پولٹری زراعت کے شعبوں میں سب سے منظم سیکٹر ہے‘ ڈاکٹر محمد مصطفی کمال

پولٹری زراعت کے شعبوں میں سب سے منظم سیکٹر ہے‘ ڈاکٹر محمد مصطفی کمال

لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین پاکستان پولٹری ایسو سی ایشن ڈاکٹر محمد مصطفی کما ل نے برائلر کی قیمتو ں میں کمی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چھ مہینوں سے پولٹری فارمر اوسطاََ 115روپے فی کلو کے حساب سے برائلر فروخت کرنے پر مجبور ہیںجبکہ پیداواری لاگت 125-130روپے فی کلو آرہی ہے۔ اس طرح پولٹری فارمر مسلسل تقریباََ10-15روپے فی کلو کا نقصان برداشت کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو مجبوراََ پولٹری فارمر اپنا کاروبار بند کر نے پر مجبور ہو جائیں گے۔سستی پروٹین کے حصول کا سب سے سستا ذریعہ بند ہوجانے سے نہ صرف غریب آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو گابلکہ پولٹری سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہو گا جس سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنی پالیسیوںمیں معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والی پولٹری کی صنعت جو اس وقت ایسے کڑے حالا ت سے گزر رہی ہے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ایسی کاروبار دوست پالیسیاں بنائے جن سے ان حالات پر قابو پایا جا سکے تاکہ پولٹری انڈسٹری کا عوام کو سستی پروٹین فراہم کرنے کامشن جاری رہ سکے۔ چیئرمین پی پی اے کا مزید کہنا تھا کہ پولٹری زراعت کے شعبوں میں سب سے منظم سیکٹر ہے۔ اس وقت پولٹری انڈسٹری کُل استعمال ہونے والے گوشت کا 40فیصد مہیا کررہی ہے اور تقریباََ18لاکھ لوگوں کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔اور سرمایہ کاری 700ارب سے زائد ہو چکی ہے ۔لیکن معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے اورعوام کو سستی پروٹین فراہم کر نے کے باوجود یہ صنعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔

مزید : کامرس