پانامہ کیس سے کئی سوالات نے جنم لیا ،نواز شریف کی نا اہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت ’’ رول آف مارشل لاء ‘‘کیلئے ہے:عاصمہ جہانگیر

قومی

کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی سابقہ صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پانامہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدذہنوں میں کئی سوالات نے جنم لیا ہے ، کیا کسی وزیراعظم کو تاحیات نا اہل کرنے کی آئین اجازت دیتا ہے ؟جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے اہلکاروں کو کس آئین کے تحت رکھا گیا؟ کسی کو بھی بغیر ٹرائل کے نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا ،نواز شریف کی نا اہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت رول آف لاء کے لئے نہیں بلکہ ’’ رول آف مارشل لاء ‘‘کیلئے ہے،  جمہوریت کو سنگین خطرات لاحق ہیں بوٹوں کی دھنک اور کھنک بہت قریب سے آرہی ہے۔

 کوئٹہ پریس کلب میں اظہارخیال کرتے ہوئےعاصمہ جہانگیرنے کہا کہ سپریم کورٹ کی آن ،بان ، شان جمہوریت سے ہی ہے ، مارشل لاء میں اسکی حیثیت کسی لیفٹیننٹ کرنل سے زیادہ نہیں ہوتی ، ملک کے حالات ٹھیک نہیں سیاسی عدم استحکام بڑھتا جارہا ہے ، سیاست کو کیچڑ بنادیا گیا ہے جس سے اب کسی کا دامن محفوظ نہیں رہا ، پگڑیاں اچھالی جارہی اور ذاتی حملے ہورہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایک شخص کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا،  قانون ،جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہئے، پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے ، عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ، نا اہلی کے فیصلے کو قبول کرنے کے بعد اس پر عملدرآمد بھی ہوگیا لیکن بعض حلقوں کی چیخ و پکار سے لگتا ہے کہ انہیں ایک نا اہل شخص کی عوام میں واپسی بھی قبول نہیں ، یہ فاشزازم اور ملک کو تباہی کی طرف لے جایا جارہا ہے ۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ججوں کو بھاری رقوم کی آفرز ہوئیں ، یہ باتیں تشویشناک ہیں اگر یہ جھوٹ تھا تو ججوں کو سختی سے تردید کرنی چاہئے تھی اوراگر سچ تھا تو رشوت آفرکرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے ، تھی ججوں میں وزڈم کی کمی نظرآتی ہے جبکہ سیاسی جماعتیں بھی آج اپنی غلطیوں کی سزا بھگت رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں موجود غلطیوں کو دور کرنا فوج یا عدلیہ کا کام نہیں،  1992ء میں بھی نواز شریف کے خلاف کرپشن کے کیسز کے تھے ، اس وقت کے 11رکنی بینچ نے انہیں کیوں بری کیا؟ کیا وہ فیصلہ درست تھا یا یہ فیصلہ درست ہے ؟ سیاست کا معیار اتنا گرچکا ہے کہ خواتین  کی تذلیل کی جارہی ہے  ، یہاں دلائل کی بجائے ذاتیات پرحملے کئے جارہے ہیں ۔عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پارلیمان اور عدلیہ آمنے سامنے ہوں تو جمہوریت نہیں چلتی ،جمہوریت کیلئے سیاسی کارکنوں ،وکلاء اور صحافیوں نے بہت ماریں کھائی ہیں، جیلوں کی مشکلات برداشت کیں، ماضی میں عدلیہ ،سیاسی دباؤپرفیصلے کرتی تھی لیکن پھر وکلاء کی تحریک چلی اور عدلیہ بحال ہوئی ۔