وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کی تربیت کی ضرورت ہے

وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کی تربیت کی ضرورت ہے
وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کی تربیت کی ضرورت ہے

  

وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ترکی کے موقع پر ترکی کے صدر کے ساتھ پاکستانی وفد کے اراکین کی ملاقات کی ایک فوٹو سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر ایک تو وہ فلاسفر یاد آگئے ، جس کا ذکر مرحوم الطاف گوہر نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا ، فلاسفر نے کہا تھا کہ جب قوموں کا زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے سیاست دان، دانشور، ادیب اور صحافی خرافات پر بحث کرتے ہیں۔ محفلوں میں یہ لوگ کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے بلکہ ایسے موضوعات ان کی گفتگو کا مرکز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا ہے۔

ذاتی ملاقاتوں کے علاوہ ہمارے چینلوں پر ہونے والی عامیانہ گفتگو دیکھ کر سرسری اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ چینلوں پر جو بھی گفتگو کی جاتی ہے، کیا اسے معلوماتی اور دانشوارانہ گفتگو قرار دیا جاسکتا ہے۔ دوسرا واقعہ دلچسپ ہے۔ وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اپنے امریکہ کے پہلے دورے پر جارہے تھے ۔ اپنے دورے سے قبل انہوں نے اپنے وفد میں شامل خصوصا وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو ایک روز کھانے پر ایوان وزیر اعظم مدعو کیا ۔ انہیں کھانے پر بٹھایا گیا ۔ بھٹو مہمانوں کے کھانے پینے کے آداب اور طور طریقوں کا خود جائز لے رہے تھے ۔

دعوت کے اختتام پر انہوں نے مہمانوں سے کہا کہ آپ لوگ امریکہ جارہے ہیں جہاں آپ سرکاری ضیافتوں میں بھی مدعو ہوں گے ۔ بہتر ہوگا کہ آپ لوگ چھری، کانٹے اور چمچے سے کھانا کھانے کے آداب سیکھ لیں۔

اس کی پہلی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ آپ کے چمچے اور کانٹے کے استعمال کی آواز آپ کے برابر میں بیٹھے ہوئے فرد کو نہ جائے۔ دوم اپنے لباس کے انتخاب میں محتاط رہیں۔ بھٹو نے ایک مرتبہ انہیں کسی دورے سے واپسی کے موقع پر ہوائی اڈے پر خوش آمدید کہنے کے لئے آنے والوں میں سے بعض کو اس بات پر بھی برملا ٹوک دیا تھا کہ پتلون پر کو نسا جوتا پہننا چاہئے ۔

اس کالم میں ان دو واقعات کا ذکر کرنا اس لئے ذہن میں آیا کہ وزیراعظم کے ساتھ جو لوگ بھی دورے پر ترکی گئے تھے ، ان میں وزراء بھی شامل تھے ، وہ لوگ ترکی کے وفد کے سامنے جس انداز میں بیٹھے ہوئے تھے ، ان میں سے تو بعض کے بارے میں محسوس ہوا کہ انہیں تو محفل اور وہ بھی کسی ملک یا حکومت کے سربراہ سے ملاقات میں بیٹھنا بھی نہیں آتا ہے۔

بعض لوگ پاؤں پر پاؤں رکھے ہوئے تھے ۔ ایک صاحب تو اپنے موبائل فون سے کھیل رہے تھے ۔ ایک صاحب کچھ پڑھنے میں مشغول تھے ، ایک صاحب پاؤں پر پاؤں رکھے اونگھ رہے تھے ۔ پورا وفد بے ترتیب بیٹھا ہوا تھا ۔ اسی کے برعکس ترکی کے وفد میں شامل لوگ ایسی قطار میں سیدھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاؤں اور جوتے ترتیب کے ساتھ تھے ۔

پاکستانی وفد کے لوگ جس انداز میں بیٹھے ہوئے تھے ، اایسا لگتا تھا کہ کسی نجی یا ذاتی محفل میں بیٹھے ہوئے ہوں۔ بعض لوگ تو ذاتی یا نجی محفلوں میں بھی اتنا سرسری رویہ اختیار نہیں کرتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام لوگ اپنے مہمانوں کے ہمہ تن گوش ہوتے تاکہ یہ محسوس ہوتا کہ پاکستانی وفد کے اراکین کچھ سننے کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ مذاق تھا کہ وزیر اعظم عمران خان پشاوری چپلیں پہنے ہوئے تھے ۔

کیا وزیراعظم کو علم نہیں کہ کس ملاقات میں یا کس ضیافت میں کیا لباس پہننا چاہئے اور کس طرح کاجوتا استعمال کرنے چاہئے،حالانکہ وزیراعظم تو ایچی سن کالج کے تعلیم یافتہ ہیں جہاں طلباء کی لباس، گفتگو، اور اٹھنے بیٹھنے کے معاملے پر بھی باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے۔

حکیم محمد سعید شہید جب تعلیم گاہ مدینہ التحکمت کی بنیا رکھ رہے تھے تو انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ تعلیم گاہ میں تعلیم کے علاوہ بچوں کی تربیت بھی کی جائے گی۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ بچے کو یہ بتانا لازم ہے کہ استا د یا اپنے سے بڑے کے سامنے سے گزرنے کی بجائے ان کے پیچھے سے گزرا جائے۔ اس تماش گاہ میں تو نام نہاد اشرافیہ کے طبقے میں شامل نو دولتیئے خاندانوں کے افراد تو بس یہ ہی سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ ہی سب کچھ ہے اور جو کچھ وہ بول رہے ہیں، وہ ہی قانون امروز ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں سے اساتذہ کسی قسم کا انٹر ایکشن نہیں کرتے ہیں ، انہیں یہ تک نہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے جوتے صاف ہیں یا نہیں ، انہوں نے جو قمیض پہنی ہوئی ہے، اس کے کالر اور کف پر میل نظر کیوں آرہا ہے۔

اساتذہ کیوں کر رہنمائی کر سکتے ہوں گے جو خود اپنی ڈیوٹی پر آنے سے قبل اپنی حالت کا جائزہ نہیں لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ بستر سے اٹھ کر اسکول آگئے ہیں۔ حکومت کو اپنے وزیروں اور منتخب اراکین کی خصوصی تربیت کے علاوہ تعلیمی اداروں میں طلباء اور طالبات کے لئے بھی تربیتی نششتوں کا باقاعدگی کے ساتھ انتظام کرنا چاہئے ۔

مزید : رائے /کالم