سوچنا تو ہوگا

سوچنا تو ہوگا
 سوچنا تو ہوگا

  

پاک چین اکنامک کوریڈور بلا شبہ ماضی قریب کی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرح سی پیک منصوبے کو بھی مختلف ادوار میں حکومتوں نے اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ اللہ کرے یہ منصوبہ شیڈیول کے مطابق تکمیل کے مراحل طے کر کے خوشحالی کے ایک نئے باب کی نوید جلد از جلد لائے۔ سی پیک کے جنوبی سرے پر موجود گوادر کی بندر گاہ اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور پوری دنیا کی نظروں میں ہے۔ دوست دشمن اپنے اپنے انداز میں اس حوالے سے تعمیری و تخریبی سرگرمیوں میں مصروف رہ کر گوادر کی عالمی اہمیت کو بڑھاوا دے رہے ہیں، مگر پاکستان میں سی پیک کا شمالی نقطۂ آغاز بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔ ضلع دیا میر کی حدود سے خنجراب تک یہ سڑک گلگت، بلتستان سے گذرتی ہے اور اس علاقے کی اپنی سیاسی و سماجی اور تہذیبی اہمیت ہے۔ سی پیک سے قبل اس علاقے کی وجہ شہرت فلک بوس چوٹیاں، سر سبز وادیاں اور تیز و تند دریا تھے، مگر سی پیک نے اس علاقے کی سیاسی و جغرافیائی اہمیت کو بھی بہت نمایاں کیا ہے۔گلگت بلتستان انتظامی طور پر کئی اضلاع میں منقسم ہے اور یہاں کی مجموعی آبادی تقریباً بارہ تیرہ لاکھ ہے، جس میں سنی، شیعہ، اسماعیلی، نور بخشی اور دیگر مسالک کے لوگ شامل ہیں، مگر انتہائی اہم بات یہ ہے کہ یہاں شیعہ، سنی اور اسماعیلیوں کے درمیان رشتے ناطے معمول کی بات ہے، جبکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں یہ روایت اب دم توڑ چکی ہے۔

یہاں ایک ہی خاندان یا قبیلے کے لوگ مختلف مسالک سے وابستہ ہونے کے باوجود متحد ہیں، اگرچہ اس اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم سازش عرصہ دراز سے جاری ہے اور چند برس قبل اس سازش کے کرتا دھرتا وقتی طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے تھے، مگر یہاں کے محب وطن لوگوں نے سیکیورٹی فورسز کی مدد سے فضا کو فرقہ واریت سے مکدر ہونے سے بچا لیا تھا۔ آج کا گلگت، بلتستان ماضی کی طرح پُرامن اور بہت حد تک فرقہ وارانہ تعصب سے پاک ہے۔ امن کی بحالی میں انفرادی و اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہوئی ہیں، وہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اب اس ضمن میں ایک مربوط اور مؤثر حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ جہاں ایک طرف پاکستان کے دشمن سی پیک کی ناکامی کے لئے دن رات کوشاں ہیں وہیں اندرونی طور پر بھی ایسے بہت سے عناصر ہیں جن کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے۔یہ عناصر پاکستان میں سی پیک کی دونوں انتہاؤں شمال اور جنوب میں موجود ہیں اور دونوں کے اپنے تحفظات کے حق میں دلائل میں یکسانیت بھی ہے۔ فی الحال پاکستان آنے والے چینی سامان کے لئے سوست میں ایک ڈرائی پورٹ ہے، مگر جیسے ہی یہ منصوبہ اپنی تمام تر افادیت کے ساتھ مکمل ہوگا، اس راستے پر آنے والے شہر، بالخصوص سوست، علی آباد، کریم آباد، گاہکوچ اور گلگت آبادی میں اضافے کی وجہ سے مختلف مسائل سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ آبادی میں اضافے کا باعث بننے والے لوگ تین طرح کے ہوں گے، پہلے وہ جو گلگت، بلتستان کے اندرونی حصوں سے حصول روز گار کے لئے مرکزی شاہراہوں پر موجود شہروں کا رخ کریں گے، اس طرح آبادی کی شہری اور دیہاتی تقسیم میں تناسب واضح طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ خاص طور پر گلگت شہر اس اضافے کو سب سے زیادہ برداشت کرنے والا شہر بن جائے گا، کیونکہ سی پیک کے مجوزہ راستوں میں سے دو کا ملاپ گلگت کے مقام پر ہی ہوتا ہے۔

پہلا تو ظاہر ہے شاہراہ ریشم کا راستہ ہے، جبکہ دوسرا گلگت سے ضلع غذر کے صدر مقام گاہکوچ ہوتا ہوا درہ شندور پار کر کے مستوج بونی اور چترال سے ہوتا ہوا دیر، تیمر گرہ اور چکدرہ کی طرف سے موٹر وے پر آ ملے گا، اس راستے پر آنے والے شہروں کو بھی بالکل وہی مسائل در پیش ہوں گے، جو سی پیک کے راستے میں آنے والے دیگر شہروں کے سامنے ہیں۔ان علاقوں میں عارضی اور مستقل طور پر آباد ہونے والے لوگوں کا دوسرا گروہ پاکستان کے اندرونی علاقوں سے آنے والوں پر مشتمل ہوگا جو ظاہر ہے اپنی کاروباری مجبوریوں کی سوچ رکھتے ہوں گے۔ اس دوسرے گروہ میں جہاں بہت سے لوگ نزدیکی علاقوں سے ہو سکتے ہیں، خاصی معقول تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہو سکتی ہے جو پنجاب اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے آئیں گے اور جی،بی اور دیر چترال کے رہن سہن اور ادب آداب سے نا واقف ہوں گے۔تیسرا سب سے اہم گروہ ان چینی انجینئرز اور ہنر مندوں کا ہے جو مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر منصوبوں کی غرض سے پاکستان آنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں ہو سکتی ہے، کیونکہ تعمیراتی کام کے لئے مزدور بھی چین سے ہی آئیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لوگوں کے رہن سہن سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔پاکستان کی تاریخ کے اس اہم ترین منصوبے کی تکمیل چین، پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اس کی بروقت تکمیل اور فعالیت کے لئے ارباب اختیار کو تمام جزبات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور ایسے منصوبے اور ضمنی منصوبے بنانا ہوں گے جو نا صرف سی پیک کی کامیابی کی ضمانت ہوں، بلکہ مقامی آبادی کے بھی سماجی و معاشی مسائل کا مداوا کر کے ان کی فعال شمولیت کو یقینی بنائیں اور پیش آمدہ مسائل کا بھی حل ہوں۔

مزید :

کالم -