اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (قسط نمبر1)

اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (قسط نمبر1)
اسلام میں میراث کا نظام اور معاشرے میں خواتین کی حق تلفی (قسط نمبر1)

  

سپریم کورٹ میں وراثت کے ایک مقدمے میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کی ریت بن چکی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں سے ایک ٹکا بھی نہیں دیا جاتا، انہیں ڈرا دھمکاکر وراثت نہ لینے پر قائل کیا جاتا ہے، زمینوں سے پیار کرنے والے اپنی وراثت کو بچانے کے لئے سگی بہنوں اور بیٹیوں کے وجود تک سے انکاری ہوجاتے ہیں، اسلامی معاشرے نے خواتین کو وراثت میں جو حقوق دئیے ہیں اس سے کوئی انکار کرنے کی جرات نہیں کرسکتا، وقت آگیا ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔یہ بیان خوش آئند ہے لیکن اس معاملہ پر عدلیہ کا سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا ابھی باقی ہے۔ راقم بحیثیت جنرل سیکرٹری ہیومن رائٹس موومنٹ اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم پر اُن بہنوں اور بیٹیوں کے لئے جن کو وراثت کے حق سے محروم کردیا جاتا ہے مفت قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے ۔اسلام انسان کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے ، اسلام کی بہت سی خصوصیات ہیں ، انہی میں یہ خصوصیت بھی ہے کہ اسلام نے انسان کے لئے بہترین اقتصادی نظام دیا ہے ، جو کئی امور پر مشتمل ہے جن میں تقسیم میراث کا نظام بھی اہم ہے۔ اسلام نے بہت سارے امور کی رعایت کرتے ہوئے اس کا نظام بنایا ہے ، جس میں مرد کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی میراث کا حقدار بنایا گیا ہے۔

اسلام نے عورت کو وہ مثالی حقوق دیے ہیں جو آج تک کوئی تہذیب یا مذہب اسے نہیں دے سکا۔ لیکن اس معاشرے میں ہماری بہن اوربیٹی ان کے وراثتی حقوق سے محروم ہے جواسے اسلام جیسے عظیم دین نے دیے تھے۔ مسلمان معاشرے کی عورت کو آج بھی اکثر وراثت کے حق سے محروم رکھا جاتاہے۔قرآن عورت کو وراثت میں حقدار بناتا ہے لیکن ہم عورت کو اس کے اس حق سے محروم کیے ہوئے ہیں۔کیا دنیا دار اور کیا دیندار کوئی بھی اپنی بہن بیٹیوں کو وراثت میں حقدار نہیں ٹھہراتا اور چند برتن جہیز میں دے کر اسے اس کے حصے کی جائیداد سے محروم کرنے کی روایت ہمارے معاشرے میں عام ہے۔معاشرے کی تباہی کی ایک نشانی وراثت کی تقسیم میں انصاف کا نہ ہونا بھی ہے اسی لئے باوجود اس کے کہ مدرسوں کے نصاب میں اور وکیلوں کی پڑھائی میں وراثت کی تقسیم کا مضمون شامل ہوتا ہے لیکن ان دونوں طبقوں میں کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شرعی طریقے سے وراثتی جائداد تقسیم کرتے ہیں۔علما ء حضرات بھی اپنی بہنوں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے پاکستانی معاشرے میں پانچ فیصد ہی ایسے لوگ ہوں گے جن کے ہاں عورتوں کو وراثت میں حصہ دیا جاتا ہوگا۔جب علماء کے گھرانوں میں عورتوں کو ان کے واضح قرآنی حق سے محروم رکھا جاتا ہے تو ان لوگوں کا کیا کہنا جن کے ہاں دینی علم کی روشنی پہنچی ہی نہ ہو۔جو اہل علم ہیں وہ برابر کے قصوروار ہیں اس لئے کہ وہ اس علم پر خزانے کے سانپ بن کر بیٹھے ہیں اور انہوں نے خود بھی اللہ کے ان احکامات کو پاؤں تلے روندا ہوا ہے اور کسی دوسرے کو بھی ان پر عمل کرنے کی تعلیم نہیں دیتے۔

اسلام تو عورتوں کو حقِ وراثت دیتا ہے لیکن مرد اس معاشرے میں عورتوں کا حق غصب کرجاتے ہیں۔جوں جوں محروم طبقوں میں اپنے حقوق کی بیداری کی لہر پیدا ہوگی تو عورتیں بھی اپنا حق مانگیں گی۔ قرآن میں بیان کردہ حقوق سے ملک کی بیشتر آبادی کو محروم رکھا جارہا ہے۔جتنا عورت کو اس کے حق سے محروم رکھا جائے گا اتنی ہی اس کے دل میں مذہب اور مذہب کے ذمہ داروں سے بیزاری پیدا ہوگی اور شاید وہ وقت بھی آجائے کہ عورتوں کا ہاتھ ان طبقات کے گریبان تک جا پہنچے جو انہیں ان کے حق سے محروم رکھتے ہیں اور خالق حقیقی توان سے ضرور پوچھے گا کہ تم نے کیوں عورتوں کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھا۔ جیسے قرآن مجید میں آتا ہے کہ جب زندہ گاڑھی ہوئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ تمھیں کس جرم کی سزا میں قتل کیا گیا۔ اسی طرح عورت کے حقوق غصب کرنے والے مردوں سے بھی سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے کیوں عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا؟مغرب کے تاریک دور میں جب عیسائیت نے عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا تو اس کے ردعمل کے طور پروہاں حقوق نسواں کی تحریک اٹھی اور ہماری ماڈرن بیگمات این جی اوز کے ذریعے عورتوں کے حقوق کی پاسداری کا جو پرچار کرتی نظر آتی ہیں اس کے ڈانڈے دراصل اسی تحریک سے ملتے ہیں اور ہمارے ہاں اس تحریک کا واحد مقصداب عورتوں کو چادر اور چار دیواری کی قید سے آزاد کروانااوراسلام کے خاندانی نظام کو تہس نہس کرناہی رہ گیا ہے۔لیکن جب ہم خود بھی اپنی عورتوں کو ان کا جائز حق نہیں دیں گے تو وہ ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنیں گی اور انجام ان کا مغرب کی اس عورت کی طرح ہوگا جو دن کو مرد کے شانہ بشانہ کولہو کے بیل کی طرح کام کرتی ہے اور شام کو گھر کا کام بھی اس بیچاری کواکیلے ہی کرنا پڑتا ہے۔

دن کو دفتر سے پیسے کما کرلاؤ اور شام کوگھر کا سارا کام کاج بھی خود ہی سنبھالو یہ وہ د ا مِ فریب ہے جس میں یورپ کی عور ت بر ی طرح پھنس چکی ہے۔ دفتر میں جانے والی عورتوں کا مرد استحصال بھی کرتے ہیں اور ان کا ناجائز فائدہ بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں مرد کہتے ہیں کہ جس آفس میں کوئی عورت ہو وہاں کا ماحول اچھا ہوجاتا ہے۔آزادی نسواں کی تحریک کا اثر جو نئی نسل کی تربیت پر پڑتا ہے کہ ماں باپ دونوں کو گھر سے نکال دو اور بچوں کی پرورش اور تربیت نوکروں اور آیاؤں کے ہاتھ میں دے دو تاکہ اگلی نسل بالکل ہی برباد ہوجائے۔ عالمی مالیاتی ادارے جن کے مختلف پراجیکٹس ہمارے دیہی علاقوں میں چل رہے ہیں ۔ ترقی کے نام پر وہ کیا کررہے ہیں؟ عورت کو معاشی جدوجہد کا حصہ بنارہے ہیں گھر کی چاردیواری سے نکال کراسے کریانے کی دکان ڈال کردیتے ہیں کہ تو یہاں بیٹھ کر کام کرتی اچھی لگتی ہے۔ ان میں سے ایک ادارہ اے جے کے پلاننگ اینڈ دیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کرنے والا اے جے کے سی ڈی پی بھی ہے۔ جو ہمارے دیہی علاقوں میں جاکر لوگوں کے ساتھ مل کر مختلف سکیموں پر کام کرتا ہے۔ بچت کے مختلف طریقے لوگوں کو سکھائے جاتے ہیں۔ کاروبار اور گھریلو صنعتوں پر کام کیا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی ہدف دیہاتی عورتوں ہیں۔نبی اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ کے مطابق سب سے بڑا فتنہ جو اس کائنات میں رونما ہوگا وہ دجال کا فتنہ ہوگا اورآپ نے فرمایا کہ اس فتنے کا عروج یہ ہوگا کہ سب سے آخر میں عورتیں دجال کی طرف نکلیں گی اور ایک بندہ مومن اپنی بیوی بہن بیٹی اور پھوپھی کو گھر میں رسیوں سے باندھ کر رکھے گا کہ کہیں یہ دجال کی طرف نہ چلی جائیں تو یہ عورتیں رسیاں تڑا کر دجال کی طرف بھاگیں گی ۔

اس حدیث کے نتیجے کے طور پر جو تجزیہ کیا جاتا ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ہر وہ کام جو کسی خاتون کو گھر کے قلعے سے باہر نکال کرمردوں کے درمیان لا کھڑا کرتا ہے وہ آنے والے اس دجالی فتنے کا ہی ایک روپ ہے جس کی انتہا وہ ہوگی جس کی خبر حدیث میں دی گئی۔ لیکن ذرا سوچیں اگر عورت کو گھر میں اپنے پورے حقوق نہ ملیں اور وہ اپنے باپ ، بھائی ، بیٹے اور خاوند سے اس وجہ سے بیزار ہو کہ وہ اسے اسلام کے متعین کیے ہوئے حقوق بھی نہیں دے رہے تو وہ گھر سے باہر نکل کر حقوق نسواں کے دلفریب نعرے کے چنگل میں نہیں آئے گی تو اور کیا کرے گی؟جب باپ اپنی بیٹی کو اپنے اوپر بوجھ سمجھے گا ،بھائی اس کا حق وراثت کھا جائے گا، جب گھر میں بہن کو بھائی سے کم تر درجہ ملے گا اور جب خاوند اپنی بیوی کا مہر تک معاف کروا کے کھا جائے گا یا شرعی مہر کا نام لے کر اس کا مہر صرف بتیس روپے آٹھ آنے مقرر کیا جائے گا تو عورت گھر سے بیزار ہوگی ۔عورت کے حقوق کی پامالی میں جتنا باپ بھائی اور شوہر کا قصور ہے اس سے کہیں بڑھ کر علماء کرام کا قصور ہے جنہوں نے اس ناانصافی کوروکنے میں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا۔کسی مسلمان کے لئے کسی صورت یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی بہن اور بیٹی کو وراثت کے حق سے محروم رکھے۔اکثر پڑھی لکھی مسلمان عورتیں بھی محض معاشرے کے دباؤ میں آکر بھائیوں کو اپنا حق وراثت معاف کردیتی ہیں لیکن یہ معافی دل سے نہیں ہوتی۔ (جاری ہے) *

بہنیں بھائیوں سے حق مانگیں اس کا ہمارے ہاں صدیوں سے رواج ہی نہیں ہے اس لئے جو بہن اپنا حقِ وراثت مانگتی ہے معاشرہ اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جیسے اس نے بہت بڑا جرم کر لیا ہے، اس کا بھائیوں کی طرف سے سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور بھائی بہن کے رشتے کو معطل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے ایک کمزور بہن اس کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ اس کے بھائی اس کا سوشل بائیکاٹ کردیں،لیکن عورت کا یہ شرعی حق قائم کرنے کے لئے کم از کم پڑھی لکھی عورتوں کو حق وراثت کی زبردستی معافی کے اس رواج کو اپنے پاؤں تلے روند کر قرآن کا شرعی حق بحال کروانا ہوگا۔ باپ کے فوت ہونے کے بعد اس جائیداد پر کسی ایک کا حق نہیں ہے بلکہ اب یہ امانت ہے ان وارثوں کی جن کو قرآن نے وارث ٹھہرایا ہے اس امانت کو جلد ازجلد اس کے وراثوں کے حوالے کریں اور وارث عورتوں کو ان کی جائیداد سے محروم نہ کریں کیونکہ اللہ کے ہاں یقیناًوہ ان کے حق میں پکڑے جائیں گے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے غیر شرعی رسم و رواج کو ختم کرکے اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اگر ملک میں سیاسی سطح پر اللہ کی شریعت نافذنہیں ہے تو کم ازکم ہم ان معاملات میں تو اللہ کے حکم کو نافذ کریں جہاں ہمارا اختیار چلتا ہے۔ وراثت کا حق عورت کا وہ حق ہے جو اس کے معاف کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتا وہ جب چاہے معاف کرنے کے بعد بھی دوبارہ اپنے حصے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ہماری دینی جماعتیں جو سسٹم کی تبدیلی کے لئے سیاسی جدوجہد کررہی ہیںیا اقامت دین کے لئے جدوجہد ہورہی ہے اور جہاں کہیں طاغوت کے خلاف جہاد ہورہا ہے اور علمائے دین مسجد کے منبروں سے معاشرتی برائیوں کے خلاف وعظ و نصیحت اور عوام کی تربیت کا بندوبست کررہے ہیں عورت کو اس کا حقِ وراثت دلانے کے لئے جدوجہد کریں۔

ہم سب پر یہ ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کا قرض ہے اورضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی تنظیموں کے پلیٹ فارمز سے عوام کو اسلامی قانون وراثت کے مطابق حصوں کی شرعی تقسیم کا علم سکھایا جائے اور معاشرے میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ بات عام کی جائے کہ عورت کو اس کے حق وراثت سے محروم نہ رکھا جائے۔جو جائیداد آپ کووراثت میں ملی ہے اگرآپ نے اس میں سے پھوپھیوں اور بہنوں کا حصہ علیحدہ کرکے ان کے حوالے کردیا ہے اور اپنے بیٹوں کو تاکید کردی ہے کہ وہ اپنی بہنوں کو وراثت میں حصہ ضرور دیں تو آپ اللہ کا شکر ادا کریں لیکن اگر ابھی تک یہ سارے بوجھ آپ کی گردن پر ہیں تو آپ فکر کریں۔بیٹیوں کے جائز قرآنی حق کے مطالبے پر یہ کہتے ہوئے سوشل بائیکاٹ کر دیا کہ ہم نے آپ کی شادیاں کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اب آپ سب کا جائداد میں کوئی حصہ نہیں ۔حالانکہ علم میراث پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں عورت کی میراث کے بارے میں کس قسم کی تعلیمات ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ دین اسلام کا نظام میراث سب سے اچھا نظام ہے :اسلام سے قبل ، اور دیگر موجودہ سماجوں میں عورت کی میراث کی تقسیم کچھ اس طرح ہے :

1۔یہودی مذہب میں عورت کو میراث سے محروم رکھا گیا ہے:چاہے کہ وہ ماں ، بہن ، بیٹی یا کوئی اور ہو۔ البتہ اگر کوئی مرد نہ ہو تو پھر اسے وراثت ملے گی ، جیسے اگر بیٹا موجود ہے تو بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا، جب کہ بیوی کو شوہر کے ترکہ سے کسی بھی صورت میں کچھ بھی نہیں ملے گا۔

2۔ رومیوں کے ہا ں عورت کی میر ا ث :ان کے ہا ں عورت کو مرد کے برابر حصہ ملتا تھا۔ لیکن بیو ی کو اپنے شوہر کے ترکہ سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا تاکہ اس خاندان کا مال دوسرے خاندان میں منتقل نہ ہوجا ئے ، اسی کا لحاظ کرتے ہو ئے اگر کسی عورت نے اپنے باپ سے میرا ث پا ئی ہو اور جب وہ مرجا ئے تو اس کے ترکہ سے اس کے بیٹے اور بیٹوں کے بجائے اس کے بھائیو ں کو حصہ ملتا تھا۔

3۔ سامی قوموں ( قدیم مشرقی قوموں ) کے نزدیک عورت کی میراث :اس سے مراد طورانی، سریانی ، شامی ، اشوری ، یونانی قومیں ہیں جو عیسی علیہ السلام کی ولادت سے قبل مشرق میں آباد تھیں۔ ان کے نزدیک میراث کا نظام یہ تھا کہ باپ کے بعد بڑا بیٹا باپ کی جگہ لیتا تھا ، اگر وہ موجود نہ ہوتا تو مردوں میں سب سے زیادہ ارشد مرد کو مقرر کیا جاتا ، پھر بھائیوں کی باری، ان کے بعد چاچا کی باری ہوتی تھی۔ ان کے ہاں عورتوں اور بچوں کو کلی طور میراث سے محروم کردیا جاتا تھا۔

4۔ قدیم مصریوں کے ہاں عورت کی میراث :ان کے ہاں میت کے تمام اقرباء کو جمع کیا جاتا تھا جن میں اس کا باپ ، ماں ، بیٹے ، بیٹیاں ، بھائی ، بہنیں ، چاچے ، ماموں ، موسیاں اوربیوی سب شامل ہوتے تھے اور ہر ایک کو برابر برابر حصہ ملتا تھا۔ جن میں مرد ، عورت اور چھوٹے ، بڑے میں کوئی تمیز نہیں ہوتی تھی۔

5۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے ہاں عورت کی میراث :اس زمانہ میں ان کے نزدیک تقسیم میراث کا کوئی مستقل یا خاص نظام نہ تھا ، وہ لوگ مشرقی دیگر اقوام کے طریقے پر چلتے تھے۔ وہ اپنی میراث کے حقدار صرف ہتھیار اٹھانے کے قابل مردوں کو سمجھتے تھے ، عورتوں اور بچوں کو اس سے کلی طور محروم رکھتے ہیں، چھوٹی بچیوں کو کبھی کبھار زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی مرد مرجاتا تو اس کے گھرکے مرداس کی بیوی کے مالک اسی طرح بن جاتے جس طرح اس کے ترکہ کے مالک بن جاتے ، اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ شادی کرلیتے اور اسے کچھ بھی مہر نہ دیتے ، یا اپنی مرضی سے اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کردیتے ،اور مہر خود کھالیتے ، یا اگر چاہتے تو عمر بھر اسے بغیر شادی ہی رہنے پر مجبورکرتے ، اور کبھی سوتیلا بیٹا بھی اس کے ساتھ جبری شادی کرتا تھااور اس کا مالک اسی طرح بن جاتا جس طرح اپنے باپ کے ترکہ کامالک بن جاتا تھا۔

