وفاقی کابینہ، مدارس میں اصلا حات، تعلیمی اداروں کے ڈیلی ویجز ملازمین کیلئے کمیٹی کی منظوری 

    وفاقی کابینہ، مدارس میں اصلا حات، تعلیمی اداروں کے ڈیلی ویجز ملازمین ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) وفاقی کابینہ نے مدارس اصلاحات کی منظوری دیدی، مدارس کی رجسٹریشن کیلئے مربوط نظام وضع کیا جائے گا، پہلے اسلامی کیلنڈر کا معاملہ وزارت مذہبی امور کو بھجوا دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،جس میں دینی مدارس میں اصلاحات کیلئے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں وفاقی نظامت تعلیمات اور تعلیمی اداروں کے ڈیلی ویجز ملازمین کی مستقلی کیلئے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔اسی طرح حالیہ گیس سرچارج کی معافی پر طویل بحث کی گئی۔لوگوں کی غلط فہمی کو دور کیا جائے۔ معاشی ٹیم 208 ارب معاف کی تفصیل قوم کے سامنے رکھے۔ گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سے متعلق قوم کو حقائق بتانا ضروری ہیں۔ قومی خزانے کی حفاظت کی خود ذمہ داری لی ہے کسی کو نہیں نوازا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے بڑے صنعتکاروں کو208 ارب روپے کا ٹیکس معاف کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو ٹیکس معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر ٹیکس چھوٹ دینے کی خبروں پر حیرانگی ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عمرایوب اور ندیم بابر سے تفصیلات طلب کرلیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ و زیر اعظم عمران خان مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کررہے ہیں کشمیریوں کوجمہوری حق ملنے تک پاکستان کھڑا رہے گا، وزیر اعظم نے عالمی سطح پر مودی کے موقف کوشکست دی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت 10نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی ہے، 8نکات کومنظور اور دو نکات کو موخر کردیا گیا، وزیر اعظم عمران خان مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی کررہے ہیں، کشمیریوں کوجمہوری حق ملنے تک پاکستان کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے میڈیا کے جس سیکشن میں یہ خبریں تفصیل سے چل رہی ہیں، اس کے لئے ضروری سمجھا کہ ان حقائق کومزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے۔معاون خصوصی ندیم بابر کابینہ اجلاس بارے بریفنگ میں بتایا کہ 208 ارب کی مکمل چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ آڈٹ کے بعد جس نے ٹیکس دیا ہوگا اس کیلئے مراعات کو دیکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ جی آئی ڈی سی کے حوالے سے تمام کمپنیوں کا آڈٹ کروایا جائے گا۔وفاقی وزیرپاورڈو یژن عمرایوب نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں  بتایا کہ جی آئی ڈی سی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ 2011ء کی حکومت نے جی آئی ڈی سی لگایا۔ 2017ء کی حکومت نے سی این جی سیکٹر پر اس حوالے سے معاہدہ کیا۔ جی آئی ڈی سی ایشو حل کرنا چاہتے تھے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیکٹر میں کسی کورعایت نہیں دی جا رہی۔موجودہ آرڈیننس شفاف طریقے سے لایا گیا ہے اس کا آغاز سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کیا تھا۔ پاور سیکٹر میں رعایت دینے کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ فرٹیلائزر سیکٹر سے فرانزک آڈٹ کرنے کا معاہدہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی آرڈیننس میں ترمیم کرکے فرانزک آڈٹ کی شق شامل کی جائے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی وجہ سے جی آئی ڈی سی2011 میں لگایا گیا۔جی آئی ڈی سی کی مد میں 217 ارب روپے جمع ہوئے۔ سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر روکا کہ جس مقصد کیلئے جمع ہورہا ہے اس پرلگ نہیں رہا۔اس لیے ہمارے پاس2 آپشنز تھے۔ معاملہ کورٹ میں چلتا رہے یا حل نکالا جائے۔ عمر ایوب نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پرانے معاملات ختم کرکے ریٹ کم کیے جائیں۔ ندیم بابر نے کہا کہ فرٹیلائزرز کمپنیاں جی آئی ڈی سی کے تحت اپنی قیمتیں فائنل کرتی ہیں۔ کابینہ کا فیصلہ ہے فرٹیلائزرز کمپنیوں سے معاہدے سے پہلے ان کا آڈٹ کرنا ہے۔

وفاقی کابینہ 

 اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار ی سرگرمیوں کیلئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں،جب تک کاروبار میں آسانیاں پیدا نہیں ہونگی اس وقت تک معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا، ہماری اولین ترجیح روزگار کے مواقع پید ا کرنا ہے جس سے غربت میں کمی آئے گی حکومت معیشت کے تمام شعبوں میں مشاورتی عمل جاری رکھے گی اور کاروباری طبقے سے ملاقاتوں کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا۔ منگل کو وزیراعظم عمران خان سے معروف صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات نے ملاقات کی۔وزیر اعظم آفس میں ہونے والی ملاقات میں میاں منشا، بشیر علی محمد،علی حبیب، شاہد حسین، خلیل ستار، ثاقب شیرازی، شاہد عبداللہ،طارق سہگل،عارف حبیب، مصدق ذوالقرنین اور سکندر مصطفی شامل تھے۔وزیراعظم عمران خان نے صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کودعوت دی کہ وہ معیشت کی بہتری کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کریں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار ی سرگرمیوں کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ جب تک کاروبار میں آسانیاں پیدا نہیں ہونگی اس وقت تک معیشت کا پہیہ نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح روزگار کے مواقع پید ا کرنا ہے جس سے غربت میں کمی آئے گی۔

عمران خان 

مزید :

صفحہ اول -