آثار قدیمہ کی بحالی اور تحفظ کی خصوصی مہم

آثار قدیمہ کی بحالی اور تحفظ کی خصوصی مہم
 آثار قدیمہ کی بحالی اور تحفظ کی خصوصی مہم

  

اندورن لاہور کی گلیاں ،بازار اور کوچے ہر وقت گہما گہمی سے معمور نظر آتے ہیں۔ یہی رونق ہجوم ،شور اور طرح طرح کی خوشبوئیں اور پکوان لاہورکی روایتی زندگی کا خاصہ ہیں۔ دہلی دروازے کے ارد گرد چھوٹی بڑی دکانیں اورسٹال ہر وقت خریدارواں یا رہگیروں کی وجہ سے پُرہجوم نظر آتے ہیں۔

دہلی دروازے کی پرشکوہ عمارت سے اندر داخل ہوں تو شاہی گذرگاہ کا جمال جھلکتا ہے، جہاں والڈ سٹی اتھارٹی کے رنگیلے رکشے سیاحوں کے لئے تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ بازار کے دونوں اطراف میں دکانیں یکساں نظر آتی ہیں۔

سرخی مائل نانک چندی اینٹوں کا فرش ارد گرد مسالہ جات اورتمباکو کی مہک اپنی انفرادیت لئے ہوئے ہے۔ دہلی گیٹ سے ملحق شاہی حمام کی عمارت سیاحوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہزاروں سیاح اس تاریخی عمارت کو کشاں کشاں دیکھنے چلے آتے ہیں۔

اللہ تعالی نے انسان کو سیرو سیاحت اور فکر تدبر کی دعوت دی تاکہ انسان نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو جان سکے ،بلکہ ماضی میں زندگی بسرکرنے والوں سے اسبا ق سیکھ سکے۔ آثار قدیمہ کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوا کرتے ہیں۔

جس سے گذر جانے والوں کے حالات و تہذیب تمدن کے بارے میں جاننا ممکن ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ایک معاہدے کے ذریعے رکن ممالک کو آثارقدیمہ کی حفاظت کا پابند کیاہے۔

لاہور میں تاریخی مقامات کی کمی نہیں۔ حکومت پنجاب لاہور کے آثار قدیمہ کی بحالی اور تحفظ کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف کی ہدایت پر ہمہ وقت کوشاں ہے۔

لاہور ہی میں موجود شاہی حمام وزیر خان کو یونیسکو کے ایشیا پسیفک کے بعد ایوارڈ برائے کلچرل ہیرٹیج کنزرویشن سے نوازا گیاہے اور اس پراجیکٹ میں حصہ لینے والی تنظیم اور افراد کی خدمات کو سراہا گیاہے۔

حکومت پنجاب کی کاوشوں سے والڈ سٹی میں واقع شاہی حمام سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ شاہی حمام کے نام سے معروف حمام وزیر خان کا ہر ماہ دس ہزار سے 25 ہزار سیاح وزٹ کرنے آتے ہیں جن میں غیر ملکی سیاح ،محققین، میڈیا ،یونیورسٹی ،کالج اورسکول کے وفود او رمقامی افراد بہت بڑی تعداد شامل ہوتے ہیں۔

حمام وزیر خان کو دریافت کرنے کا کام سب سے پہلے 1991 میں شروع کیاگیا اور 2005ء میں حمام کی دیواروں، خوبصورت نقاشی کو دریافت کرنے کا کام کیاگیا، لیکن اس کے باوجود یہ عمارت بے پناہ تجاوزات اور امتداد زمانہ کا شکار ہو کر سیاحوں کی نظر سے اوجھل رہی۔

2013 ء میں حکومت پنجاب کی والڈ سٹی اتھارٹی نے آغاخان کلچر ل سروس پاکستان کے اشتراک اور ناروے کی مالی معاونت سے اس کو مکمل طور پر دریافت کرنے کا بھر پور کام کیا۔ یہ عمل جولائی 2014 سے جون 2015 تک جاری رہا۔

پاکستانی ماہرین ،معمار، کاریگروں اور کارکنوں کی انتھک محنتوں اور کاوشوں سے حمام کو اصل شکل میں بحال کرنے کا عمل مکمل کیاجاسکا تو بہت سی حیرت انگیز امور سامنے آئے، ان میں بجلی، مشینری اور گیس کے بغیر پانی اور عمارت کو گرم کرنے کا نظام شامل ہے۔

پانی کی رسد کا حیرت انگیز نظام سامنے آیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1635ء میں شاہ جہان کے مقرر کردہ گورنر لاہور شیخ حکیم علم الدین انصاری، جنہیں وزیر خان کے نام سے جانا جاتا ہے، نے یہ عمارت مسجد وزیر خان سے منسلک اور وقف کی تھی۔

مغل دور میں حمام وزیر خان یا شاہی حمام دور دراز علاقوں اور دہلی سے آنے والوں کا ابتدائی پڑاؤ تھا، جہاں مہمان غسل کرکے تازہ دم ہوجاتے۔اس عمارت میں 21 حمام بنائے گئے، جہاں ٹھنڈے اور گرم پانی کے آٹھ،آٹھ حمام اور پانچ سٹیم باتھ کے علاوہ خدام کے لئے عام حمام موجود تھے۔

گنبد نما چھتوں میں روشنی اور اسے ہوا دار بنانے کے لئے روشن دان بھی موجود تھے۔ یہ امر دلچسپی کا باعث ہوگا کہ یہاں بھی اہم شخصیات کے لئے وی آئی پی حمام بنایاگیا، جہاں غسل کی مشقت سے بچانے کے لئے ’’حمامی ‘‘کی خدمات بھی میسر تھیں۔

عمارت کے دائیں جانب بھٹیوں میں کوئلے دھکائے جاتے اور انتہائی درجہ حرارت پر پانی بھاپ میں تبدیل ہوجاتا جو دیواروں اور فرش میں انتہائی مہارت سے بنائی گئی پائپ لائنوں اور دریچوں سے پوری عمارت میں گھومتا۔

نزدیکی کمرے حمام کے بھٹوں کے قریب ہونے کی وجہ سے گرم ترین حصہ بن جاتے جن کا فرش زیر زمین سرنگو ں کے ذریعے گرم کیاجاتا۔ 400 سال قبل بھٹوں کے اوپر بنے ہوئے گرم پانی کے انبار سے یہاں بہت گرم پانی آتا اور ان کمروں میں موجود افراد گرمی کی شدت کی وجہ سے پسینے میں ڈوب جاتے۔ کمرے کے اطراف میں ٹھنڈے پانی کے لگن بھی بنے ہوئے ہیں۔

اسی طرح بھٹی سے نکلنے والے دھوئے سے بھی عمارت کو گرم کرنے کا کام لیاجاتا۔ اس نظام کو آج کل ’’ہائپو کاسٹ‘‘ کا سسٹم کہاجاتا ہے۔ حمام کے وسیع استقبالیہ گنبد کے نیچے ہشٹ پہلو حوض کے چاروں اطراف میں بنے ہوئے کمروں میں لوگ اپنے کپڑے وغیرہ بدلتے اور باری کے انتظار میں حوض کے اردگرد بیٹھ کر گھپ شپ لگاتے۔ یہ جگہ نہانے کے بعد تفریح کے لئے بھی استعمال ہوتی۔ اس عمارت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ مخصو ص انداز میں بنے ہوئے کونے میں سرگوشی میں کی جانے والی بات بھی ہوا کے دوش پر اس طرح سفر کرتی ہے کہ دوسرے کونے میں کھڑا ہوا شخص اسے بآسانی سن سکتا ہے۔

یہ حیران کن چیزیں 2013 سے 2015 ء تک وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف کی ہدایت پر والڈ سٹی آغا خان کلچرل سروس فار پاکستان او رنارویجن ایمبیسی کے جوائنٹ ونچر کے نتیجے میں سامنے آئیں۔ اس کمپین کے دوران ماہرین دیواروں میں زگ زیگ کی شکل میں سامنے آنے والی آبشاروں ،تالاب کے وسط میں چبوتروں ، مخصوص پتھر سے بنے ہوئے فرش اورفرش کو سہارا دینے والے چبوتروں کو انتہائی نفاست سے اصل حالت میں بحال کرنے کی قابل قدر کوشش کی۔ اس پراجیکٹ میں لوہے کی ریلنگ او ر مضبوط شیشے کی چھوٹی چھوٹی دیواروں کے ساتھ سیاحوں کے لئے مضبوط گذر گاہیں بنائی گئی ہیں۔ عمارت کو ہوا دار بنانے کے لئے چبوترا نما روشن دانوں میں خصوصی فین نصب کئے گئے۔

عمارت میں داخل ہونے کے لئے سیکیورٹی گیٹ اور بائیں جانب ٹکٹ گھر بنایاگیاہے۔ پائیں باغ کے احاطے میں صدیوں پرانے درخت کے نیچے چھوٹی اینٹ پر منقش کرسیاں ، میز اور سایہ دان لگائے گئے ہیں۔ جہاں لذت کام ودہن کا روایتی لاہوری سامان میسر ہے اور کیفے ٹیریا کے ساتھ سوینئر شاپ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اسی لان میں موجود مغلیہ انداز کے تحت پر رکھے دو گاؤ تکیے کسی سیاح کی منچلی طبیعت کو بہت بھاتے ہیں تو ان پر چڑھ بیٹھتا ہے۔

عمارت کے اندر جگہ جگہ ہر حمام کے ساتھ اس کے استعمال سے متعلق تصاویر اور مختصر تحریر بھی موجود ہے۔ انتظار گاہ میں وفود کو عمارت کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے پروجیکٹر بھی موجود ہے۔

اس عمارت کی بحالی او ر اس کے اندر موجود آثار قدیمہ میں وہ کشش موجود ہے جو سیاحوں کو کشاں کشاں اپنی طرف کھینچتی ہے، جہاں والڈ سٹی کا با اخلاق او رمستعد عملہ سیاحوں کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور ٹور گائیڈ انہیں عمارت کے بارے میں جزیات سے آگاہ کرکے انہیں حیران کرتی ہیں۔ ٹور گائیڈ کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں آنے والوں سیاحوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہورہاہے۔

دہلی گیٹ سے داخل ہوں تو وہاں والڈ سٹی کا مستعد عملہ اور رنگیلے رکشے استقبال کو موجود ہوتے ہیں۔ نانک چندی اینٹوں پر چلتے ہوئے ہر سیاح خود کو دور مغلیہ میں موجود پاتا ہے۔

دہلی گیٹ بازار میں ایک ہی طرز کی دکانیں جہاں حقے تمباکو ، لکڑی ، سٹیل اور سلور کے روایتی برتن اور بچوں ، بڑوں کے ملبوسات،انواع و اقسام آچار،مربے ، لڈو پیٹھیاں ، سموسے، داس کلچہ اور خطائی ، قیمے کی ٹکیاں اور شاہی ٹکڑے غرض کہ کیا کچھ نہیں جو آنے والو ں کو اچھا نہیں لگتا۔

مزید :

کالم -