” دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے “

” دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے “
” دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے “

  

طیبہ بخاری

ٓآج ہم ذکر کریں گے اس گلوکارہ کا جو لفظوں کو اپنے سُروں کی مالا میں پروتی تھی اور اس کانام بھی مالا تھا ۔۔۔۔مالا بیگم کا شمار ان گلوکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے لالی وڈ کے سنہری دورپر راج کیا،بے شمار فلمی گیتوں کو اپنی مدھر آواز سے امر کر دینے والی اس عظیم گلوکارہ نے اپنی آواز کے سحر سے زمانے کو گرویدہ بنا لیا۔ ان گنت گیتوں کواپنی انمول آواز سے نوازا۔ فلم ”عشق پر زور نہیں“ کے گیت ”دل دیتا ہے رو رو دہائی، کسی سے کوئی پیار نہ کرے“ نے انہیں شہرت کی بلندی عطا کی ، ”غم دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے“،”محبت میں سارا جہاں“،” اے بہارو گواہ رہنا “سمیت کئی گانے انکی آواز کی بدولت مقبول ہوئے۔” مجھے آرزو تھی جس کی وہ پیام آگیا، اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم، بھولی ہوئی داستاں گزرا ہوا خیال ہوں، یہ سماں پیارا پیارا سا یہ ہوائیں، چن میرے مکھناں اور مجھے آئی نہ جگ سے لاج کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے، جیسے گانوں کو کون بھول سکتا ہے۔“

مالا کا اصل نام نسیم نازلی تھا فلمی نام مالا رکھا 9 نومبر 1939 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئیں۔ کہا جاتا ہے کہ مالا اور اُن کی بڑی بہن شمیم نازلی جو پاکستان کی پہلی فلمی موسیقار ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہیں ، دونوں ریڈیو پاکستان گئیںمالا کو گانے اور شمیم کو موسیقی کا شوق تھا۔ ریڈیو پاکستان لاہور ہی میںموسیقارغلام احمد چشتی المعروف بابا جی اے چشتی نے ان دونوں کو سنا اور پنجابی فلم ” آبرو (1961 )کےلئے مالا کو منتخب کر لیا۔ انہوں نے مالا کی آواز میں 2 عدد گیت ریکارڈ کرائے۔ فلم ناکام رہی لیکن مالا کی قسمت کا تارہ چمک اُٹھا۔کامیاب فلمساز و ہدایتکار انور کمال پاشا نے مالا کو مشورہ دیا کہ وہ اردو فلموں کے لئے کوشش کریں۔انور کمال پاشا نے ہی 1962 میں نسیم نازلی کا نام بدل کر مالا رکھا کیوں کہ نسیم بیگم پہلے ہی پلے بیک فنکارہ موجود تھیں۔ مالا نے 1962ءمیں پہلی اردو فلم ”سورج مکھی“ میں اپنے فن کا جادو جگایا ۔پھر 1963 میں ماسٹر عنایت حسین نے ادا کار اور فلمساز الیاس کاشمیری اور ہدایت کار شریف نیّر کی فلم ” عشق پر زور نہیں“ کےلئے مالا سے ایک المیہ گیت ریکارڈ کروایا۔ اس گیت نے حقیقی معنوں میں مالا کو مالا بنا دیا۔ وہ گیت تھا ”دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے“ اس گیت میں اداسی، ملال اور شدت کا رنج سائیں اختر حسین کی المناک تانوں نے پیدا کیا۔ اب دنیا مالا کے نام کی مالا جپنے لگی ۔۔۔۔۔پھر مالا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا 600پاکستانی فلموں کےلئے 400 سے زائد گیت گائے، صرف احمد رشدی اور مسعود رانا کے ساتھ انکے100سے زائد گائے گانوں کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔مہدی حسن کے ساتھ بھی مالا کے دوگانے بہت مقبول ہوئے ، 1974 میں جعفر بخاری کی فلم ” سماج“ ریلیز ہوئی اس فلم کی موسیقی اے حمید نے دی، فلم میں حبیب جالب کا یہ دوگانا” چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں، دنیا کے رسم و رِواج توڑ دیں“ تب بھی مقبول تھا اور اب بھی ہے۔اس گانے میں مہدی حسن اور مالا نے اپنے کمال فن کا مظاہرہ کیا ۔

سروں کی اس شہزادی نے نامور موسیقاروں کی دھنوں کو اپنی آواز سے ایسا سجایاکہ امر کر دیالیکن اپنی زندگی کے آخری دن مالا نے انتہائی کسمپرسی میں گزارے ۔ مالابیگم کو نور جہاں کے بعد دوسری بہترین آواز ہونے کا اعزاز حاصل رہا لیکن وہ قابلِ رشک عروج کے بعد زوال کی تلخیوں کو برداشت نہ کر سکیں۔فلمی دنیا سے کنارہ کشی کے بعد گھر کی ہو کر رہ گئیںصرف 50 سال کی عمر میں ہی وہ 6 مارچ 1990 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔

مزید :

ادب وثقافت -