افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!

  

ہم سکول کی لوئر مڈل کلاسوں میں تھے کہ اس قسم کے اشعار یاد کیا کرتے تھے:

مگس کو باغ میں جانے نہ دینا

کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا

پھر اپنے ہمجولیوں کو یہ اشعار سنا سنا کر ان سے ان کا مطلب بھی پوچھا کرتے تھے۔ اور جب وہ یہ سوال کیا کرتے کہ ’’مگس‘‘ کیا چیز ہے تو ہم فخر سے تن جایا کرتے تھے اور پھر بڑے عالمانہ انداز میں ان کو سمجھایا کرتے تھے کہ دیکھو مگس، شہد بنانے والی مکھی کو کہتے ہیں۔ وہ بڑا سرکھجاتے کہ مگس، شہد، باغ اور پروانے کا آپس میں کیا تعلق ہے اور پھر جب ’’ہینڈز اپ‘‘ کر دیا کرتے تھے تو ہم دوبارہ اپنی دانشوری کا سکہ بٹھانے کے لئے اس شعر کے معانی کی پوری تفسیر فر فر بتایا کرتے تھے۔ ۔۔۔ اسی قبیل کا ایک شعر یہ بھی تھا:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

اس شعر کی تشریح و تعبیر کے لئے قصۂ موسیٰ و فرعون یاد کرنا پڑتا تھا اور اس طرح مفت میں بنی اسرائیل کی مختصر تاریخ بھی یاد ہو جاتی تھی۔۔۔۔ آج مجھے یہ سطور لکھتے ہوئے یہ شعر اس لئے یاد آیا کہ کل ترکی کے وزیر خارجہ جناب مولود کاؤسوگلو ایک دن کے دورے پر اسلام آباد تشریف لائے اور انہوں نے ہمارے امورِ خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز کے ساتھ جو مشترکہ میڈیا کانفرنس کی اس میں پاک ترک دوستی کا پورا ماضی بیان کیا اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی اپنی تائید و حمایت بھی یاد دلائی اور ساتھ ہی دونوں ممالک کے اولین دفاعی تعلقات، سیٹو اور سنٹو کے معاہدے، پاک بھارت جنگوں میں پاکستان کو ترک اسلحہ اور گولہ و بارود کی فراہمی اور پاکستان ائر فورس اور پاک بحریہ کو ترک فضائیہ اور ترک بحریہ کے ماضی و حال کے باہم انٹرایکشن کی تاریخ کے اوراق بھی پلٹے۔ لیکن میرے نزدیک قصیدے کی یہ ’’تشبیب‘‘ محض ’’چونا گیرو‘‘ تھی۔ جب ’’گریز‘‘ کا آغاز کیا گیا تو تب معلوم ہوا کہ ان کی اسلام آباد آمد کا اصل مقصد کیا تھا۔ ان کو انقرہ نے اس لئے بھیجا تھا کہ پاکستان میں پاک ترک سکولوں اور کالجوں کا جو ایک وسیع سلسلہ پھیلا ہوا ہے اس کا سدباب کیا جائے اور اگر ہو سکے تو ان سکولوں اور کالجوں کو سربمہر کر دیا جائے۔ ترک وزیر خارجہ کا یہ مطالبہ پاکستانی اربابِ اختیار کے لئے ایک چیلنج تھا۔۔۔۔ جناب مولود کاؤسو گلو کی آمد سے پہلے ہی پاکستان میں یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ ترکی بہت جلد پاکستان سے یہ مطالبہ کرے گا کہ فتح اللہ گولن کی فلاحی تحریک کے سائے تلے چلنے والے ان تدریسی اداروں کو بند کر دیا جائے۔ ترکی نے اپنے ہاں ’’گولن اثرات‘‘ کی پیش بندی کے لئے جو جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں۔ لیکن یہ ترکی کا اپنا داخلی معاملہ ہے، پاکستان سے نہ تو کسی ترک رہنما نے یہ پوچھا کہ ترکی کی جاری صورت حال میں کیا اقدامات کئے جائیں کہ ان باغیانہ کاوشوں کو روکا جا سکے جو بالآخر 15جولائی کے فوجی کُو کا باعث بنیں اور نہ ہی ہم نے خود اپنے ترک بھائیوں کو بتایا کہ آنے والے سیلاب کے خلاف فلاں فلاں مقامات پر بند تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کی آئی ایس آئی ایک بین الاقوامی شہرت کی حامل انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ دُنیا بھر کی یہ ایجنسیاں نہ صرف یہ کہ اپنے ملک کی ہمہ جہتی سیاسیات پر نظر رکھتی ہیں بلکہ گلوبل پالیٹکس کی ناہمواریاں اور ناکامیاں بھی ان کی نگاہ میں ہوتی ہیں۔ یہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ بھی ربط وا رتباط رکھتی ہیں۔ مجھے خبر نہیں ترک انٹیلی جنس نے اس موضوع پر پاکستان کی آئی ایس آئی سے بھی کوئی باہمی مشورہ کیا یا نہیں، لیکن پاک ترک دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کے تناظر میں یہ ہو نہیں سکتا کہ ترکوں نے پاکستانیوں کو اپنے امکانی خدشات سے بے خبر رکھا ہو۔۔۔ تاہم یہ امور وہ ہیں جو رموزِ مملکت کی ذیل میں شمار ہوتے ہیں اور ہم جیسے کالم نگار ان پر کوئی تبصرہ کرنے کے مجاز نہیں۔

جہاں تک پاکستان میں ’’پاک ترک انٹرنیشنل سکولوں اور کالجوں‘‘ کی زنجیر کا تعلق ہے تو اس کا آغاز 1995ء میں ہوا تھا۔اس دور میں ایک ترک دانشور اور صوفی فتح اللہ گولن اور ترک حکومت کے ’’بڑوں‘‘ میں کوئی نظریاتی یا عملی اختلافات نہیں تھے۔1999ء میں گولن، فلاڈلفیا (امریکہ) چلے گئے تو تب بھی گولن اور اردوان میں مراسم کی ڈور مضبوط رہی۔ یہ شائد 2013ء میں اس وقت ٹوٹی جب جنابِ اردوان نے گولن سے حتمی قطع تعلق کر لیا۔( اکثر قارئین اس اختلافی نوٹ سے باخبر ہیں)

پاکستان بھر میں پاک ترک انٹرنیشنل سکولوں اور کالجوں کا ایک سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔ اِس وقت اسلام آباد میں چھ، پشاور میں دو، کوئٹہ میں تین، لاہور میں پانچ، ملتان میں ایک، کراچی میں دو، جام شورو میں ایک، حیدر آباد میں ایک اور راولپنڈی میں بھی ایک کیمپس کام کر رہا ہے۔ یعنی کل ملا کر 22 کیمپس چل رہے ہیں، جن میں طلباء کی کل تعداد10,000 اور سٹاف کی1500 بتائی جا رہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ان تعلیمی اداروں کی تعداد 25ہے اور طلباء کی تعداد 11ہزار سے زائد ہے۔ اگر آپ کی نگاہ سے ان میں سے کوئی سکول/کالج گزرا ہو تو آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ کیمپس اپنے حسنِ تعمیر اور ماحول کی کشادگی کے اعتبار سے بھی خاصے جاذبِ نظر ہیں۔ ان کی فیسیں بھی اُسی طرح ’’ہوشربا‘‘ ہیں جس طرح ملک کے دوسرے چوٹی کے انگلش میڈیم تعلیمی اداروں کی ہیں۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ اتنی عظیم الشان عمارتیں اتنی مہنگی زمینوں پر اگر تعمیر کی گئیں تو ان کا خرچہ کس نے برداشت کیا؟۔۔۔ کیا پاکستان کی مرکزی یا صوبائی حکومتوں نے؟۔۔۔ کیا پاکستان کے کسی فلاحی ادارے نے؟۔۔۔ کیا پاک ترک دوستی کی کسی پاکستانی شاخ نے؟۔۔۔ یا کیا پاکستان کے مخیر حضرات نے؟۔۔۔ یقین کیجئے ان میں سے کوئی بھی ذریعہ/وسیلہ ان دو درجن سے زیادہ اعلیٰ تدریسی اداروں کے تعمیراتی منصوبوں کا بانی نہیں تھا؟۔۔۔ تو پھر کون تھا جس نے یہ سارے اخراجات برداشت کئے؟۔۔۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ سارا مالی بوجھ ترک مخیر حضرات اور ترک فلاحی اداروں نے برداشت کیا۔ یہ ترک سرمایہ دار کون تھے اور انہوں نے پاکستان کی تعلیمی ترقی میں ایسی اور اتنی دلچسپی کیوں لی اس کا جواب آپ کو گولن تحریک کی گلوبل رسائی(Reach)کا حال احوال دیکھ کر معلوم ہو گا۔اس قسم کے تعلیمی اداروں کا سلسلہ پاکستان کے علاوہ کئی دوسرے اسلامی ملکوں میں بھی پھیلا ہوا ہے اور اب صدر طیب اردوان کی حکومت ان سب ممالک سے رابطہ کر کے ان اداروں کا کوئی نہ کوئی ’’بندوبست‘‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سوالات یہ بھی ہیں کہ گولن تحریک کے یہ ترک حمائتی اور مخیر حضرات کون ہیں؟۔۔۔ ان کے کاروبار کیا ہیں؟۔۔۔ ان کاروباروں میں امریکہ کہاں تک مدد گار اور ملوث ہے؟۔۔۔ ان تعلیمی اداروں سے گولن کو کیا فوائد پہنچے؟ ۔۔۔خود ترکی میں اس طرح کے تعلیمی اداروں کی کثرت کا کیا عالم ہے؟۔۔۔ ترک دانشور، ترک میڈیا ، ترک عدلیہ، ترک انتظامیہ، ترک فوج اور ترک معاشرے میں گولن تحریک نے کہاں تک رسائی حاصل کر لی ہے ۔۔۔اور تحریک کا آخری ہدف کیا ہے؟۔۔۔ امریکہ فتح اللہ گولن کو اپنے سایۂ عطاقت میں سنبھال کر کیوں بیٹھا ہوا ہے؟۔۔۔ کیا امریکہ، ترکی میں کسی نئے اسلامی انقلاب کا داعی اور موجد تھا؟۔۔۔ کیا ترک مسلح افواج میں کمال ازم اور سیکولر ازم کی رقابت میں گولن ازم اور نیو اسلام ازم کو متعارف کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں؟۔۔۔

قارئین گرامی! یہ تمام سوال گہرے غورو خوض اور تجزیئے کا تقاضا کرتے ہیں۔ راقم السطور خود بڑی دیر تک فتح اللہ گولن کا مداح رہا۔ گولن کی ادارت میں امریکہ سے ایک میگزین ہر دو ماہ بعد شائع کیا جاتا ہے، جس کا نام ’’فاؤنٹین‘‘(Fountain) ہے۔ یہ نہایت دیدہ زیب اور معلوماتی رسالہ ہے اور اس میں لکھنے والوں میں امریکہ اور یورپ کی ٹاپ کی یونیورسٹیوں کے مسلم سکالر شامل ہیں۔۔۔ (وقت ملا تو انشا اللہ اس کا ایک تفصیلی تعارف نذرِ قارئین کروں گا)۔ پاکستان میں بھی اس کے قارئین موجود ہیں۔ اس میں مسلم ثقافت، تہذیب و تمدن، مسلم دانشوروں، اطبا، فلاسفہ، ماہرینِ علومِ مابعد الطبعیات، سائنس دانوں اور روحانیات کے مشہور و معروف سکالروں کے خیالات و افکار پر بڑے مدلل اور تفصیلی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے برسوں تک اس میگزین نے اپنا اسیرِ مطالعہ بنائے رکھا! لیکن میں نے کبھی کوئی ایسا مضمون اس میگزین میں نہیں دیکھا جس میں ترک حکومت کے خلاف کوئی مواد طبع کیا گیا ہو!

ترک وزیر خارجہ نے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔جناب سرتاج عزیز نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان تو نہیں کیا کہ پاکستان ، ان پاک ترک سکولوں/ کالجوں کو بند کر رہا ہے، لیکن یہ ضرور کہا کہ ہم اپنے ترک بھائیوں کے خدشات دورکریں گے اور اگر ان سکولوں کا کوئی تعلق گولن تحریک سے ہوا تو اس کی بیخ کنی بھی کریں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سرتاج عزیز نے ترک وزیر خارجہ کو یہ پیشکش کی ہے کہ ان سکولوں کا انتظام و انصرام اگر کوئی ترک ادارہ یا حکومت کا کوئی شعبہ سنبھالنا چاہے تو پاکستان اس کے لئے بھی تیار ہے، کیونکہ ترکی اور پاکستان کے مفادات مشترک ہیں۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ترک حکومت کو گولن تحریک کے زیر اثر چلنے والے تعلیمی اداروں کو بند نہیں کرنا چاہئے تھا کہ اس میں جو لاکھوں ترک طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں ان کا گولن تحریک سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ کرنا یہ چاہئے تھا کہ اُن سکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا جائزہ لیا جاتا، اساتذہ کے سیاسی میلانات کا تجزیہ کیا جاتا ،زیر تعلیم بچوں کے والدین کے مذہبی رجحانات کو زیر نگاہ رکھا جاتا اور اس کے بعد ایک جامع اور ہمہ گیر اصلاحی پروگرام مرتب کر کے اس پر عمل کیا جاتا۔۔۔۔ شائد ترکی میں مستقبل میں ایسا ہی کیا جائے کیونکہ ترکی اتنی بڑی تعداد میں اپنے سکولوں اور کالجوں کو بند کرکے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کو تعلیم سے محروم نہیں رکھ سکتا!۔۔۔ پاکستان کے ان پاک ترک تعلیمی اداروں کے سلیبس کا بھی بغور جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ زیر تعلیم بچوں کو کن کن موضوعات کی تعلیم دی جا رہی تھی، کیا اسلام کے عسکریت پسند پہلوؤں کو اُجاگر کیا جا رہا تھا، کیا تعلیم کے نام پر معصوم اذہان کو برین واش کر کے مستقبل کے حکومتی باغیوں کی کوئی کلاس تیار کی جا رہی تھی؟ وغیرہ وغیرہ

حکومتِ پاکستان کی وزارت تعلیم کو ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے کر یہ ٹاسک اس کے سپرد کر دینا چاہئے کہ وہ ایک مقررہ ٹائم ٹیبل کے اندر ان پاک ترک سکولوں اور کالجوں کے بارے میں اپنی رپورٹ اور سفارشات تیار کر کے حکومت کو پیش کرے۔

مزید :

کالم -