برہان وانی کا پہلا یوم شہادت، مقبوضہ کشمیر اور ہم

برہان وانی کا پہلا یوم شہادت، مقبوضہ کشمیر اور ہم
 برہان وانی کا پہلا یوم شہادت، مقبوضہ کشمیر اور ہم

  


آج کا موضوع تو حساس ہے اور اسی پر لکھنے کو جی چاہتا ہے کہ دکھوں بھرا ہے، اس سے پہلے کہ دل بھر آئے، پاکستان کی سیاست میں جاری کشتی کا بھی کچھ ذکر ہو جائے کہ اب تو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ڈوئیل کا کھلا چیلنج دے دیا اور عمران خان سے کہا ہے کہ وہ سامنے آکر لڑیں، وہ جے، آئی، ٹی کے پیچھے کیوں چھپ رہے ہیں، عمران خان نے جواب دیا اس کی ضرورت نہیں کہ ان کے دو اور حمائتیوں کا ذکر کرکے اصل موضوع کی طرف چلیں گے، وزیر اعظم نے یہ بھی کہا، ’’تم ہم سے کبھی بھی نہیں جیت سکتے‘‘ مقصد الیکشن ہے، کچھ اور نہیں؟

ہمیں تو اپنے فرزند راولپنڈی محترم شیخ رشید (المعروف شیدا ٹلی+ہمارا نہیں پرانا خطاب ہے) کے اس بیان کا بھی مزہ آیا کہ اس مرتبہ عید (عیدلاضحیٰ) سے قبل سب کچھ ہو ہی جائے گا، وہ اس سے پہلے گزشتہ برس کی عید قربان کا ذکر کرکے کہتے تھے ، عید سے پہلے قربانی ہو جائے گی اور پھر کہا ’’قصائی ہی بھاگ گیا‘‘ یعنی ’’بھیڈو ای نہ لڑے، تے پنوں کی کرے‘‘ اور اب تو ہمارے محترم مرحوم دوست صاحبزادہ فضل کریم کے صاحبزادے حامد رضا بھی اسی روپر چل پڑے اور وہ بھی کہتے ہیں، ’’عید سے پہلے ہی سب کچھ ہو جائے گا‘‘ چلیں! ہم بھی انتظار کرلیتے ہیں۔

آج تو ذکر مقصود ہے اور تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج نے پوری وادی کو مزید جہنم زار بنادیا ہے، حریت کانفرنس کی قیادت کو نظر بند یا گرفتار کرلیا گیا، نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اور ماردھاڑ شروع ہے، پوری مقبوضہ وادی کو جیل کی شکل دے دی گئی اس کے باوجود آزادی کے متوالے کشمیری نوجوان میدان میں ہیں، حریت کانفرنس نے برہان وانی کے پہلے یوم شہادت پر سات روزہ احتجاج کی کال دی ہے تو نوجوانوں نے برہان وانی کے گاؤں تک مارچ کا اعلان کیا انہی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے 8لاکھ سے زیادہ قابض فوج نے تشدد کی انتہا کردی اس کے باوجود وہ احتجاج کو نہیں روک پائے اور نوجوان قربانی کا جذبہ لئے میدان میں رہے، پورا دن آنکھ مچولی جاری رہی، بھارتی فوج نے آنسو گیس، ڈنڈا چارج، پیلٹ گن فائرنگ کے علاوہ سیدھی فائرنگ بھی کی اور بیسیوں کشمیریوں کو شدید زخمی اور قریباً چار افراد کو شہید کردیا، کشمیری عوام کا یہ احتجاج بڑا ہی پر اثر اور پرزور تھا کہ بھارتیوں کے پسینے ہی خشک نہیں ہوپارہے۔

یہاں ہمیں عالمی منظر پر نظر ڈالتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ کشمیریوں پر اتنے بڑے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کسی آنکھ سے ایک آنسو تک نہیں ٹپکا اور نہ ہی کہیں سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر کوئی احتجاج ہوا، بلکہ اگر یہ بات درست ہے کہ برطانیہ میں مقیم کشمیریوں نے برہان وانی کی شہادت کے روز ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن بھارتی وزیر اعظم مودی اور بھارتی حکومت کے ایماء پر برطانوی حکومت نے یہ ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی، یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ جمہوریت کی ’’مادر معظم‘‘ کہلانے والے ملک میں اتنی بڑی وحشت، کشمیریوں پر ظلم اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی چہ جائیکہ یہ ملک اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک بھارت کی مذمت کریں اور اسے کشمیریو ں پر ظلم سے منع کریں۔

یہ بات ہمارے نزدیک افسوس ناک ہی نہیں، تشویش ناک بھی ہے کہ اب برطانیہ میں بھی مظلوموں کی حمائت اور ظلم کے خلاف احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ اسی ملک کی سرزمین پر پاکستان کے باغی بیٹھ کر پاکستان کے اندر تخریب کاری کروارہے ہیں، یوں بھی کشمیر کا یہ تنازعہ اسی برطانیہ کی چھوڑی ہوئی میراث ہے، جو برصغیر کی تقسیم کے ایجنڈے کو ادھورا چھوڑ کر بستر بوریا لپیٹ لے گیا اور یوں آج تک خون بہے جارہا ہے۔

حالات اور واقعات سے ظاہر ہے کہ پوری دنیا میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند نہیں کی جارہی جو بہت ہی تکلیف دہ ہے، اس پر طرہ یہ کہ مودی( مسلمانوں کا مبینہ قاتل) اسرائیل جاکر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی ’’جپھا‘‘ ڈال چکا اور نیتن یا ہونے یقین دلایا کہ وہ نہ صرف بھارت کو اسلحہ دے گا بلکہ کشمیری حریت پسندوں سے نمٹنے کے لئے اس کی فوج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے اراکین کو تربیت بھی دے گایہ برہان وانی کے یوم شہادت ہی کے اثرات ہیں کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر تھمتی ہوئی فائرنگ کو ذرا ٹھنڈا کیا لیکن یوم شہادت قریب آتے ہی پھر سے تیزی پیدا کردی جس پر پاکستان نے بجا طور پر جواب دیا اور احتجاج بھی کیا گیا۔

ان حالات میں نہ صرف حکومت پاکستان، بلکہ اپنے مولانا فضل الرحمن سے پوچھنے کا حق بنتا ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کیا کردار ہے، مولانا سے ہمارے ذاتی مراسم اور بے تکلفی بھی ہے اور وہ ہمارا احترام بھی کرتے ہیں اس کے باوجود دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ یوں بھی مسلم لیگ (ن) حکومت اور وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ان کو ’’OBLIGE‘‘ ( ممنون احسان) ہی کیا ہے، ورنہ ان کی جگہ کسی ایسے شخص کو یہ عہدہ دیا جاسکتا تھا جو زیادہ بہتر طریقے اور حکمت عملی سے کشمیر یوں کے کیس کی وکالت کرسکتا، ایسے بہت اراکین پارلیمنٹ موجود ہیں اس عہدے پر اگر کسی متحرک اور اہل شخصیت کو بٹھا یا جاتا تو وہ اب تک دنیا بھر میں مظلوم کشمیریوں کی آواز بن جاتا اور بھارت کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتا، اب بھی ضرورت ہے کہ کسی اہل اور سمجھدار رکن پارلیمنٹ کی قیادت میں ایک وفد بھیجا جائے جو دنیابھر کے اہم ترین ممالک میں بھارتی ظلم کی تشہیر اور اس کی بربریت اجاگر کرنے کے فرائض انجام دے، اب یہ لازم ہوگیا کہ کشمیری اپنی جدوجہد تیز کئے ہوئے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ دکھ اس امر پر ہوتا ہے کہ ملک کے اندر سیاسی محاذ آرائی زوروں پر ہوگئی اور کوئی بھی سنگین ترہوتی صورت حال پر غور کے لئے اکٹھا نہیں ہوتا، وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس مبارک ’’یقیناًاس میں ساری صورت حال کو غور کرکے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا گیا ہوگا، ہمیں خوشی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر غور اور برہان وانی کے یوم شہادت پر دعا کے لئے ایسے مل بیٹھنے کا اقدام کیا گیا، یوں ایک بار پھر عالمی سطح پر ملک کے وزیر اعظم اور عسکری قیادت نے باہمی اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا۔

مزید : کالم