پیپلز پارٹی نے بچوں پر تشدد کے ملزمان کو پھانسی دینے کے بل کی نہیں سرے عام پھانسی دینے کی مخالفت کی ہے:نثارکھوڑو

پیپلز پارٹی نے بچوں پر تشدد کے ملزمان کو پھانسی دینے کے بل کی نہیں سرے عام ...
پیپلز پارٹی نے بچوں پر تشدد کے ملزمان کو پھانسی دینے کے بل کی نہیں سرے عام پھانسی دینے کی مخالفت کی ہے:نثارکھوڑو

  



بدین (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بچوں پر تشدد کے ملزمان کو پھانسی دینے کے بل کی نہیں سرے عام پھانسی دینے کی مخالفت کی ہے، آئینی طور پر این ایف میں صوبوں کا حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے کٹوتی نہیں کی جا سکتی،وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری کیخلاف ہے، وفاقی حکومت نے عوام کی زندگی اجیرن کردی۔

میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئےنثار کھوڑو نے کہا کہ ابھی تک نئے این ایف سی ایوارڈ کا انتظار کر رہے ہیں،وفاقی حکومت این ایف سی میں کٹوتی کرنا چاہتی ہے ، آئینی طور پر این ایف میں صوبوں کا حصہ بڑھایا تو جا سکتا ہے کٹوتی نہیں کی جا سکتی سندھ این ایف سی میں کٹوتی کو قبول نہیں کرے گی ہم مطالبہ کرتے ہیں کے فوری طور پر نیا این ایف سی ایوارڈ دیا جائے این ایف سی میں سندھ کا جتنا حصہ بنتا ہے وہ سندھ کو پورا حصہ دیا جائے وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری کیخلاف ہے اگر صوبے خوشحال ہونگے تو ملک خوشحال ہوگا ملک ترقی کرے گا مگر یہاں وزیراعظم صوبوں کی خودمختیاری کی وجہ وفاق کو کنگال قرار دے رہا ہے وزیراعظم کی ایسی سوچ نے ثابت کردیا یے وہ صوبائی خودمختاری کیخلاف ہیں وفاقی حکومت نے سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ قائم کر رکھا ہے جس وجہ سے سندھ میں ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے مسائل میں اضافہ کی وجہ بھی وفاق ہے ایف بی آر کی ناکامی کا قصور ہمارا تو نہیں ہے اگر وفاقی حکومت خود ناکام ہو رہی ہے ہے تو پہر صوبے کیوں بھگتے۔حکومت عوام سے کمانا چاھتی ہے ہر چیزمہنگی کرکے وفاقی حکومت نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے عوام کی چیخیں نکالنے کے ویژن پر وفاقی حکومت کام کر رہی ہے وفاقی حکومت لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں یوٹیلیٹی بلز کو پھاڑنے اور جلانے والے عمران خان کو ان بجلی گیس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیوں نہیں نظر آتا ایسا نہ ہو کے عوام تمام یوٹیلیٹی کے بلز بھرنا چھوڑدیں یہ وفاقی حکومت عوام کی ہمدری کے لئے نہیں عوام دشمنی کے لئے لائی گئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے آج تک 250 یوٹرن لئے ہیں، عوام کبھی آٹے تو کبھی چینی کو تلاش کر رہے ہیں، وفاقی حکومت نے آتے ہی ایک ھزار ارب روپے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کردی ،پنجاب میں 5 اور کے پی کے میں3آئی جی تبدیل ہو سکتے ہیں تو سندھ میں آئی جی تبدیل کیوں نہیں ہو سکتا؟۔انہوں نےکہاکہ وفاق کو5 نام بھیجے ہیں تاحال آئی جی سندھ کو تعینات نہ کرنے سے بدنام وفاقی حکومت ہو رہی ہے سندھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو محرومیوں سے نکالنے کے لئے وفاق کے سامنے مضبوط مقدمہ مل کر لڑنے کے لئے ایم کیو ایم کو وفاق سے علیحدگی کے شرط پر سندھ حکومت میں شمولیت کی،پیشکش کی تھی مگر ایم کیو ایم وفاق کی اتحادی رہ کر حمایت جاری رکھنا چاہتی ہے، ایم کیوایم اگر مل کر سندھ کو اپناحق دلانے کے لئے وفاق کے سامنے اواز اٹھائے تو یہ سندھ کے مفاد کے لئے بہتر ہوگا۔

مزید : علاقائی /سندھ /بدین