خیبر ایجنسی ، رمضان المبارک میں طورخم بارڈرپر آمد و رفت میں واضح کمی

خیبر ایجنسی ، رمضان المبارک میں طورخم بارڈرپر آمد و رفت میں واضح کمی

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)رمضان کے مہینے میں پاک افغان بارڈر طورخم پر عام لوگوں کی آمد ورفت میں واضع کمی آئی ہے ،اپریل اور مئی کے مہینے میں تقریبا ساڑھے چار ہزار لوگ آتے جاتے تھے جبکہ رمضان میں تقریبا ساڑھے سات سو افراد افغانستان اور پاکستان آتے جاتے ہیں ،پولیٹکل انتظامیہ ذرائع پاک افغان بارڈر طورخم پر پاسپورٹ اور ویزہ شرط لاگو ہو نے کے بعدلوگوں کی آمدورفت میں بہت زیادہ کمی واقع ہو گئی تھی لیکن وقت کے ساتھ سات لوگوں نے پاسپورٹ بنانااور ویزہ لگانے کا عمل شروع کرکے آہستہ آہستہ بارڈر پر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا اور اسی اپریل اور مئی کے مہینے میں تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار تک پہنچ گئی تھی لیکن رمضان کے مہینے اور سخت گرمی کی وجہ سے تعداد میں بہت کمی دیکھنے میں آئی اور رمضان کے مہینے میں پاکستان افغانستا ن آنے جانے لوگوں کی تعداد تقریبا ساڑھے سات سو تک رہ گئی ہیں جبکہ کسٹم ذرائع کے مطابق کہ پاکستان میںآٹے اور چینی پر سبسڈی ختم ہونے کے بعد افغانستان کو چینی کی سپلائی بند ہو گئی ہے جبکہ آٹا جنرل ایکسپورٹ اب ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود ایکسپورٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے البتہ امپورٹ تھوڑا کم ہو گیا ہے لیکن اب فروٹ کی سیزن شروع ہو رہا ہے جسکے بعد امپورٹ میں بھی اضافہ ہو جائیگا اس سلسلے میں آل طورخم ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی عظیم اللہ نے بتا یا کہ بارڈر پر دونوں اطراف سخت چیکنگ کی وجہ سے اب بھی افغانستان میں تقریبا تین ہزار کوئلے سے بھرے ٹرالرز کھڑے ہیں اسی طرح چینی اور آٹے کا کوٹہ ختم ہو گیا ہے اس لئے بڑے گاڑیوں میں کمی آگئی ہے انہوں نے کہا کہ اب صرف سیمنٹ کی سپلائی ہو رہی ہیں جبکہ دوسرے مال بہت کم ہو گئے ہیں جبکہ رمضان میں زیادہ تر گاڑی مالکان اور ڈرائیوارز گاڑیاں کھڑے کر دیتے ہیں رمضان کے بعد انشااللہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائیگا

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...