بھار ت گھٹنے ٹیک دے

بھار ت گھٹنے ٹیک دے
بھار ت گھٹنے ٹیک دے

  


  کچھ کرو کہ بھارت گھٹنے ٹیک دے۔ظالموں  نے کشمیر کا  سپیشل سٹیٹس ختم کردیا۔ اب  صاحب  ثروت  لوگ پورے ہندستان سے آمڈ آئیں  گے۔  زمینیں  خریدیں گے۔ غریب نے  زمین  بیچ کر  پیٹ بھرنا ہے۔ زمینیں  بیچی جائیں گی۔اور  خریدی جائیں گی۔  بی۔جے۔پی کو  اکثریت ملنے میں اتنے برس کیوں لگ گیے؟ بھارت  اتنا  بہادر کیسے ہوگیا؟ کیا  بھارت کو معلوم تھا  دنیا  اس پر خاموش  رہے گی۔ مظاہرے بھی ہوے ہیں۔ کن لوگوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ یہ اپنے ہی لوگ ہیں جو ملک چھوڑ کر چلے گیے تھے۔ جن ملکوں  میں یہ  رہتے ہیں وہاں کے مقامی باشندے بھی سڑکوں پر آے کیا؟ کیوں نہیں آے؟ چلو چین  اقوام متحدہ  میں قرارداد  کو  بیک اپ  کرے گا۔  

کیا  جنگ ہوگی؟ جنگی سرگرمی بڑی مہنگی پڑتی ہے۔ ایمرجنسی نافذ کرنا  پڑتی ہے۔ نقل  و  حمل مہنگا کام ہے۔ کوئی  ائر  سٹرائیک ہی کردو۔ یہ بھی کافی مہنگا کام ہے۔ کافی  بڑا  بل آے گا۔ بل  ادا  کرنے کی تو  پہلے ہی سکت نہیں رہی۔ سہہ ماہ  یا  چھ  ماہ کی قسط آنی ہوتی ہے۔ کیا کہا تین یا  چھ ماہ  بعد ملک چلانے کے لیے تنخواہ آنی ہوتی ہے؟  آئی۔ایم۔ایف قسطیں  بیجتا رہتا ہے۔ نہیں  بھیجے گا  تو کیا ملک  رک جاے گا؟ ملک کیسے  رکے گا؟  تنخوائیں  رک سکتی ہیں۔  ایسا  نہ کہو  یار۔ تنخوائیں کیا  باہر سے آتی ہیں ہماری؟ کس نے جرات کی یہ کہنے کی؟ 

کچھ نہ کچھ تو ہوگا ہمارے حق میں۔ کشمیر  ایسے  ہی  چلا  جاے گا کیا؟ یہ  ہمارا  ملک کہاں کہاں پھنسا  ہوا  ہے؟  ایف۔ٹی۔ایف کیا  چیز  ہے؟ کہتے ہیں بلیک لسٹ کریں گے پاکستان کو  اگر شرائط  پر  پورا  نہ  اترا   تو۔  پھر کیا  ہوگا۔ آئی۔ایم۔ایف سے تنخواہ  آنا  بند ہوجاے گی کیا؟

اس طرح کی باتیں نہیں سوچنی چاہیے۔ اللہ کرے گا  بہتر ہوگا۔ ہماری  دعا ہے  اللہ کشمیریوں کی  مدد  فرماے۔ظلم  اور  زیادتی کی نوک  پر  ہیں نہتے لوگ۔  ہم  مدد کیسے کریں انکی۔ اللہ ہی  مدد کرے اب  تو۔

  جب معلومات کم ہوتی ہے۔ تو  اندازے لگاے جاتے ہیں۔ جو  توقعات  رکھی  جاتی ہیں  وہ  ان  اندازوں کی بنیاد  پر  رکھی جاتی ہیں۔ ان  توقعات کا  پورا  ہونا  ایک جوے کی طرح ہے۔ کیا  توقعات  یہ تھیں کہ مغربی  دارلحکومتوں کی سڑکوں پر وہاں کے  مقامی لوگ  لاکھوں کی تعداد  میں  امڈ آئیں گے؟ تبھی تو ممکن ہے کہ وہاں کی حکومتیں  بھار ت کو  واشگاف  الفاظ میں بیک فٹ  پر  جانے کو  کہتی۔  بھارت پر  جارحانہ  تنقید  ہوتی  اور  اور  اقوام  متحدہ  اقتصادی  پابندیوں کی  بات کرتی  اور  لگا  دیتی۔ بھارت  رفتہ  رفتہ کمزور  ہونے لگتا  اور کچھ  قدم  پیچھے ہٹنے پے آمادہ  ہوجاتا۔ اقوام  متحدہ کی قراردادوں  پر عملدرآمد کرنے  پر آجاتا۔  ایسا  تو  نہ  ہوسکا۔ تو پھر کیا  ہوگا؟

کسی نا کسی کو  تو  ذمہ  داری  قبول کرنی ہے  نا۔  اس سفارتی  ناکامی کی؟ کسی نے بھی نہیں کرنی کیا؟  عجیب  سینہ  زوری ہے۔  یعنی کرسی  پر بھی بیٹھے۔ مال بھی کھایا۔  اور  ناکامی کی ذمہ  داری بھی کسی  اور کی۔ ہاں حالات ہی کچھ مشکل سے مشکل ہوتے گیے ہیں۔  بیرونی عوامل مخالف سے مخالف تر ہوتے گیے۔ ہواوں  پر  زور نہیں چلتا جب  وہ  مخالف سمت میں چلنے لگیں۔ وضاحت  ہوتی ہے ہر  بات کی۔الزام نہیں آنے دینا۔نااہل ہم نہیں کوئی اور  ہے۔

مغرب میں  جدھر دیکھو  دائیں  بازو کی سیاسی جماعتیں  پاور  میں آرہی  ہیں۔ بی۔جے۔پی سمیت۔ یہ معلوم ہے  بھارتی  سرکار  کو۔  دائیں  بازو  کی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی کسی تحریک کو  برداشت نہیں کرتی۔  انکی خواہش ہے  اور  باقائدہ  ایجنڈ ا  ہے کہ  تاریک وطن کو  اپنے ملکوں میں آنے سے نہ صرف  روکا  جاے بلکہ جو  موجود  ہیں ان کا  ناتکا بھی  بند کیا جاے۔مزید  براں  بھارت  سوا  ارب  کی  بزنس مارکیٹ ہے۔ کیپیٹلزم  سوا  ارب کی  بزنس مارکیٹ کو  ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

پھر ہونا کیا ہے؟ یہ  تنازعہ  زندہ  رہے گا  اور  ہمارا  نوالہ  چھینتا  رہے گا۔  عوام کو کیوں  بتایا ہے کہ بھارت کمزور  ملک ہے  اور ہم کشمیر کا کیس تقریباً جیت ہی چکے ہیں۔ یہی تو  بتاتے آے ہیں عوام کو۔ اگر سیاستدان عوام کو حقیقت بتادیں  تو کیا  انکی سیاست کے دن  تھوڑے رہ  جاتے ہیں؟  

چلیے کوئی  اندازہ  لگاتے  ہیں۔ اب کیا  ہوگا؟  جنگ ہوگی؟ جنگ کا  فیصلہ صاحب ثروت لوگوں یعنی  نام  نعاد  الیٹ کلاس کو ساتھ لے کر کیا  جانا  چاہیے۔ ویسا  وہ  ساتھ ہی  ہوتے ہیں۔ بلکہ فیصلے بھی  انہوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ ایسا  معرکہ نہیں چاہیں گے جس میں وہ  اور  انکے  اہل خانہ  اپنی اپنی دولت  اور  ثروت سمیت فنا  فی اللہ ہوجائیں۔

اس لیے جنگ تو نہیں ہوگی۔ پھر کیا  ہوگا؟  وہ  جو  ہورہا  ہے۔  سیاستدان بھی  ہوشیار لوگ ہوتے ہیں۔ وہ  بحران کو  اپنے  فیور  میں  استعمال کرنا جانتے  ہوتے ہیں۔ عوام کی  توجہ  ایشیوز سے ہٹ کر  نان  ایشیوز  پر آنا  ان  کے لیے  اچھا ہوتا ہے۔

ٓاور  بڑے ملک بھی نہیں چاہتے کہ سرد  جنگ گرم جنگ بن جاے  اور  انکے  مفادات کو  زک  پہنچے۔ سرد  جنگ انکی  ہتھیاروں کی مارکیٹ کو  خوشحال  رکھتی ہے۔ اسے تو چلنا  چاہیے۔ غریب  اور کمزور  نے قربانی  دینا ہوتی ہے۔ چارہ  ہی کوئی نہیں۔  اللہ انصاف کرے گا۔ بدلے کا  دن آے گا۔  یہ اللہ کا  وعدہ  ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...