مولانا حنیف ندوی ؒ پر ایک تازہ تعارفی کتاب

مولانا حنیف ندوی ؒ پر ایک تازہ تعارفی کتاب

مولانا محمد حنیف ندوی ؒ یوں تو قرآن و حدیث اور فقہ و تفسیر کے بھی جید عالم تھے، لیکن علم کلام اور فلسفہ میں انہیں درجہ اختصاص حاصل تھا۔ انہیں نہ صرف اسلامی فکرو فلسفے سے خاص دلچسپی تھی، بلکہ وہ جدید مغربی فلسفے سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم انہیں ادارہ ثقافت اسلامیہ میں لے آئے، چنانچہ مولانا تا حین حیات اسی ادارے سے وابستہ رہے اور قرآن و حدیث اور فلسفہ اسلامی پر گراں قدر کتابیں لکھیں۔ 12جولائی 1997ء کو مولانا 79سال کی عمر میں داعئ اجل کو لبیک کہہ گئے۔۔۔ادارہ ثقافت اسلامیہ ایک سرکاری ادارہ ہے۔ ایسے اداروں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہوتا ہے کہ ان سے وابستہ دانشوروں کو اپنے نتائج فکر پیش کرنے کی پوری آزادی حاصل نہیں ہوتی، لیکن مولانا محمد حنیف ندوی ؒ اور ان کے کئی دیگر رفقاء کے بارے میں ایسی رائے نہیں دی جا سکتی۔ مولانا اپنی ذات میں ایک باوقار اور صاحب الرائے عالم تھے۔ ان کی علمی خدمات پر ادارہ ثقافت اسلامیہ (کلب روڈ لاہور) کی طرف سے حال ہی میں ڈاکٹر سعادت سعید کی کتاب ’’مولانا محمد حنیف ندویؒ ؒ : ایک تعارفی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے، جس کی ضخامت150صفحات ہے۔

مولانا محمد حنیف ندوی ؒ 10جون1908ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نور الدین لکڑی کا کام کرتے تھے، درویش طبیعت آدمی تھے، مہینے میں ڈیڑھ دو ہفتے کام کرتے اور باقی وقت قرآن مجید پڑھتے اور علماء کی صحبت میں گزارتے۔ زیر نظر کتاب کے مصنف کے بقول:مولانا محمد حنیف ندوی ؒ بچپن میں کھیلنے اور گھومنے کے بہت شوقین تھے، مفتی جعفر حسین ان کے بچپن کے دوست تھے، ان کے ساتھ پورے شہر میں گھومتے، ٹہلتے اور گفتگو کرتے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب باقی ہندوستان کی طرح گوجرانوالہ میں بھی آریہ سماجیوں، قادیانیوں، اہلِ قرآن اور عیسائی پادریوں کے درمیان مناظرے بازی عروج پر تھی۔ مولانا اسماعیل سلفی نے ایک دفعہ وعظ کے دوران فرمایا: دینی تعلیم میں اچھے لوگ اس لئے پیدا نہیں ہو رہے کہ اچھے خاندانوں کے بچوں کا جھکاؤ اس طرف نہیں ہے۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے دیہات سے نچلے طبقے کے لوگ آتے ہیں، ان کے معاشی ذرائع بھی اچھے نہیں ہوتے۔ انہوں نے اہلِ شہر سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے وقف کریں۔ اس وقت مولانا حنیف پرائمری (چوتھی جماعت تک) پاس کر چکے تھے۔ ان کے والد نے انہیں مولانا سلفی کے حلقۂ شاگردی میں دے دیا،چنانچہ مولانا محمد حنیف ندوی ؒ نے صرف و نحو، حدیث معقولات اور ادب کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔

مولانا سلفی نے اپنے شاگرد میں طلب علم کی سچی پیاس دیکھی تو اسے ندوۃ العلماء لکھنؤ بھجوا دیا۔ وہاں رہ کر مولانا نے وقت کے جید علماء سے قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، معقولات وغیرہ کی تعلیم مکمل کی۔ عربی میں استعداد اتنی بڑھ گئی کہ کانپور کے ایک جلسے میں ’’ قرآن کی زبان کا عربی ادب پر اثر‘‘ کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تک عربی زبان میں تقریر کی۔ کرسئ صدارت پر حکیم اجمل خان رونق افروز تھے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کا تعارف مولانا ظفر علی خان سے بھی کروایا اور کہا: ’’پنجاب کے ہیں‘‘۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ قاضی سلیمان منصور پوری سے کہا: یہ آپ کے ہم مسلک (اہل حدیث) ہیں، چنانچہ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ حکیم اجمل نے کہا:’’علم میں بڑھے ہو، جسم میں بھی بڑھو‘‘۔۔۔ لیکن مولانا بچپن سے وفات تک دھان پان ہی رہے۔ندوۃ العلماء کے بارے میں مولانا محمد حنیف ندوی ؒ کا کہنا تھا:’’ ندوہ کے علمی ماحول میں جا کر آدمی ہمہ وقت علمی مشاغل میں مصروف رہتا ہے۔ عقلیات کی طرف خصوصی توجہ دیتا ہے اور روشن خیال اور غیر متعصب بن کر باہر آتا ہے‘‘۔۔۔(ص8:)

مولانا نے انگریزی زبان پر ذاتی محنت کے ساتھ عبور حاصل کیا۔مغربی فلسفے کا مطالعہ انہوں نے ادارہ ثقافت اسلامیہ سے وابستگی کے بعد کیا۔ اس وقت ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم مرحوم و مغفور تھے۔ وہ اپنی ذات میں فلسفے کے بہت بڑے عالم تھے۔ ان کی صحبت میں رہ کر مولانا ندوی ؒ کی فلسفیانہ صلاحیتوں کو خوب جِلا ملی۔۔۔زیر نظر کتاب کے مصنف ڈاکٹر سعادت سعید اُردو کے نامور استاد، محقق اور نقاد ہیں۔ تنقید میں اسلوب خاص کے مالک ہیں۔ فکریات کے آدمی ہیں، اس لئے ان کی تنقید زبان و بیان کے حوالے سے خاصی عالمانہ ہوتی ہے۔ قاری جب تک ادب کا فطری ذوق نہ رکھتا ہو ان کے افکار و نتائج سے پوری طرح لطف نہیں اُٹھا سکتا۔

جب ہم نے زیر نظر کتاب دیکھی تو فوری دھیان اِسی طرف گیا کہ اس کا اسلوب بھی ان کے عمومی اسلوب سے مختلف نہیں ہو گا، بلکہ جب وہ مولانا ندوی ؒ کی غزالی پر لکھی گئی کتابوں کا تعارف کروائیں گے، تو زبان اور بھی ادق ہو گئی ہو گی، لیکن پڑھنے سے خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ ڈاکٹر صاحب نے اہم فلسفیانہ مباحث کو نہایت سلیس اور شستہ زبان میں ڈھال دیا ہے۔ بے اختیار جی چاہا کہ ادارے کے سربراہ قاضی جاوید سے عرض کریں کہ وہ بیسویں صدی کے پاک و ہند کے بعض مسلم مفکرین پر ڈاکٹر صاحب سے کتابیں لکھوائیں، مثلاً علامہ عنایت اللہ المشرقی، مولانا مودودی ؒ ، غلام احمد پرویز، عبید اللہ سندھی اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے کمال ہنر مندی کے ساتھ مولانا ندویؒ کی ہر کتاب کے بنیادی افکار کا احاطہ کیا ہے۔ خاص طور پر امام غزالی ؒ کے تصوف اور فلسفے سے متعلق خیالات کا تعارف اتنی روانی اور صفائی کے ساتھ شاید ہی کہیں اور پڑھنے کو میسر آئے۔ سب سے طویل باب(صفحہ54تا72) مولانا ندویؒ کی کتاب ’’اساسیات اسلام‘‘ پر ہے۔

مولانا کی تمام کتابوں میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اس میں موجودہ مسلم معاشرے کے اہم مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سعادت سعید لکھتے ہیں:’’اس میں اسلامی سماج کی اقدار اور فرد کی تربیت کے معاملے زیر بحث آئے ہیں۔ تعمیرِ فرد، نظریۂ توحید اور اس کی اساس، نماز اور اس کے اثرات، اسلام کے تصورات ثقافت، سیاست، اقتصادیات اور اخلاقیات اس کتاب کا موضوع ہیں۔ اسلام کو جب مکمل ضابطۂ حیات سے تعبیر کیا جاتا ہے تو یہ بات قارئین تک تجریدی سطح پر پہنچتی ہے۔ اس کی ٹھوس اور عملی صورتیں کیسی ہیں؟ ان کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ اساسیات اسلام میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کچھ اس انداز سے ہوئی ہے کہ ایک ٹھوس اور قابل عمل منشور سامنے آ گیا ہے۔۔۔۔دُنیا کی دیگر اقوام کی ترقی اور انقلابات کی روشنی میں اساسیات اسلام میں اسلامی فکر و فلسفے کے ایسے پہلوؤں کو خصوصی طور پر اُجاگر کیا گیا ہے، جن کی اعانت سے عصرِ جدید کی مادی ترقیوں اور انقلابات کا مقابلہ مثبت انداز میں ممکن ہے۔ نو ابواب پر مشتمل یہ کتاب اپنے اندر جہانِ فکر و معافی لئے ہوئے ہے۔۔۔ (ص55-54)

تفصیل کا محل نہیں ورنہ ہم ان ابواب پر بھی کلام کرتے، جن میں مولانا ندوی کی ابن خلدون اور امام غزالی پر لکھی گئی کتابوں (یا ان کی تلخیصوں) کا تعارف و تبصرہ پیش کیا گیا ہے۔ البتہ ہم فاضل منصف کی خدمت میں یہ گزارش ضرور کریں گے کہ وہ آئندہ ایڈیشن میں مولانا کے بارے میں سوانحی نوٹ ازسر نو لکھ کر شامل کریں۔ حیرت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے نہ مولانا ندوی کی تاریخِ وفات درج کی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ مولانا ادارۂ ثقافت اسلامیہ سے کب وابستہ ہوئے تھے۔۔۔ بہرحال چند کمیوں کے باوجود مذکورہ کتاب لائقِ تحسین علمی کاوش ہے۔

مزید : کالم