بسنت پنچمی

بسنت پنچمی
بسنت پنچمی

  



یہ اَمر منطقی طور پر ماوراء اَز دو رائے ہے کہ انسان ہمیشہ تہذیبوں ہی کی کوکھ سے پروان چڑھتا ہے۔ انسان کی طبع و مابعدالطبع کا ظاہری و باطنی ڈھانچہ اپنی اصل میں تمدّن کی گود ہی میں پھلتا پھولتا رہا ہے۔ رہی بات نظریے یا علمِ متصوّرہ کی تو اس کا تعلق انسان کی فکری و جذباتی پنپ سے ہے۔ جغرافیائی خطوط کا انسان کی اس فکری نمو سے براہ راست کوئی ربط نہیں، پس تہذیب و تمدن ہی انسان کی حقیقی شناخت اور انسانی طبیعت کا جوہری وصف ہیں۔ خشکی کے اِس چھوٹے سے ٹکڑے کو خدا نے چار مختلف رْتوں سے نوازا ہے، چنانچہ گرمی، خزاں، سردی اور بہار اس خطے کے جغرافیائی اوصاف ہیں۔

موسمِ بہار جسے سنسکرت میں رْت مہاراج بھی کہا جاتا ہے، ہمارے ہاں ابتداء ہی سے غیر معمولی نوعیت کے تہواروں کا مرکز رہا ہے، چنانچہ ماگھ کے شروع ہوتے ہی جہاں سردی اپنا اثر کھونے لگتی ہے تو موسمی تہواروں کی آمد شروع ہو جاتی ہے، چیت اور بیساکھ کے گوناگوں تہواروں کی ابتدا ماگھ کے وسط میں آنے والے پہلے ریتو رنگ بسنت پنچمی کی رونق چہار سْو پھیلنے لگتی ہے۔ گریگورین کیلنڈر کے مطابق اس سال بسنت پنچمی 29 جنوری کو منائی جا رہی ہے، چونکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اب ہم ایک درآمدشدہ تہذیب کے رسیا ہو چکے ہیں، اس لئے آج اپنے تہذیبی تہوار منانا ہمیں معیوب لگتا ہے، حالانکہ کہاں نظریہ، کہاں علاقہ، کہاں تہذیب، کہاں تصّور؟ تمدّن و عقائد میں زبردست بْعد کے باوجود آج بھی ہم یہ انتہائی اہم نکتہ نہیں سمجھ سکے کہ سوچ جس قدر بھی طاقتور ہو جائے، تمدّن کو معدوم نہیں کر سکتی۔ بسنت پنچمی ہنود، اہلِ اسلام، سکھ اور جین مت کے ماننے والوں کا جغرافیائی تہوار ہے، جس کو آج سے چند دہائیاں قبل بلا کسی نظریاتی دقّت کے یہاں کے باسی مل جل کر مناتے رہے ہیں، البتہ قیامِ پاکستان کے بعد علاقے، تہذیب و تمدّن، نظریات اور شخصیات کی تقسیم کے ساتھ ساتھ تہوار بھی اِدھر اْدھر ہو گئے۔ بسنت پنچمی ایک غیر معمولی ریتو تہوار ہے، جس کی باقاعدہ تقریبات ہمارے معروف صوفی سلسلہ چشتیہ میں بھی قدرے تکریم سے منائی جاتی رہی ہیں، چنانچہ حضرت بابا صاحب خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الہٰی کے خاص نیازمند طوطیِ ہند حضرت امیر خسرو دہلوی کی متعدد نظمیں اور بندشیں اسی تہوار سے منسوب ہیں۔

بسنت پنچمی دراصل ریتو بہار کی آمد کا وہ اہتمام ہے، جس میں ہنود سرسوتی دیوی کی پوجا کرتے ہیں۔پنجابی مسلمانوں کے ہاں اس تہوار میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں گوکہ اس تہوار کا وہ مخصوص تاثر تو اب باقی نہیں رہا، لیکن پھر بھی کبھی کبھار بہار کی آمد پر مغربی پنجاب کے کچھ علاقوں میں رونق دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ پتنگ بازی پنجاب کی خاصی قدیم تہذیبی روایت ہے، جس پر پچھلے چند سال سے اب مستقل حکومتی قدغن لگ چکی ہے۔ دراصل ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اس وقت اپنی تہذیب سے جڑا ہر شعار یا تو مذہبی امتناع کے سبب ترک کر دیا ہے یا پھر مقتدر قوتوں کی بے جا پابندیوں کے سبب ہم سے ہماری تہذیب کی ہر رنگینی چھن گئی ہے۔

