فروغ تعلیم فنڈ کے نام پر وصول کیے جانیوالے اربوں روپے خوردبرد ہونے کا انکشاف

فروغ تعلیم فنڈ کے نام پر وصول کیے جانیوالے اربوں روپے خوردبرد ہونے کا انکشاف

  

لاہور( لیاقت کھرل) صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں فروغ تعلیم فنڈ (ایف ٹی ایف) کے نام پر ہر سال بچوں سے 2 ارب سے زائد کی رقم جمع کیے جانے کاانکشاف سامنے آیا ہے جس میں لاہور میں قائم سرکاری سکولوں کے سربراہوں کیلئے ایف ٹی ایف فنڈ سب سے زیادہ کمائی کا ذریعہ بتایا گیا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر فیصل آباد ریجن ، تیسرے نمبر پر گوجرانوالہ ریجن اور چوتھے نمبر پر ملتان ریجن میں ایسے بوائز گرلز سکولز ہیں جہاں فروغ تعلیم فنڈ ( ایف ٹی ایف) کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے خورد برد کیے جاتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں واقع سرکاری سکولوں میں بھی اس فنڈز کے خورد برد کی شکایات زیادہ پائی گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فروغ تعلیم فنڈز کی مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ سکولوں میں ریکارڈ مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ بینک اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا جاتا ہے جبکہ ای ڈی او لاہور پروفیسر اختر خان کا کہنا ہے کہ فنڈز زیادہ جمع ہونے اور ریکارڈ میں کم ظاہر کرنے کے بارے شکایت نہیں ملی ۔ اگر ایسی شکایت سامنے آتی ہے تو کارروائی کی جائے گی۔محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایسے بوائز و گرلز ہائی سکولز جہاں بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے وہاں صرف چند سو بچوں سے ایف ٹی ایف فنڈ کے جمع ہونے کے بارے ریکارڈ میں ظاہر کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ ریکارڈ میں ظاہر کیے جانے والے کروڑوں روپے کے فنڈز کا بھی محکمہ تعلیم کے قانون 1981ء کے رولز کے مطابق استعمال میں اختیارات سے تجاوز کیا جاتا ہے۔ اس میں چونکہ سکولوں میں بنائی گئی سکولز کونسلز کے سربراہ (چیئرمین) ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس ہوتی ہیں اور خودساختہ طریقہ سے فنڈز کا کاغذوں اور فائلوں میں استعمال ہونا ظاہر کر کے خورد برد کرنے کے طریقہ کو اپنایا جاتا ہے۔ اس میں لاہور میں قائم سرکاری گرلز و بوائز سکولوں میں سب سے زیادہ لوٹ مار کے بارے انکشافات سامنے آئے ہیں جس میں لاہور میں قائم 1265 سرکاری سکولوں میں 6 لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں اور ان بچوں ( طلباء و طالبات ) سے ہر ماہ 20 روپے فروغ تعلیم فنڈ ( ایف ٹی ایف) کے نام سے وصول کیا جاتا ہے، جس میں لاہور کے 350 سے زائد ایسے سکولز ہیں جہاں ہر سکول میں چار ہزار سے پانچ ہزار کے قریب اور اس سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے جس میں سنٹرل ماڈل سکول لوئر مال میں چار ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سمن آباد میں پونے پانچ ہزارطالبات زیرتعلیم ہیں ۔ اسی طرح گورنمنٹ گرلز ہائی سکول غازی آباد میں پونچ پانچ ہزار کے قریب طالبات زیرتعلیم ہیں جبکہ گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول وحدت روڈ میں 3500 سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں جبکہ کاہنہ ہائی سکول میں تین ہزار ، گورنمنٹ ہائی سکول گرلز و بوائز ماڈل ٹاؤن کے دونوں سکولوں میں 5000 کے قریب ، اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول گرلز و ہائی سکول گرین ٹاؤن اور ٹاؤن شپ سمیت باغبانپورہ کے علاقہ میں واقع گرلز و بوائز سکولوں میں بھی تین تین ہزار کے قریب اور اس سے زائد بچوں کی تعداد بتائی گئی ہے اور لاہور سمیت پنجاب بھر کے 53 ہزار سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں سے ایف ٹی ایف فنڈز سے جہاں سکولوں کی چاردیواری کی مرمت، بجلی ، پانی و گیس کے بلوں کی ادائیگی کا کاغذوں اور فائلوں میں ذکر کیا جاتا ہے وہاں لاہور سمیت پنجاب بھر میں 15 ہزار سے 18 ہزار ایسے سرکاری سکولز ہیں جہاں ایف ٹی ایف فنڈز تو بچوں سے جمع کیا جاتا ہے لیکن ان سکولوں کی نہ تو چاردیواری ہے اور اگر چاردیواری ہے تو کئی سالوں سے خستہ حال اور ان میں سے اکثر سکولوں میں بجلی ،پانی اور گیس کی سہولت تک نہ ہے اور ہائی سکولوں میں جہاں سائنس لیبارٹریوں کی مرمت یا سائنس لیبارٹری کا سامان خریدنے کا کاغذوں میں ذکر کیا جاتا ہے وہاں ہائی سکولوں میں کئی سالوں سے سائنس لیبارٹریاں فنکشنل تک نہ ہیں۔جن سکولوں کی چار دیواری انتہائی خستہ حال ہو چکی یا پھر کمزور ہونے پرگر چکی ہیں وہاں ان سکولوں کی چار دیواری نہ ہونے پر صحن اور گراؤنڈز پر قبضہ گروپ نے بھینسیں ، چارہ ، توڑی اور دیگر سامان رکھ کر اپنے قبضہ جما رکھے ہیں اور ان سکولوں کے سربراہوں نے مبینہ طور پر چشم پوشی سے کام لے رکھا ہے یا پھر خود قبضے کروانے میں ان کا برابر کا کردار ہے۔ اس میں سکولوں کے سربراہوں کے خلاف ڈی ای اوز اور ای ڈی اوز نے کارروائی کرنے کی کوشش کی تو ان کی ماہانہ کی بنیاد پر ’’ منتھلی‘‘ طے کر کے خاموشی کروا دی جاتی ہے جس کے بحث فروغ تعلیم فنڈز سکولوں کے سربراہوں اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسروں کے لئے ایک بہت بڑی کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -