جناح کا وارث ہے کون؟

جناح کا وارث ہے کون؟
جناح کا وارث ہے کون؟

  

جو باتیں میں کرنے جارہا ہوں اس پر پہلے سے معذرت چاہوں گا، اگر تلخ نوائی سے کسی آبگینہ کو آنچ پہنچ جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میری ان باتوں پر سوچئے گا ضرور۔۔۔

سر آپ کس ملک کی بات کر رہے ہیں ؟ کون ہے جناح کا وارث ؟؟؟ تاریخ تو آج بھی رو رہی ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب پاکستان بنا تو حریت پسند بھی مارے گئے تھے۔ ہمارے پاس کوئی متبادل نظام اور ڈھانچہ ہی نہیں تھا۔ وہ بیوروکریٹ جو انگریز حکومت کے وفادار تھے انہوں نے ہی پاکستان کی بیوروکریسی سنبھالی تھی۔ وہ فوج اور پولیس جو 1947 سے قبل حریت پسندوں اور مجاہدین کو گرفتار کر کے قتل کیا کرتی تھی اسی نے پاکستان کی سکیورٹی سنبھالی تھی۔ وہ زمین دار جو انگریز دور میں انگریز بہادر کے وفادار تھے انہوں نے ہی مزید زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ تحریک آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور ان کے بچوں کے لئے اس ملک میں کچھ نہیں تھا۔ چند مخلص سیاست دان ہوا کرتے تھے۔ محمد علی جناح تھے ، نواب زادہ لیاقت علی خان تھے ، سردار عبد الرب نشتر تھے ، چند اور لوگ بھی تھے۔ آج آپ کو ان میں سے کسی کی اولاد پاکستان کی سیاست میں نظر نہیں آتی۔آپ کو حریت پسندوں میں سے کسی کا بچہ اس گدی پر نظر نہیں آتا جو اس کے لئے تھے۔

پاکستان بنانے کا سہرا آپ محمد علی جناح کے سر باندھتے ہیں لیکن کبھی کسی نے خود سے سوال کیا کہ انہی محمد علی جناح یعنی آپ کے اور ہمارے قائد اعظم کی اولاد ہندوستان میں کیوں ہے ؟ نواب زادہ لیاقت علی خان کے وارث کہاں ہیں ؟ سردار عبد الرب نشتر کے بچے کہاں ہیں ؟ سر اس پاکستان میں کہیں نہیں ہیں جو ان کے آبا نے بنایا ہی نہیں تھا ، جو پاکستان بنانا چاہا تھا وہ کبھی بن ہی نہیں سکا تھا۔ آج آپ کو پاکستان کی سیاست میں وہی لوگ اور خاندان نظر آئیں گے جو قبضہ گروپ سے ہیں ، جو انگریز کے وفادار رہے تھے ، جنہوں نے حریت پسندوں کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ آپ کو جنرل حمید گل مرحوم متحرک نظر آئے۔ ہم انہیں امیر المجاہدین بھی کہا کرتے تھے۔ خود انہوں نے ہی مجھے بتایا کہ ان کے باپ دادا انگریز فوج میں تھے اور انگریز نے انہین زمینیں دی تھیں۔ وہ زمینیں اسی پاکستان میں ہیں۔ آپ کو پاکستان کا پہلا صدر سکندر مرزا ملے گا جو پاکستان بننے سے پہلے انگریز حکومت کا حصہ تھا اور انگریز کا وفادار تھا۔

جانتے ہیں وہ کون تھا ؟ وہ اس غدار کا پڑپوتا تھا جس نے ٹیپو سلطان کو شہید کروایا اور انگریز کو جنگ جتوائی تھی۔ میر جعفر کا نام تاریخ نہیں بھول سکتی۔ آپ کو شاہ محمود قریشی ملیں گے جن کے دادا نے حریت پسندوں کو گھیر کر انگریز فوج کے حوالے کیا اور جاگیریں حاصل کیں۔ جناح کے پاکستان پر ایسے ہی لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہاں وہ بیانیہ متعارف کرایا گیا جو جناح کا بیانیہ ہی نہیں تھا۔ یہاں مذہب کا چورن بیچ کر ڈالر کمائے گئے۔ یہاں اس نظریہ پاکستان کا اعلان کیا گیا جو مجھے جناح یا ان کے ساتھیوں کے یہاں نظر نہیں آتا۔ مجھے جناح کے یہاں جو نظریہ پاکستان ملا اس کا آج کے پاکستان میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ پراپگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے سے لے کر ریسرچ کے فقدان تک کے سفر نے ہمیں اتنا تباہ کر دیا ہے کہ ہم آج بھی عمران خان کو جنرل نیازی کی بزدلی کا طعنہ دے کر ڈی گریڈ کرتے ہیں۔

مجھے عمران خان کی پالیسیوں سے اختلاف ہے لیکن مورخ بتاتا ہے کہ جنرل نیازی بزدل نہیں تھا۔ وہ جنرل ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا جس نے فوج میں کئی بار موت کو قریب سے دیکھا۔ شکست میں جنرل نیازی کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اگر قصور ہوتا تو پاکستان واپسی پر اسے میڈلز نہ دیئے جاتے۔ بہرحال اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔ آج کے پاکستان میں جناح کا وارث دیکھنا ہے تو مڈل کلاسیوں کے یہاں دیکھئے گا۔ پاکستان اور اس کا نطام چلانے والوں میں جناح کے وارث شامل نہیں بلکہ یہ اس انگریز کے وارث ہیں جو جاتے جاتے ملک کا نظام اور سیاست اپنے وفاداروں کے حوالے کر گیا تھا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