چڑیاگھر کے با ا ثر مافیا نے ہتھنی سوزی کو کمائی کا ذریعہ بنالیا

چڑیاگھر کے با ا ثر مافیا نے ہتھنی سوزی کو کمائی کا ذریعہ بنالیا

  

لاہور(اسد اقبال) لاہور چڑیا گھر کے با اثر مافیا نے مختصر وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہتھنی (سوزی) کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا اور روزانہ ہزاروں روپے ہڑپ کرنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر کی سربراہی میں یہ مافیا سرکاری خزانے میں رقم جمع کروانے کی بجائے اس آمدن کو اندھے کی ریوڑیوں کی طرح آپس میں بانٹ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ قانون کی بے دریغ خلاف ورزی اور سی سی ٹی وی کیمروں میں فوٹیج کے باوجود محکمہ وائلڈ لائف نے کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے احکامات پر لاہور چڑیا گھر کی ہتھنی کے ذریعے شہریوں سے پیسے پکڑنے پر سخت پابندی عائد کی تھی۔ کیونکہ ہتھنی کو سونڈ کے ذریعے سیر و تفریح کرنے آئے ہوئے شہریوں سے پیسے پکڑتے مشکلات کا سامنا اور سونڈ سے رقم زمین پر گرنے پر اپنے مہاوت سے تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ تاہم پابندی اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے باوجود ایک مرتبہ پھر لاہور چڑیا گھر کی ہتھنی (سوزی) کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے جو شدید گرمی میں دھوپ میں کھڑے ہو کر بھکاریوں کی طرح شہریوں سے پیسے اکٹھے کر کے شام گئے لاہور چڑیا گھر کے کئی ایک ملازمین کا اضافی پیٹ پال رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سوزی کے مہاوت اور چند ایک انتظامی اہلکار کو لاہور چڑیا گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مدثر حسن کی آشیر باد حاصل ہے، ستم بالاستم یہ کہ ڈائریکٹر چڑیا گھر نے بھی کیمرے لگنے کے باوجود چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ بازبان ہتھنی سوزی جو لاہور چڑیا گھر کی پہچان اور بچوں کی من پسند ہے کہ ساتھ نہایت ظلم کیا جا رہا ہے جس کے خلاف محکمہ وائلڈ لائف کو ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کرنی چاہئے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -