسانی جذبات سے ہے مگر بہت سارے ذہین آج بھی اس بدیہی حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور اس حقیقت کے خلاف نت نئی منطق گھڑنے کی کوشش میں ہیں، دنیا میں جتنے بھی مذاہب اس وقت موجود ہیں تمام تر کی بنیاد اسی جذبہِ سپردگی پر قائم ہے ایسا نہیں ہے کہ اس وقت کسی مذہب کا بانی دنیا میں موجود ہے اور ہم اس کے گرد بیٹھ کر اپنی عقل کو سیراب کر سکتے ہیں وہ جو اس وقت بیٹھے ہیں وہ بھی ہمیں ٹھیک اْسی طرف لے جاتے ہیں جہاں سوائے والہانہ سپردگی کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا، میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ محبت کبھی حقیقی یا غیر حقیقی نہیں ہوتی ہاں مجازی محبوب فنا ہو جاتا ہے اور حقیقی بہرصورت قائم رہتا ہے یہ فرق ضرور ہے، انسان سے محبت ہی تو دراصل مذہب میں جانے کا سب سے آسان اور بنیادی رستہ ہے، ایک انگریز محقق مہا رشی رمن کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے دو ٹوک الفاظ میں خدا کا رستہ بتا دیں آپ نے سوال کیا کہ تم نے کبھی محبت کی، تو انگریز محقق ہنس پڑا کہ میں اور محبت، نہیں کبھی نہیں، تو مہا رشی رمن بولے پھر آپ یہاں آئے ہی کیوں ہیں آپ اس راہ کے بارے کبھی جان ہی نہیں سکتے کیونکہ آپ اس بنیادی کلیہ سے ناواقف ہیں جس کے ذریعہ سے میں آپ کو آگے لے کر جاتا، حضرت رومی، سرمد سرمست، کبیر داس، مِیرا بائی، خانِ خاناں عبدالرحیم، رس خان، بلھے شاہ، شاہ حسین، سچل سرمست، بابا فرید ان تمام عشاق کرام نے صرف یہی بتایا ہے کہ خدا تک پہنچنے کا صرف ہی ایک رستہ ہے اور وہ ہے محبت و عشق، علاوہ ازیں صرف لفاظی یا لایعنی توہمات ہیں جن کو سمجھنا تو ایک طرف ان کی صحت ہی مضحکہ خیز ہے، محبت واحد حقیقت ہے جو بیک مذہب، عقائد، رنگ، نسل اور ذات پات سے ماوراء ہے اس کے علاوہ دنیا کی کوئی بھی سچائی ایسی نہیں ہے جو اس قدر مطلق آزاد اور مضبوط ہو، محبت ناقابلِ شکست ہے محبت انسان کی بے راہرو عقل اور بوسیدہ تدبر کا اکلوتا سہارا ہے، محبت فاتحِ عالم ہے، محبت کی ہر صورت چاہے وہ مجازی ہو حقیقی یا پھر قرینہِ لمس پر مبنی نہ صرف قابلِ قبول ہے بلکہ حتمی طور پر قابلِ تعظیم بھی ہے. 

مزید :

رائے -کالم -