’’سچ کا سفر‘‘

’’سچ کا سفر‘‘
’’سچ کا سفر‘‘

  

گزشتہ کچھ عرصے میں درجنوں سوانح عمریاں زیر مطالعہ رہیں ۔ ادب،سیاست ، صحافت، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے وابستہ شخصیات کی تحریروں نے زندگی پر مختلف اثرات چھوڑے۔شروع شروع میں مولانا غلام رسول مہر کی ’’مہربیتی‘ ‘اور ممتاز مفتی کی خود نوشت ’’علی پور کا ایلی‘‘ نے متاثر کیا۔’’داستاں چھوڑ آئے‘‘ اور ’’یادوں کی بارات‘‘ نے بھی لمبے عرصے تک اپنے سحر میں جھکڑے رکھا۔ اخترحسین رائے پوری، روئیداد خاں اور مہاتما گاندھی کی آپ بیتیاں بھی پسندیدہ رہیں۔ حال ہی میں کلدیپ نائر نے ’’Beyond the lines‘‘ اور نٹور سنگھ نے ’’One life is not enough‘‘ کے نام سے اپنی یادداشتیں شائع کیں تو دنیا بھر میں اسے ہاتھوں ہا تھ لیا گیا۔وجہ اس کی مصنفین کے ہوش ربا انکشافات تھے۔ آج کل پاکستان میں بھی ایک ایسی ہی خودنوشت’ہاٹ کیک‘ کی مانند فروخت ہو رہی ہے۔ صدرالدین ہاشوانی صاحب کی خودنوشت \"Truth always prevails\" بلوچستان کے لق و دق میدانوں سے فائیوسٹار لگژری ہوٹلز تک کے اس طویل سفر کی داستان ہے جو انہوں نے گزشتہ نصف صدی میں طے کیا۔یہ کتاب ان کی سخت محنت اور جہدمسلسل کی کتھا ہے۔چند روز پیشتر جمہوری پبلیکیشنز کے سربراہ فرخ سہیل گوئندی نے ایک کاپی مجھے تحفتاً بھجوائی تو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہ کتاب اتنی دلچسپ تھی کہ میں پہلی ہی نشست میں اسے مکمل چاٹ گیا۔

صدر الدین ہاشوانی پیشہ ور مصنف ہیں اور نہ ہی تصنیف و تالیف سے وابستہ، بلکہ ان کا اصل میدان کاروبار ہے۔ وہ ملک کے ممتاز ترین بزنس مین ہیں۔ وہ’’ ہاشو گروپ‘‘ کے چیرمین اور ’’پرل کانٹی نینٹل‘‘ جیسے ہوٹلز کے مالک ہیں۔ آج ان کا شمار پاکستان کی دس امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کا کاروبار لگژری ہوٹلز، رئیل اسٹیٹ، ادویات، آئل، گیس،منرلز ، انواع و اقسام کی صنعتوں اور مختلف اجناس کی تجارت سمیت کئی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔یہی نہیں، وہ پچھلے کئی برسوں سے’’ ہاشو فاؤنڈیشن‘‘ اور’’امیدِ نور‘‘ جیسے فلاحی ادارے بھی چلا رہے ہیں۔ ہاشوانی صاحب ملک کے سیلف میڈ لوگوں کی زندہ مثال ہیں۔وہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا نہیں ہوئے ،بلکہ یہ دنیا ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ یہ ان کی محنت اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ وہ گوادر کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ برسوں پہلے ،اپنے بہنوئی کی شراکت داری میں کام کرنے اور پھرناکامی کا منہ دیکھنے کے باوجود وہ مایوس نہیں ہوئے۔ کاروبار کے سلسلے میں وہ ایک عرصے تک بسوں، ٹرکوں، گدھوں اور بولان میل جیسی ٹرینوں پر سفر کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے کاروبار کو انتہائی نچلے درجے سے شروع کیا ، تب شایدکوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ معمولی رقم سے جو کاروبار وہ شروع کرنے جا رہے ہیں، ایک دن انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا دے گا۔اس کتاب میں ان تمام واقعات کو بیان کیا گیا ہے، جو ان کی کاروباری زندگی کے دوران پیش آئے۔ یہ واقعات اس معاشرتی رویے کا ماتم ہیں کہ ہمارے ہاں کس طرح کسی ابھرتے ہوئے شخص کا راستہ روکا جاتاہے اور مخالفین کسی شخص کو راستے سے ہٹانے کے لئے کس حد تک چلے جاتے ہیں۔ ہاشوانی صاحب نے بعض ابواب میں ان سیاسی رکاوٹوں اور حکومتوں کی پالیسوں کا بھی تذکرہ کیا ہے جو کاروباری حضرات کو متاثر کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں مگر اس کا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔پاکستان کی تقریباً تمام حکومتوں سے ان کے تعلقات کشیدہ رہے۔ انہیں کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، وہ متعدد مرتبہ گرفتار بھی ہوئے، لیکن یہ تمام واقعات ان کی ترقی کے سفر کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

