اسلامو فوبیا کا علاج (1)

اسلامو فوبیا کا علاج (1)
اسلامو فوبیا کا علاج (1)

  

اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام سب سے جامع اور کامل دین ہے اس دین نے پہلے تمام ادیان کو منسوخ کر دیا ہے یہ اس کائنات کے خالق و مالک جلّ جلالہ کا فیصلہ ہے کہ اس نے اسلام کو بطور دین تمام انسانیت کے لیے پسند فرمایا ہے ایک انسان کی دونوں جہان میں کامیابی صرف اس میں ہے کہ وہ دین اسلام کے زیر سایہ زندگی بسر کرے،وہ انسا ن جنہوں نے ہٹ دھرمی اور ضد کا رستہ اپنایا وہ اسلام کو قبول نہ کر پائے اور پھر اسلام سے بغض کی آگ میں جلنا شروع ہو گئے۔ اسلام تو نور ِ الہی ہے جس کا ہر طرف چھا جانا ایک یقینی امر ہے۔

روز بروز اسلام کی ترقی دیکھ کر اہل ایمان خوش ہوتے ہیں جب کہ بغضِ اسلام کے مریض اس ترقی کو دیکھ کر مزید عداوت کی آگ میں جلتے ہیں۔ اسلام کی اس فطری نشوونماسے جل کر اس کی راہوں کو بند کرنے کے ارادے سے مختلف قسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ایک طرف داعش جیسی تنظیموں کو پروان چڑھا کر اسلام جو کہ روئے زمین پر سے فساد ختم کر کے امن قائم کرنے والا دین ہے، اس پر دہشتگردی کا الزام لگانے کے لیے جواز بنانے کی کوشش کی گئی۔ نائن الیون کے بعد سے دنیا بھر میں جہاں کہیں دہشت گردی کی واردات ہوئی اس کا ناطہ مسلمانوں سے جوڑنا عام فیشن بن گیا۔

چند کج فکر لوگوں کی ان حرکتوں کی آڑ میں اسلام دشمنوں کو دین حنیف کے خلاف بغض کا موقع ملا۔ حالانکہ پوری امت مسلمہ دہشت گردی کرنے والوں سے برأت کا اظہار کرتی رہی اور دوسری طرف اسلامو فوبیا یعنی اسلام دشمنی میں جلتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔

یورپ میں کئی صدیوں سے اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں بالعموم اور یورپ میں بالخصوص اسلام کے خلاف نفرت اور عداو ت کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔مسلسل غلط پراپیگنڈے اور میڈیا کی ہرزہ سرائی نے اسلام دشمنی کی بیماری اسلامو فوبیا پیدا کی گستاخانہ خاکے، گستاخانہ فلمیں، مساجد پر حملے اور نقاب و حجاب کے خلاف نفرت کی لہر اسی اسلامو فوبیا کا شاخسانہ ہے حالانکہ اسلام امن کا مذہب ہے جو بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے مغرب نے خود ساختہ اور غلط تصورات کے تحت اسلام دشمنی کی جو فصل بوئی تھی وہ اب پک کر تیار ہو گئی ہے۔

پھر اسلام اپنی صداقت کے بل بوتے پر جو پھیل رہا ہے اسلام کا مغربی دشمن اور ان کی نسل پرست تنظیمیں اسلامو فوبیاکی بنیاد پر یہ سمجھنا شروع ہو گئی ہیں کہ مسلمان یورپ میں اپنا اثرو رسوخ پھیلا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ پورے مغربی کلچر پر مسلمانوں کی گرفت مضبوط ہو جائے۔ چنانچہ اسلامو فوبیا کے باؤلے دن رات اسلام کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔

دن رات ان کی زبان اور قلم پر یہی نعرہ ہے:اسلامی شدت پسندی (Islamic Redicalism)، اسلامی دہشت گردی(Terrorism Islamic)، اسلامی انتہا پسندی(Extremism Islamic)، اسلامی تشدد (Violence Islamic)۔ یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ دہشت گردی ہو یا انتہا پسندی ہو اسے اسلام کے ساتھ ہی نتھی کیوں کیا گیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2017 ؁ میں آسٹریلیا کے پانچ بڑے اخبارات میں ایک سال میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تقریبا تین ہزار مضامین شائع کیے گئے۔

نیوزوِیک اور ٹائم نے اسلام کے بارے میں اپنے بیس اہم مضامین علیحدہ کر کے شائع کیے جن میں اکثر مواد اسلام کے خلاف تھا امریکہ میں 2009 ؁ء میں ایک رپورٹ شائع ہوئی The Roots of islamo phobia ”اسلام سے نفرت کی جڑیں“ اس کے مطابق سات رفاہی تنظیموں نے 2001 ؁ سے 2005 ؁ تک 43 ملین ڈالر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے پر خرچ کیے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 5 سالوں میں 206 ملین ڈالر 33 گروپس کو دئیے گئے تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کو ہوا دیں۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا شکار بھی مسلمان ہیں اور دہشت گردی کا الزام بھی مسلمانوں پر ہے۔دہشتگردی کا جب بھی لفظ بولا جاتا ہے تو اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کر کے مسلم دہشتگردی کہا جاتا ہے۔

ایسے ہی انتہا پسندی اور شدت پسندی کا سابقہ بھی ہمیشہ لفظِ مسلم کو قرار دے کر مسلم انتہا پسندی اور مسلم شدت پسندی کی اصطلاحات رائج کر دی گئی ہیں۔اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صرف مسلمان ہی دہشتگرد ہوتا ہے یہودی،نصرانی (عیسائی)،بدہسٹ یا اور کوئی باطل پرست دہشتگرد نہیں ہو سکتااس طرح مسلمان دونوں طرف سے ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان مختلف صدیوں میں اجتماعی اور انفرادی طور پردہشتگردی کا شکار تو ہوتے آئے ہیں مگر مسلمانوں نے کبھی بھی دہشتگردی کا ارتکاب نہیں کیا، سوائے ان چند بھٹکے ہوئے لوگوں کے جنہیں خود امریکہ اور یہود نے مسلمانوں کے نام سے تیار کیا۔ دین اسلام میں جہاد کا حکم یقینا موجود ہے جو قیامت تک جاری رہے گامگر جہاد کا مقصد زمین پر قیام امن اور فساد کا خاتمہ ہے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -