مملکت کی بیماریوں کا ذمہ دار کون؟

مملکت کی بیماریوں کا ذمہ دار کون؟
مملکت کی بیماریوں کا ذمہ دار کون؟

  

حکومت اور حزبِ اختلاف حالت ِ جنگ میں ہیں اور دونوں سیاسی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف ملک دشمنی کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے اور حکومتی وزیروں کی آگ برساتی ہوئی تقاریر میں حزبِ اختلاف کے قائدین کو پاکستان مخالف بیانیے کا مجرم گردانا جا رہا ہے،مگر اس حقیقت کا ادراک اور احساس کسی کو بھی نہیں کہ پاکستان اِس وقت جس افراتفری، بے سمتی، مایوسی، بیزاری، فکری انتشار اور معاشی و اخلاقی بحران کا شکار ہے۔اگر اس بحران کو حل نہ کیا گیا تو اس کے نتائج کتنے خطرناک ہوں گے۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں،مگر سونا اگلتی زمینیں رکھنے کے باوجود مملکت میں آٹا اور چینی کا بحران پیدا ہونا اور حکمرانوں کا چینی اور آٹا مافیا کے سامنے بے بس ہو جانا کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔ مملکت میں پیدا ہو جانے والے معاشی بحران کا یہ عالم ہے کہ وطن ِ عزیز کے کروڑوں مرد و خواتین غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی کا عذاب برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف ایسے امیر ترین خاندان بھی موجود ہیں،جنہوں نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور طریقے اختیار کر کے قومی خزانے سے اربوں کھربوں روپے لوٹ لئے ہیں،مگر قانون انہیں سزا دینے میں ناکام اور بے بس ہو چکا ہے،مگر یہ سنگین نوعیت کی معاشی صورتِ حال بھی سیاسی قائدین کو باہمی لڑائی ترک کر دینے پر آمادہ نہیں کر سکی۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ان کا اقتدار ہے۔مملکت کو درپیش بیماریوں کا علاج اُن کی ترجیح نہیں ہے۔

تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبوں کا جو تباہ کن حال ہے۔ان مخدوش حالات میں بھی سیاسی رہنماؤں کی پہلی ترجیح یہ ہونا کہ اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے، انتہائی افسوس ناک ہے۔ حکمران اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ان کے پاس حزبِ اختلاف پر الزام تراشی کے سوا عوام کی بہتری کا کوئی روڈ میپ نہیں اور نہ ہی وہ گزشتہ دو سال میں یہ ثابت کر سکے ہیں کہ ملک و قوم کو درپیش سنگین بحرانوں کے حل کی کوئی صلاحیت ان میں موجود ہے۔ حزبِ اختلاف ہو یا حزبِ اقتدار ان میں سے کوئی بھی اتنا دیانت دار اور انصاف پسند نہیں ہے کہ وہ یہ تسلیم کر لے کہ پاکستان کو اس وقت جن بھی ناکامیوں اور بیماریوں کا سامنا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ خود ہمارے سیاست دانوں کی خود غرضیاں اور مفاد پرستی ہے۔ سیاست دانوں کا ذاتی مفادات کو  قومی مفادات پر ترجیح دینا ہی مملکت کو لاحق بیماریوں کا اصل سبب ہے۔

دسمبر 1970ء میں متحدہ پاکستان میں عام انتخابات ہوئے تھے،مگر دسمبر1971ء تک فوجی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو اقتدار منتقل نہیں کیا۔ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ہوسِ اقتدار سے مغلوب ہو کر انتہائی منفی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں سقوطِ مشرقی پاکستان کا عظیم سانحہ رونما ہوا۔اب بھی وقت ہے کہ ہم سب کو اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ماضی میں جن غلطیوں کے سبب پاکستان کو ناقابل ِ نقصان پہنچا، مستقبل میں ان سے اجتناب کرنا چاہئے۔ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت کر قبائلی جنگیں شروع کرنے سے سیاست دانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا،بلکہ اُن کے اِس طرزِ عمل سے پاکستان کو لاحق بیماریوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ مملکت کو درپیش بیماریاں علاج مانگتی ہیں اور ہمارے خیال میں سیاست دانوں کی آپس میں نہ ختم ہونے والی لڑائی اس کا علاج نہیں،بلکہ یہ بیمار مملکت سے دشمنی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -