سول سپرمیسی کا خواب!

سول سپرمیسی کا خواب!
سول سپرمیسی کا خواب!

  



پاکستانی سیاست پر اب بات کرنا بھی دلِ ناتواں پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے،لیکن پھر بھی کچھ تلخ حقائق ایسے ہیں جو اِن دنوں کروٹ کروٹ بے چین کئے رکھتے ہیں۔ ملک کے دیگر دانشوروں اور صحافیوں کی طرح حضرت مولانا فضل الرحمن سے ہم بھی کچھ موہوم ہی اْمیدیں لگا بیٹھے تھے، مگر یہ تو کچھ یوں ہو گیا کہ جس کی سمجھ شاید خود مولانا صاحب کو بھی نہیں آئی۔ حضرت مولانا نے تو میڈیا سمیت سول سپر میسی کی پوری تحریک کو راندۂ درگاہ کر دیا، پھر اِس پر مستزاد یہ کہ چودھری پرویز الہٰی فرما رہے ہیں کہ ہم نے مولانا صاحب کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا، جبکہ مولانا صاحب بضد ہیں کہ ہم سیاسی طور پر ٹھیک وہیں کھڑے ہیں، جہاں ہم پہلے دن سے موجود تھے، گویا مولانا صاحب یکسر مسترد کر رہے ہیں کہ ہمارے اور حکومت کے بیچ کوئی ساز باز ہوئی ہے۔

البتہ مولانا صاحب کا یخ گزیدہ لہجہ بتا رہا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ خیر عوامی اور جمہوری بالادستی کی بنیاد پر قائم ہونے والا آزادی مارچ بھی کسی واضح تبدیلی کے بغیر بخیر و عافیت ایک مبہم مایوسی پر منتج ہوا، عوامی بالا دستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مولانا نے بھی عوام کو بالآخر دیگر سیاسی پنڈتوں کی طرح سڑکوں پر تنہا چھوڑ کر اپنی راہ لے لی، بخدا ایک لمحہ کے لئے تو ہمیں بھی محسوس ہوا تھا کہ شاید مولانا کے وجود میں امام الانقلاب مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم کی روح سرایت کر چکی ہے، مگر حسبِ روایت یہ بھی ایک دیوانے کا خواب ہی نکلا آزادی مارچ کے مبہم اور اچانک اختتام کے بعد اب میاں نوازشریف کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور میاں نوازشریف منگل کی صبح ائرایمبولینس کے ذریعے عازم سفر ہوئے اور اسی شام 6بجے وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ چکے ہوں گے۔ حکومت نے تو اپنا پورا زور لگایا کہ کسی نہ کسی طریقے سے میاں نوازشریفکو گھیر لیں، مگر کہانی سات ارب سے مبلغ پچاس روپے کے اشٹامپ پیپر پر تمام ہوئی،یوں یہ اْونٹ بھی اپنی کروٹ بیٹھ گیا۔ حکومت کی یہ غیر معمولی اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ اِس معاملے بالکل منطقی رہی اور رہنا بھی چاہئے تھا کہ عدالتِ عالیہ کا فیصلہ سر آنکھوں پر ہونا چاہئے۔

مذکورہ بالا تمام مسائل تو خیر کسی نہ کسی صورت حل ہونے ہی والے تھے، تو عوامی بالادستی ہے جو گزشتہ بہتّر سالوں میں حل نہ ہو سکا۔ آخر کوئی تو ایسا سیاسی رہنما ہو، جسے صرف عوام کا درد محسوس ہو،جس کی ساری صلاحیتیں اور خدمات صرف سول سپر میسی کے لئے وقف ہوں،مگر ایسا کب ہو گا اور آخر کب تک عوام کبھی اشتراکیت اور کبھی ریاستِ مدینہ کے بیانیہ پر یقین کرکے بیوقوف بنتے رہیں گے، کسی کو معلوم نہیں۔ چلیں اِس سے قبل تو ایک عمومی اعتراض یہ تھا کہ ملک میں قریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں جمہوری روش کی بجائے پاپائیت کی طرف چل پڑی ہیں۔ اب تو پاپائیت والا سین بھی نہیں رہا۔ تحریکِ انصاف جو کسی زمانے میں ایک خالص عوامی سیاسی جماعت کی دعویدار ہوا کرتی تھی۔

آج اپنے اندر قریباً وہی سیاسی پنڈت لئے ہوئے ہے جن کی حیثیت صرف ایک خود غرض اور مفاد پرست مافیا کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سیاست جیسی عظیم المرتبت خدمت کو جس طرح ہمارے ہاں پچھلے بہتّر سالوں میں رسوا کیا گیا،اس کی نظیر تو شاید ہی کسی اور خطے میں موجود ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی قحط الرجال ہی چل رہا ہے۔ سیاستدان ہونا تو خیر ایک اضافی خوبی اور صلاحیت ہے، یہاں تو ایک عمدہ انسان کا ملنا بھی قریباً ناممکن ہے۔ آپ جس کی طرف منہ کریں گے وہی جلد یا بدیر آپ کو ڈس لے گا، پھر چاہے وہ سیاست میں ہو یا کسی بھی دیگر شعبہ میں، سول سپر میسی تو اب اس ملک میں ایک خواب بن کر رہ گئی ہے، جبکہ حقیقی جمہوریت بغیر سول سپر میسی کے ممکن ہی نہیں، کیونکہ جمہوریت دراصل اقتدار براہِ راست عوام ہی کے پاس ہونے کا نام ہے۔

تحریکِ انصاف نے جو سنہرے خواب دِکھا کر تبدیلی کا وعدہ کیا تھا، وہ وعدہ اپنی کسی بھی صورت میں تاحال وفا نہ ہو سکا، بلکہ اب تو تحریکِ انصاف خود ٹھیک اْسی مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں کبھی یہ جماعت دیگر سیاسی جماعتوں پر تنقید کے سبب مشہور و معروف تھی۔ رہی بات عمران خان کی ذات کی تو وہ بھی اب سطحی کاموں میں لگے ہوئے ہیں، ابھی تک تو کوئی خاطر خواہ تعمیری منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا، بلکہ گزشتہ شب ایک نجی ٹی وی چینل پر میں عمران خان کی ایک تقریر دیکھ رہا تھا جس میں وہ بلاول بھٹو زرداری کی بہت عمدہ نقالی کر رہے تھے اور سامنے بیٹھے کارکن کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ مطلب وہی سیاسی کردار کشی، وہی سیاسی بدتہذیبی اور عناد جو دیگر سیاسی جماعتوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے، آج تحریکِ انصاف اس کی سرخیل بن چکی ہے۔عوام تو اس سے قبل بھی رُل ہی رہے تھے، اور آج بھی رُل رہے ہیں، بلکہ آج تو عوام کا رْلنا ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ نا معلوم یہ خود غرض اور مفاد پرست سیاسی رہنما کب تک افلاس کی ماری اور تعلیم و تہذیب سے عاری قوم کو بیوقوف بناتے رہیں گے،

پاور گیم کے اس چکر نے جس قدر ذلیل ایک عام آدمی کو کیا بعید از بیان ہے۔عمران خان جو ایک عام آدمی کے لئے کسی وقت میں خوشگوار ہوا کا جھونکا ہوا کرتے۔ آج ٹھیک اْسی پوزیشن پر آ گئے ہیں، جس پر کبھی یہ لوگ تھے، جنہیں آج حکومتی حلقے مجرم اور چور ڈاکو کہہ رہے ہیں۔ وہ کون سے خالص عوامی فلاحی منصوبے ہیں جن کا براہِ راست فائدہ عوام کو ہو رہا ہے؟سرکاری ملازمت جو کسی بھی ریاست کے شہریوں کا ایک بنیادی حق ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کر سکیں، آج بالکل ناپید ہو چکی ہے، بلکہ اب تو یہ بیانیہ بھی ترتیب دیا جا چکا ہے کہ نوکریاں دینا ریاست کا کام ہی نہیں رہی بات مہنگائی پر کنٹرول اور عام آدمی کو اشیائے خور و نوش مناسب قیمت پر فراہم کرنا تو اس میں تبدیلی کا اثر وہ لوگ بخوبی جانتے ہیں جو صبح مارکیٹ میں آلو ترکاری لینے جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم