ٹانک ، محکمہ تعلیم زنانہ میں بڑے پیمانے پر خردبرد کا انکشاف

ٹانک ، محکمہ تعلیم زنانہ میں بڑے پیمانے پر خردبرد کا انکشاف

ٹانک (نمائندہ خصوصی) محکمہ تعلیم زنانہ میں بڑے پیمانے پر خرد برد کا انکشاف غیر ترقیاتی بجٹ بوگس بلوں کے زریعے کرپشن کی نذر ہوگیا مبینہ زرائع کے مطابق محکمہ تعلیم زنانہ میں جعلی وزٹ کے زریعے ٹی اے ڈی اے اور پی او ایل کی مد میں لاکھوں روپے کا سرکاری خزانہ کو ٹیکہ لگا دیا گیا زرائع نے بتایا کہ ضلعی ایجوکیشن افیسرزنانہ ڈیوٹی کرنے کی بجائے کئی کلو میٹر دورڈیرہ اسماعیل خان میں واقع کروڑوں روپے کے بنگلے سے ریموٹ کنٹرول کے زریعے چلانے لگی بیشتر اوقات دفتری سے غیر حاضری کے باعث دفتری امور ٹھپ ہو کر رہ گئے اور دور افتادہ علاقوں سے آئے ہوئے خواتین اساتذہ سارا دن انتظار کے بعد خالی ہاتھ لو ٹ جاتی ہیں معتبر زرائع نے بتایا کہ پرائمری مڈل ہائی اور ہائر سینکڈری سکولوں میں تعینات بیشتر خواتین اساتذہ کو خطیر رقم کی عوض دیگر اضلاع این او سی جاری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بیشتر سکولوں میں سٹاف کی کمی کی وجہ سے والدین اپنی بچیوں پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں یاد رہے کہ مذکورہ ڈی ای او زنانہ ٹانک پر اس سے پہلے بھی ضلع کرک میں انکوائری آچکی ہے عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی خیبر پختو نخواہ مشیر تعلیم کمشنر ڈیرہ اور ڈپٹی کمشنر ٹانک سے مطالبہ کیا کہ محکمہ تعلیم زنانہ میں جاری کرپشن پر اعلی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے کرشفاف انکوائری کی جائے اور اس میں ملوث کرپٹ عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...