خود نوشت لکھنا بلاشبہ کار محال ہے۔ جب بھی کوئی زندگی بھر کے مخفی پہلوں سے پردہ سرکاتاہے، تو کئی باتیں انکشافات کا روپ دھارلیتی ہیں۔ اسی لئے تو احمد فراز نے کہا تھا ’’اگر میں خود نوشت لکھوں تو بہت سے گھرانے ٹوٹ جائیں گے۔‘‘ ممکن ہے احمد فراز کا اشارہ کسی اور جانب ہوکہ وہ ایک رومانوی شخصیت تھے، مگر جو انکشافات ہاشوانی صاحب نے کیے ہیں وہ یقیناًچونکا دینے والے ہیں۔ اپنی خودنوشت میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی معاشی حکمت عملی پر کھل کر تنقید کی ہے ۔ اسے پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جب حکومت کی طرف سے مختلف صنعتوں کو زبردستی قومیا لیا جائے توکس طرح کاروباری طبقے کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ انہوں نے ضیاالحق کی معاشی پالیسوں کی بھی کھل کر مخالفت کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک روز جنرل ضیاالحق نے مجھ سے پوچھا ’’کیا خبر ہے‘‘۔ میں نے جواب دیا’’بھٹوصاحب نے ملک میں پوٹیٹوکارپوریشن آف پاکستان قائم کی تھی ، مگر آپ کے دور میں ہر طرف ملائیت ہی ملائیت نظر آتی ہے۔ براہ کرم معیشت پر بھی کچھ توجہ دیں، ہم ڈوب رہے ہیں۔‘‘ ہاشوانی صاحب کی باتیں تلخ تھیں۔ جنرل ضیاالحق تلملا اٹھے ،ان کے خلاف مقدمات کھول دیے گئے اور انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ جنرل ضیاالحق سے اختلافات کی دوسری وجہ ان کے متعلق جنرل صاحب کی ایک غلط فہمی تھی ۔ ان کے کسی مخالف نے جنرل صاحب کو یہ کہہ کر بڑھکا دیا تھا کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو 25لاکھ روپے چندہ دیا ہے۔

ہاشوانی صاحب نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ایک دفعہ زرداری صاحب کا ان کے ہوٹل میں کسی سے جھگڑا ہو گیا، ہوٹل کی انتظامیہ نے انہیں اٹھا کر باہر پھینک دیا، اس پر زرداری صاحب کے والد طیش میں آگئے۔یوں محترمہ کے پہلے دور اقتدار میں ان کے اغوا اور قتل کا منصوبہ تیار کیا گیا مگر جنرل آصف نواز جنجوعہ کی مدد سے وہ بچ نکلے۔ محترمہ کے دوسرے دورحکومت میں بھی انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو تب بھی ان کی مشکلات میں کمی نہ آئی۔ ان کے خلاف کئی انکوائریاں کھول دی گئیں۔ ایک دن اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے ان سے کہا ’’اگر تم مشرف سے صلح کرنا چاہتے ہو تو ایک بلینک چیک کاٹ کر دے دو‘‘۔ ہاشوانی صاحب یہ سن کر سٹپٹا گئے اور بولے ’’چیک کیوں دوں؟ نہ تو میری کمائی حرام کی ہے اور نہ ہی میں ڈاکو ہوں، میں پیسے نہیں دوں گا اور اگر لڑنا پڑا تو آخری سانس تک لڑوں گا۔ ‘‘ اس سے کچھ ہی عرصہ بعد ان کے پیچھے پرائیویٹ جاسوس لگا دیے گئے اور انہیں اپنے 9ہوٹلوں کے شیئرز بیچ کر امریکہ سے نکلنا پڑا۔ میریٹ ہوٹل کے متعلق ان کے انکشافات اور بھی ہوش ربا ہیں۔ 2008ء میں ان کے ہوٹل’’ میریٹ ‘‘ میں خودکش دھماکہ ہو گیا، یہ وہی دور تھا جب صدرآصف علی زرداری پاکستان کے نئے صدر منتخب ہوئے تھے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دھماکہ انہیں اور ان کی فیملی کو قتل کرنے کے لئے کروایا گیا ،لیکن وہ اس حادثے میں بال بال بچ گئے۔ دھماکے کے بعد حکومت کی طرف سے ان پر یہ دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ میڈیا میں بیان جاری کر دیا جائے کہ آصف زرداری ہوٹل میں مدعو تھے اور یہ دھماکہ انہیں نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا۔ ہاشوانی صاحب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا او ر انہیں اپنی جان بچانے کی خاطر دوبئی میں پناہ لینا پڑی۔

ہاشوانی صاحب کی خودنوشت ان کے طویل تجربے، تجزیے ،مشاہدے اور عملی زندگی کا نچوڑ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں کاروباری ہونا سرنگ کھودنے کے مترادف ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہاں بعض بدعنوان سیاستدان، اعلیٰ انتظامی عہدادران اور کچھ سینئر فوجی جرنیل نئے نظریات اور تخلیقی عمل کو ابھرنے کا موقع فراہم نہیں کرتے۔ ان کی یہ باتیں تلخ تو ہیں مگر حقیقت سے مختلف نہیں ۔ اس میں وزن ہے کہ پاکستان میں نئے ابھرتے ہوئے بزنس مین کو دبایا جاتا ہے، یہ رویہ قابل افسوس ہے، ضروری ہے کہ ایسے طبقات کی حوصلہ افزائی کی جائے جو کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے نوجوانوں کی کمی نہیں جومعاشی میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ محنت کرنے کی خواہش اور صلاحیت دونوں رکھتے ہیں۔ یہ لوگ قومی دھارے میں شامل ہو کر ملک کی ڈگمگاتی ہوئی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسے افراد کو صدرالدین ہاشوانی صاحب کی خودنوشت ’’سچ کاسفر‘‘ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس سے ان میں آگے بڑھنے کا جنوں پیدا ہو گا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔

مزید : کالم