ہسپتالوں کی ایمبولینس سروس کا انتظام ریسکیو 1122 کے حوالے، اب کام کرنا ہوگا: شہباز شریف

ہسپتالوں کی ایمبولینس سروس کا انتظام ریسکیو 1122 کے حوالے، اب کام کرنا ہوگا: ...

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا،3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صوبے کے عوام کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے اصلاحاتی پروگرام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبے کے 9 ڈویژنوں میں موٹربائیکس ایمبولینس سروس شروع کرنے،وزیراعظم قومی ہیلتھ انشورنس پروگرام کا دائرہ کار پنجاب کے تمام اضلاع تک بڑھانے اور اضافی ڈیوٹی کرنے والے ریسکیو1122 کے عملے کو اضافی الاؤنس دینے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولتوں کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ہیلتھ کیئر سسٹم کو خوب سے خوب تر بنانے کیلئے اہداف مقرر کرکے ان کے حصول کو ہر صورت یقینی بنانا ہوگا۔صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کیلئے پہلے بھی وسائل فراہم کئے ہیں، آئندہ بھی دیں گے۔دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اب باتیں نہیں صرف کام ، کام اور کام کرکے دکھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہپنجاب حکومت نے ہسپتالوں کی ایمبولینس سروس کا انتظام محکمہ صحت سے لے کر ریسکیو 1122 کے حوالے کر دیا ہے اورپنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں پہلی بار ایمبولینس سروس کو مربوط نظام کے تحت چلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایمبولینس سروس کے نئے نظام سے مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے حوالے سے بے پناہ بہتری آئے گی۔پنجاب میں ہسپتالوں میں ایمبولینس سروس کا نظام اب ریسکیو 1122 چلائے گا۔وزیراعلیٰ نے موٹربائیکس ایمبولینس سروس کا دائرہ کار صوبے کے 9ڈویژنوں تک بڑھانے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ سروس بیک وقت9 ڈویژنوں میں شروع کیا جائے گی اور اس سروس سے تنگ گلیوں اور محلوں میں مریضوں تک رسائی ممکن ہوگی ،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈمیڈیکل ایجوکیشن نے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈی جی ریسکیو 1122 نے ایمبولینس سروس کے نئے نظام اور موٹربائیکس ایمبولینس سروس پرہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، عائشہ غوث پاشا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، طبی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور توانائی بحران کے خاتمے کیلئے اجتماعی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔ سیاسی و عسکری قیادت تین برس قبل دہشت گردی و انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے ایک صفحہ پر آئی اور اجتماعی اقدامات سے اس ناسور کو بہت حد تک نکیل ڈال دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار مقامی ہوٹل میں ینگ پریذیڈنس آرگنائزیشن (YPO) کے زیراہتمام ’’کلرز آف انڈس 2017‘‘ (Colours Of Indus 2017) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء ملک ندیم کامران، عائشہ غوث پاشا، شیخ علاؤالدین، بزنس ٹائیکون، سرمایہ کاروں اور غیرملکی مندوبین نے تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج اور سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابی حاصل کی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کی منصوبہ بندی 80 اور 90 کی دہائی میں شروع ہو چکی تھی اور اس منصوبے پر کام کا آغاز 2002 میں ہوا اور 15 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ آج تک نامکمل ہے۔ شہبازشریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ترکی کے ٹرانسپورٹ اورٹریفک مینجمنٹ کے ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترکی اورپنجاب حکومت میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موثر ٹریفک مینجمنٹ اورٹریفک ری انجینئرنگ کے ذریعے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے ترکی کے تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ترکی اورپنجاب حکومت کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے دریچے کھل رہے ہیں ۔صوبائی وزیر جہانگیر خانزادہ،مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماء خواجہ احمد حسان،ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری ٹرانسپورٹ،کمشنر لاہورڈویژن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے آذر بائیجان کے سفیر علی علیزادہ نے ملاقات کی ،جس میں باہمی دلچسپی کے امور،دوطرفہ تعلقات کے فروغ اورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات موجود ہیں ۔

مزید : ملتان صفحہ اول