اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے درختوں کے سایوں، نادیدہ بہتے پانی کی سرگوشیوں اور اپنے پاؤں کی آہٹ سے کبھی کبھی نا معلوم سا خوف محسوس ہوتا تھا

اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے درختوں کے سایوں، نادیدہ بہتے پانی کی سرگوشیوں ...
اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے درختوں کے سایوں، نادیدہ بہتے پانی کی سرگوشیوں اور اپنے پاؤں کی آہٹ سے کبھی کبھی نا معلوم سا خوف محسوس ہوتا تھا

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:143

اس حیرت افزا گفتگو نے ہماری رفتار کو سست کر دیا تھا۔ اچانک رہنما نے برو شسکی کوئی شاعری بلند آواز میں گانی شروع کر دی۔اس کی آواز کھرج دار تھی اور چاندنی کے نیم اجالے میں خا موش وادی کی پہاڑیوں اور گھا ٹیوں میں گو نج رہی تھی۔ گائیکی ختم کر کے اس نے بتا یا کہ یہ اس کی اپنی شاعری تھی۔ پھر اس نے ترجمہ سنایا ۔اندھیرا گہرا ہونے کی وجہ سے مجھے درختوں کے سایوں، جھاڑیوں کے ہیولوں، نادیدہ بہتے پانی کی سرگوشیوں اور اپنے پاؤں کی آہٹ سے کبھی کبھی نا معلوم سا خوف بھی محسوس ہوتا تھا۔ کریم آباد ابھی جانے کہاں تھا!جو گھر، جاتے ہوئے دکھائی دئیے تھے وہ بھی اندھیرے میں گم تھے اور راستے کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ابھی اور کتنا باقی ہے۔

 عشاءکا وقت ہو چکا تھا۔ ایک جگہ رہنمانے ہم سے عشا ءکی نماز پڑھنے کی اجازت چاہی،میں نے ایک طرف سے ہو کر آگے نکلنا چاہاتو اس نے بازو آگے کر کے مجھے بڑھنے سے روکا اور پیچھے رکنے کا اشارہ کیا۔ میں ٹھٹک کر رک گیا۔ ہم سب ایک طرف کو ہو کر زمین پر بیٹھ گئے۔ 

چاند اب آسمان میں خوب نمایاں اور روشن تھا۔نیچے وادی میںپیڑوں کے لمبے سایوں اور چاندنی کا جال بچھا ہوا تھا۔ ہم ماحول کے زیر ِ اثر خود بھی سر گو شیوں میں باتیں کر رہے تھے جیسے ہمارے اونچا بولنے سے کچھ ٹوٹنے کا اندیشہ ہو۔ نماز ختم ہوئی تو ہم آگے بڑھے۔

سناٹے میں غرق پہاڑوں میں رات کا وقت، ایک سنسان اندھیرے راستے پر نا دیدہ روحوں کا قافلہ۔۔ میں کچھ ڈر گیا اور نا دانستگی میں ۔

 ہم اپنے رہنما کے قریب قریب دائیں بائیں دیکھتے ہوئے محتاط ہو کر چلنے لگے ۔ 

نیچے وادی میں گھروں کے قمقمے دکھائی دینے لگے تو ذرا حوصلہ ہوا۔ ہم کریم آباد کے پاس تھے۔ نوجوانوں سے بھری ایک جیپ ہمارے پاس سے گزری جس میں سوار غالباً نشے میں دھت نوجوان بہت غل مچا رہے تھے۔ ان کے ہنگامے سے لگتا تھا کہ وہ نشے میں کم ہیں اور ”اوور ایکٹنگ“ زیادہ کر رہے ہیں ۔ کچھ دیر سناٹے میںجیپ کے انجن کی گھرررر گھرررر گونجتی رہی پھرنوجوانوںکے شور اور گاڑی کی عقبی سرخ روشنیوں سمیت اندھیرے کی دلدل میں ڈوب گئی۔ التر والے چشمے کا پُل آیا۔ گھپ اندھیرے میں پانی کا شور کا نوں کو بھلا لگا اس کا مطلب تھا کہ ہم کریم آباد پہنچنے والے ہیں۔ یہاں سے کریم آباد کے شارٹ کٹ کی چڑھائی قریب تھی۔ ایک نوجوان اوپر سے اتر رہاتھا۔ اس نے پی رکھی تھی اور دنیا و ما فیہا سے بے خبر اونچی آواز میں ایک مشہور گیت گا رہاتھامجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ عام شرابیوں کی طرح کہیں ہم مسافروں کے گلے پڑنے کی کوشش نہ کرے لیکن وہ لڑکھڑاتا ہوا ہمارے پاس سے گزر کر التیت کی طرف چلا گیااور ہم کریم آباد کی چڑھائی سر کرنے لگے۔

کریم آباد میں ابھی دکانیں بند نہیں ہوئی تھیں۔ ہمارے باقی دوست پتا نہیں کہاں تھے؟ ہم نے نئے دوست کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کر دیا اور ہمارے اصرار کے باوجودنہیں مانا، پھر ہم سے ہاتھ ملا کر جاپان چوک کی طرف چلنے لگا۔ پتا نہیں یہ کون تھا جس نے بس یوں ہی اپنا آدھا دن ہمیں دے دیا تھا۔میں نے ایک دو لمحے اس فلسفی شاعر اور پیارے انسان کو جاتے دیکھا جسے آج سہ پہر سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور شاید آج کے بعد دوبارہ کبھی نہیں دیکھو ں گا۔ مجھے لگا جیسے میرا بہت عزیز دوست جا رہا ہے۔ پھر میں دوستوں کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی ہوٹل ڈھونڈنے لگا۔کھانے کے بعد ہم ہو ٹل کے ٹیرس پر آ بیٹھے۔ ہوا سرد ہو چلی تھی۔ راکا پوشی چاندنی میں نہا کر بالکل چاندی کی ہو گئی تھی۔ اس کا حسن واقعی پاگل کر دینے والا تھا۔ التر کی کی برفوں کے نیچے قلعہ بلتیت برقی روشنیوں میں چمک رہا تھا۔ تھکاوٹ کے باوجود ہم رات گئے تک اس دیو مالائی منظر کو دیکھتے اور باتیں کرتے رہے۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -