پینتیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

شجاع قوم پٹھان

مجدود اور ایاز: دونوں کی بود وباش یہاں تھی اور دونوں نے یہیں وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے ان کی قبریں اب بھی اس لاہور کے علاقہ میں موجود ہیں۔
اور اس بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہتا کہ ان تمام بیانات میں لاہور سے مراد پشاور کے قریب واقع لاہور ہے۔ پنجاب کا لاہور ہرگز مرادنہیں ہے۔
جیسا کہ سید سراج الاسلام لکھتے ہیں:
۔۔۔اب ہندوستان کے شمال مغربی دروازے پر ایک نئی طاقت ابھر رہی تھی۔ یہ طاقت ترکوں کی تھی۔ جس کا دارالسلطنت غزنی تھا۔ ۹۶۳ء میں الپتگین کے مرنے کے بعد اس کے غلام سبکتگین کو اس کی جگہ بادشاہ بنایا گیا۔ اس وقت ہندوستان کے شمال مغربی علاقہ پر راجہ جے پال حکمران تھا۔ جس کی حکومت (مشرق میں دریائے) چناب تک پھیلی ہوئی تھی۔ ۹۸۶ء میں سبکتگین نے اس پر حملہ کیا۔ اور اسکو شکست دیکر واپس لوٹ گیا۔ اس کے جاتے ہی جے پال نے پھر سراٹھا لیا۔ اس لئے اپنے دوسرے حملے میں سبکتگین نے پشاور فتح کر لیا۔ اور جے پال کو اپنی سلطنت کے ایک وسیع حصہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔(عہد قدیم مشرق و مغرب ص ۳۷۴)

چونتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
اس بیان سے ہم پوری طرح اندازہ کر سکتے ہیں کہ الپتگین کے عہد میں راجہ جے پال یا ہندی لاہوری حکومت کی سرحدیں کہاں تک تھیں اور اس کا دارالسطنت دے ہند یا لاہور کہاں واقع تھا۔
سلاطین غور اور لاہور
تاریخ ابن خلدون حصہ ششم غزنوی اور غوری سلاطین ص ۳۱۴ غیاث الدین کا غزنی پر قبضہ
اس اثنا میں غیاث الدین نے جس کی حکومت کو ہر لحاظ سے استحکام حاصل ہوگیا تھا فوجیں آراستہ کرکے غزنین پر چڑھائی کر دی۔ خراسانی ا ور غوری فوجیں اس کے ہم رکاب تھیں۔ ۵۷۱ء میں دونوں حریفوں کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئیں۔ اس جنگ میں امراء دولت غزنویہ کو شکست ہوئی۔ غیاث الدین نے غزنین پر قبضہ کر لیا اس کے بعد کرمانا ور شنوران پر دھاوا بول دیا۔(یہ کرمان ہند اور غزنی کے درمیان واقع ہے اس سے ملک فارس کا کرمان مقصود نہیں ہے) کرمان اور شنوران کے فتح کر لینے کے بعد لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ خسرو شاہ بن بہرام شاہ نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا اور دریا کو عبور نہ کرنے دیا۔ (دریا کا نام اس زمانہ میں بقول البیرونی دریائے منارہ تھا اور اب بعض لوگ اسے دریائے کابل اور بعض دریائے لنڈے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس مقام پر مشمولہ ایک نقشہ سے ظاہر ہوتا ہے) مجبوراً غیاث الدین کو واپس ہونا پڑا۔ واپسی کے وقت بعض پہاڑی مقامات پر جو کہ ہند کے پہاڑوں سے متصل تھے قبضہ کر لیا۔
شہاب الدین کی لاہور پر فوج کشی:
شہاب الدین غزنی فتح کرنے کے بعد اہل غزنین کے ساتھ مدارات سے پیش آیا اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حسن سلوک سے پیش آیا جس سے اس کی ہر دلعزیزی بڑھ گئی۔ حکومت و سلطنت کی بنیاد مضبوط ہوگئی۔ ہندوستان کے اکثر سرحدی اور پہاڑی ممالک کو فتح کر لیا۔ اس کی ملک گیر اور فتوحات کا سیلاب ’’لاہور‘‘ تک پہنچ گیا جو اس زمانہ میں خسرو ملک آخری تاجدار دولت غزنویہ کا پایہ تخت تھا۔ ۵۷۹ھ میں شہاب الدین نے خراسان اور بلاد غور سے فوجیں فراہم کرکے ’’لاہور‘‘ پر فوج کشی کی، دریا کو عبور کرکے لاہور کا محاصرہ کر لیا۔
یہی مضمون ابن خلدون نے اپنی اسی تاریخ میں ایک اور جگہ بھی بیان کیا ہے اور وہاں پر اس نے اس دریا کا نام لکھ کر اس مضمون کے ابہام کو بالکل ختم کر دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ
’’شہاب الدین نے ۵۷۹ء میں ایک بڑی فوج لے کر لاہور پر چڑھائی کی اور دریائے سندھ کو عبور کرکے لاہور کا محاصرہ کر لیا۔‘‘ الغرض باہم نام و پیام شروع ہوا۔ دامادی رشتہ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی اور حسب خواہش جاگیریں دینے کا وعدہ کیا مگر شرط یہ لگا دی کہ میرے بھائی غیاث الدین کے نام کا خطبہ پڑھا جائے۔ خسرو ملک نے اس سے انکار کیا تب شہاب الدین نے محاصرہ میں سختی شروع کی۔ اہل شہر شدت محاصرہ اور جنگ سے گھبرا گئے۔ خسرو ملک کو برا بھلا کہنے لگے۔ خسرو ملک نے قاضی شہر اور خطیب جامع مسجد کو امن کی درخواست دے کر شہاب الدین کی خدمت میں روانہ کیا۔ شہاب الدین نے امن کی درخواست منظور کرلی اور فتح کا جھنڈا لئے ’’لاہور‘‘ میں داخل ہوا۔ چند روز تک خسرو ملک عزت و احترام کے ساتھ شہاب الدین کی خدمت میں رہا۔ دو مہینہ کے بعد غیاث الدین کا حکم پہنچا کہ خسرو ملک کو اس کے اہل و عیال کیساتھ میرے پاس فیروز کوہ بھیج دو۔ چنانچہ خسرو ملک کو اہل عیال کے ساتھ فوج کے ایک دستہ کی حفاظت میں فیروز کوہ بھیجا گیا۔ ‘‘
کہتے ہیں کہ لاہور اوراس کے اطراف کو مکمل طور پر قابو کرکے تب شہاب الدین غزنی کو واپس ہوا۔ اور کچھ عرصہ بعد پھر آکر جہلم سے آگے مشرق کو بڑھا اور سیالکوٹ کو جو دریائے راوی اور چناب کے درمیان ہے ۵۸۰ء میں قبضہ کرکے قلعہ سیالکوٹ کو بنایا۔ اور حسین خرمیل کو وہاں کا حاکم مقرر کیا اور قلعہ کو خوب مضبوط کرکے حسین خرمیل کی نگرانی میں دے کر شہاب الدین خود غزنی واپس چلا گیا۔ اس کے بعد ۵۸۷ء میں پھر آکر دہلی وغیرہ پر حملہ کرکے ناکام واپس ہو کر چلا۔ پھر خوب تیاری کرکے اگلے سال آکر زبردست حملہ کیا اور سخت جنگ کے بعد ہندوؤں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ جمایا۔(جاری ہے)

چھتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