صورت کوئی بھی ہو، اس خطے کے باسیوں کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ تہوار دراصل تہذیب کی وہ انمٹ یادداشت ہوتے ہیں، جن کے وسیلے سے نئی نسلیں اپنے تمدّن سے روشناس ہوتی رہتی ہیں، مگر ہم اس کے برعکس آج اپنے حقیقی تمدّن کی بجائے ایک بالکل درآمدشدہ تمدّن کے اسیر ہو چکے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ اب اسی درآمدشدہ تمدّن پر نہ صرف فخر محسوس کرتے ہیں،بلکہ اپنے حقیقی اور اصلی تمدّن کا نام لیتے ہوئے بھی عار محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے ساتھ من حیث القوم یہ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے جس کا خمیازہ نہ صرف ہم بھگت رہے ہیں، بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس کے نظریاتی گزند سے محفوظ نہیں ہو پائیں گی۔ تہذیب و تمدّن جغرافیائی خطوط سے بنتے ہیں، کہ نظر و فکر سے۔ نظر و فکر کا تعیّن انسانی خصائل کی پنپ میں زبردست کردار ادا کرتا ہے، مگر فکر میں اتنی قوت نہیں ہوتی کہ وہ آپ سے آپ کی جغرافیائی شناخت چھین لے، چنانچہ عرب اور خراسانی جنگجوؤں، مغل سلاطین اور فرنگیوں کے زبردست فکری تسلط کے باوجود بھی برِصغیر میں بدوی، خراسانی اور برٹش کلٹ نہ پنپ سکا۔

پنجابی بے شک اہلِ اسلام ہوں یا سکھ، اْن کی طبیعاتی اور مابعداطبیعاتی ترکیب سے پنجابیت نہیں کریدی جا سکتی، یہی وجہ ہے کہ درآمدشدہ تہذیبوں کی زبردست ترغیب کے باوجود آج بھی اس خطے کے باسی اپنے رہن سہن کو نئی تہذیب کے سانچے میں نہیں ڈھال سکے۔ سندھو تہذیب قریباً ایک ہزار سال تک غیروں کے فکری تشدّد کے نرغے میں رہی،مگر آج تک اپنی حقیقی تمدنی شناخت نہیں کراسکی۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ بہت پہلے ہمارے گھروں میں بہار کی آمد پر نوجوان لڑکیاں بسنتی رنگ کے کپڑے پہنتیں اور بزرگ عورتیں گْڑ کا شربت اور ڈالہ، یعنی پِسی ہوئی گندم کا بھات بنا کر ہمیں عزیز و اقارب کے ہاں بانٹنے کا کہتیں۔ پنجابی صوفیوں نے یہاں کے تمدّن کو من و عن قبول کیا اور جو ہنود مسلمان ہو جاتے،اْنہیں بھی اپنے تمدّن پر کاربند رہنے کی تلقین کرتے، ہاں تبدیلی دل کی دنیا میں لازماً بپا ہوتی، چنانچہ کرشن جی کو ماننے والے جب عزت مآب حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبرِ صادق کی تصدیق کرتے تو وہ کبھی بھی کرشن جی کے بھگتی مارگ سے منکر نہ ہوتے، بلکہ اپنے دل کی دنیا کا رْخ ایک روشنی سے موڑ کر دوسری روشنی کی جانب مرکوز کر لیتے، تبھی تو حضرت امیر خسرو دہلوی جیسے عظیم المرتبت صوفی ایک ترک نژاد ہو کر بھی اس خطے کے تمدّن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اپنے مرشد کے مرشدمعروف پنجابی صوفی بزرگ حضرت بابا فرید سے عقیدت کو اسی تہذیبی رنگ میں بیان کرتے ہیں جو برصغیر میں رائج تھا،فرماتے ہیں:

بسنتی چولہ پہن کے خسرو پی کو رِجائے

دین بدائی وَلیَن سارے گنج شکر گھر آئے

مذہب کی انتہائی معقول اور امن و آشتی پر مبنی تعبیر اس خطے کے صوفیاء کی وساطت سے ہی مروج ہوئی، چنانچہ اس خطے کے صوفیاء نے کبھی اس خطے کے لوگوں کو اپنی تہذیب سے روگردانی کی ترغیب نہیں دی، بلکہ انہوں نے اپنی تہذیب ہی کی لو سے لوگوں کے دل روشن کئے۔

مزید : رائے /کالم