تقسیم میراث وہ اہم فریضہ ہے جس میں کوتاہی عام ہے اس اہم فریضہ کے تارک عام پائے جاتے ہیں کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو اس کے ترکہ پر کوئی ایک وارث یا چند ورثاء مل کر قابض ہو جاتے ہیں۔کسی دوسرے کا حق کھانا حرام ہے اور حرام کھانے پر جہاں آخرت میں عذاب ہوگا وہیں دنیا میں بھی اس کے بڑے نقصانات ہیں۔ دین سے دوری کا سبب ۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے ’’ میں نے بصیرت کی بناء پر تجربہ کیا ہے کہ لوگوں کی دین سے دوری میں اسی 80 فیصد حرام مال کھانے کا عمل دخل ہے،اور دس فیصد اس سے کہ بے نمازی کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں اور دس فیصد اس سے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار نہیں کرتے۔ کسی دوسرے کا حق کھانا گناہ کبیرہ ہے اور یہ ایسا گناہ ہے کہ جب تک معاف نہ کرایا جائے معاف نہیں ہوگا۔ممکن ہے اللہ رب العزت مہربانی فرما کر حقوق اللہ کو معاف فرما دیں مگر حقوق العباد (بندوں کے حقوق ) اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک اس شخص سے معاف نہ کرا دیئے جائیں جس کے حقوق تلف کئے ہیں۔ ایک الائچی حرام مال کھانے کے بے شمار ذرائع ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار ایسے بندے ہیں جو ا ن ذرائع سے بچتے ہیں مگر شرعی تقسیم میراث ایک ایسا فریضہ ہے جس میں کوتاہی کے مرتکب بڑے بڑے دیندار لوگ بھی ہیں، کئی لوگ سود، چوری، جھوٹ و فریب سے بچتے ہیں اور دیندار ہونے کے دعوے دار ہیں لیکن میراث کے باب میں دوسروں کے حقوق کھا کر آگ کے انگارے اپنے پیٹ میں بھرتے ہیں۔ حالانکہ مرنے والے کی جیب سے اگر ایک الائچی نکلے تو کسی وارث کے لئے شرعاً جائز نہیں کہ وہ اس الائچی پر قابض ہو جائے کیونکہ اس میں تمام ورثاء کا حق ہے۔ اس الائچی کو بھی ترکہ میں رکھ کر شرعی طریقہ سے تقسیم کیا جائے گا۔ لوگ رواج پر تو عمل کرتے ہیں مگر قرآن مجید پر عمل متروک ہو چکا ہے۔ رواج یہ ہے کہ عورتوں کو جہیز میں کچھ سامان دے دیتے ہیں اور میراث میں جو ان کا حق بنتا ہے خود ہضم کر لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو جہیز میں پوری دنیا کی دولت دے دے اس کے بعد اس بیٹی کا میراث میں ایک روپیہ بھی حق بنتا ہو تو وہ ایک روپیہ اس بیٹی کا حق ہے یہ اس کو دینا پڑے گا۔ اگر اس دنیا میں نہ دیا تو کل آخرت میں اپنی نیکیوں کو صورت میں دینا پڑے گا۔ کچھ لوگ عورتوں سے یہ کہلوا کر کہ ہم نے اپنا حق معاف کر دیا،بے فکر ہو جاتے ہیں ایسا کرنے سے ان کا حق معاف نہیں ہو گا اسکی صرف ایک صورت ہے وہ یہ کہ میراث کے مال کو اور جائیداد کو شرعی طریقہ سے تقسیم کر دیا جائے اور جائیداد ورثاء کے نام کر کے حوالے کر دی جائے اس کے بعد اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے اپنا حق ہبہ کرنا چاہے یا واپس کرنا چاہے تو جائز ہے۔ جبری ملکیت وراثت کے ذریعہ جو ملکیت ورثاء کی طرف منتقل ہوتی ہے وہ جبری ملکیت ہے، نہ تو اس میں وراثت کا قبول کرنا شرط ہے اور نہ وارث کا اس پر راضی ہونا شرط ہے بلکہ اگر وہ اپنی زبان سے یوں بھی کہہ دے کہ میں اپنا حصہ نہیں لیتا تب بھی شرعاً وہ اپنے حصے کا مالک بن جاتا ہے یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے حصے کو قبضے میں لینے کے بعد شرعی قاعدے کے مطابق کسی دوسرے کو ہبہ کر دے یا بیچ ڈالے یا تقسیم کر دے۔میراث کی شرعی تقسیم میں کتنی کوتاہی ہوتی ہے ؟ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ میراث کے مسائل ہر عالم اور مفتی کو یاد بھی نہیں ہوتے اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہوں نے یہ مسائل پڑھے نہیں ہوتے ، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان سے کوئی میراث کے مسائل پوچھنے والا ہی نہیں آتا حالانکہ ہر روز ہزاروں مسلمان فوت ہو رہے ہیں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ علماء کے پاس میراث کے مسائل پوچھنے والوں کی لائنیں لگی ہوں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہر روز اتنی طلاقیں نہیں ہوتیں جتنے انسان فوت ہو رہے ہیں لیکن طلاق کے مسائل پوچھنے والے سب سے زیادہ ہیں۔ میراث کی اسی اہمیت کے پیش نظر حضور اقدس نے علم میراث سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل بتائے اور میراث میں کوتاہی کرنے والوں کے لئے وعیدیں سنائیں۔ ذیل میں میراث کی اہمیت اور فضیلت اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے بارے میں چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔ علم میراث سیکھو اور سیکھاؤ ۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس نے فرمایا تم علم فرائض (علم میراث) سیکھو اور لوگوں کو بھی سیکھاؤ کیونکہ میں وفات پانے والا ہوں اور بلاشبہ عنقریب علم اٹھایا جائے گا اور بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی حصہ میراث کے بارے میں باہم جھگڑا کریں گے اور انہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو ان کے درمیان اسکا فیصلہ کرے۔ میراث نصف علم ہے تم فرائض (میراث)سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤکہ وہ نصف علم ہے بلاشبہ وہ بھلا دیا جائے گا اور میری امت سے یہی علم سب سے پہلے سلب کیا جائے گا۔ عالم جو فرائض (میراث ) نہ جانتا ہو ایسا ہے جیسا کہ بے سر کے ٹوپی یعنی اس کا علم بے زینت و بے کار ہے۔ سر جس میں چہرہ ہی نہیں ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضوراقدس نے فرمایا جس نے کسی وارث کے حصہ میراث کو روکا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کے حصے کو روکیں گے ۔ایک صحیح حدیث کا مضمون ہے کہ بعض لوگ تمام عمر اطاعت خداوندی میں مشغول رہتے ہیں لیکن موت کے وقت میراث میں وارثوں کو ضرر پہنچاتے ہیں (یعنی بلاوجہ شرعی کسی حیلے سے محروم کر دیتے ہیں یا حصہ کم کر دیتے ہیں) ایسے شخصوں کو اللہ تعالیٰ سیدھا دوزخ میں پہنچا دیتا ہے۔حضور نے فرمایا جس نے مال حق کے ساتھ لیا تو اس میں برکت ڈالی جائے گی اور جس نے بغیر حق کے مال لیا تو اس کی مثال اس شخص سی ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ علم میراث ، طلاق اور حج کو سیکھو یہ تمہارے دین میں سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ علم میراث کو سیکھو عنقریب آدمی اس علم کا محتاج ہو گا جس کو وہ جانتا تھا، یا ایسی قوم میں ہو گا جو علم نہیں رکھتے۔

مزید :

کالم -